تعلیمی نظام کے سقم دور کیے جائیں

ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے روبرو کھڑا کرنے میں بہتر اور معیاری تعلیمی نظام مہمیز کا کردار ادا کر سکتا ہے


Editorial August 08, 2015
طلبا ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، اور ان طالب علموں کا مستقبل محفوظ کرنا ارباب اختیار کی ذمے داری ہے۔ فوٹو: رائٹرز

CHICAGO: ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے روبرو کھڑا کرنے میں بہتر اور معیاری تعلیمی نظام مہمیز کا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت تو رکھتا ہے لیکن اس کے کرتا دھرتا ترقی کی بنیادی کلید ''تعلیم'' کے میدان میں پھیلے اسقام کو دور کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ یہاں ''پڑھا لکھا پاکستان'' اور ''تعلیم سب کے لیے'' کے نعرے تو بلند کیے جاتے ہیں لیکن عملی اقدامات خال خال ہی ہوتے ہیں۔

تعلیمی بجٹ کے کم ہونے کا رونا تو ایک طرف، یکساں تعلیمی نظام کا فقدان اور طبقاتی فرق کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے نظام میں موجود سقم بھی ارباب اختیار کے دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سال برائے 2015-16ء ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے لیے داخلہ پالیسی کی منظوری دینا بھول گئی، جس سے امسال داخلوں میں تاخیر کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ اگست کے اختتام سے صوبے بھر کے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا عمل شروع ہوتا ہے، صوبے کے میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا عمل انٹر بورڈ کے نتائج سے قبل شروع کیا جاتا ہے کیونکہ 30 اگست سے قبل کراچی سمیت صوبے کے تمام انٹر بورڈ کے پری میڈیکل امتحانات کے نتائج جاری کر دیے جاتے ہیں، ان نتائج کی بنیاد پر صوبے کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ پالیسی مرتب کرنا محکمہ صحت کی ذمے داری ہوتی ہے۔

تاخیر کا یہ رویہ کسی طور صحتمندانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دو ماہ کی طویل تر چھٹیوں کے بعد بھی اسکولوں کو کھولنے یا بند رکھنے کا متنازعہ فیصلہ بھی شہریوں میں اضطراب کا باعث بنا، جب کہ یہ اطلاع کہ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی ''اَن فیئر مینز کمیٹی'' نے ''ویجیلنس کمیٹی'' سے اختلاف کرتے ہوئے میٹرک کے امتحان میں نقل کے الزام میں پرچے دینے سے روکے گئے 50 فیصد سے زائد طلبا کو نقل کے الزام سے بری کر دیا، بورڈ کی ویجیلنس کمیٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ زبردستی کارکردگی دکھانے والی ویجیلنس کمیٹیوں کے اس عمل سے ان طلبا کے نقل کے الزام سے بری ہونے کے باوجود امتحان میں کامیابی کے امکان معدوم ہو گئے ہیں۔

طلبا کا قیمتی سال ضایع ہونے کا جرم کس کے سر منڈھا جائے گا؟ دوسری جانب پرائیوٹ اسکولز انتظامیہ کا رویہ بھی قابل مذمت ہے جن کی غفلت کے سبب 800 طلبا کے فزکس کے پریکٹیکل کے پرچے بروقت جمع نہیں ہو سکے تھے۔

بے شک چیئرمین میٹرک بورڈ پروفیسر انوار احمد زئی نے غفلت کے مرتکب اسکولوں کا الحاق فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے مگر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر پالیسی مرتب کرنے کی از حد ضرورت ہے۔ طلبا ہمارے ملک کا مستقبل ہیں، اور ان طالب علموں کا مستقبل محفوظ کرنا ارباب اختیار کی ذمے داری ہے۔ مناسب ہو گا کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرتے ہوئے معیار تعلیم بہتر بنایا جائے۔