رومنی سے دوسرے مباحثے میں صدر اوباما کا جارحانہ انداز

معیشت اور خارجہ پالیسی پر بحث،رومنی بھی پیچھے نہ رہے،22 اکتوبر کو پھر مدمقابل ہونگے


News Agencies October 18, 2012
نیویارک:ہوفسٹرا یونیورسٹی میں ہونیوالے مباحثے میں صدر اوباما اور ان کے حریف مٹ رومنی ایک دوسرے کیخلاف جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

امریکی صدر باراک اوباما اور ریپبلکن جماعت کے حریف مٹ رومنی نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مباحثے میں ٹیکس، معیشت اور خارجہ پالیسی پر بحث کی۔

نیو یارک میں ہونے والے مباحثے میں اوباما نے جارحانہ انداز اپنایا۔ ان کے حریف مٹ رومنی بھی جارحاہ رہے اور اوباما پر جھوٹے وعدے کرنے اور ناقص کارکردگی کے الزامات عائد کیے۔ یہ دونوں صدارتی امیدوار بائیس اکتوبر کو تیسرے اور آخری مباحثے میں مدِمقابل ہوں گے جو فلوریڈا میں ہوگا۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے توانائی پالیس پر ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مباحثے میں دونوں امیدواروں نے متوسط طبقے کو جیتنے کی کوشش کی۔

صدر اوباما نے کہا کہ چار سال میں انہوں نے متوسط طبقے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے ٹیکسوں میں کمی کی ہے۔عراق سے فوج واپس بلائی، معیشت کی صورتحال بہتر بنائی، لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتکار سمیت چار امریکیوں کے قتل کے حوالے سے رومنی نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود اوباما نے اگلے ہی دن لاس ویگس میں انتخابی مہم کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے ایک پارٹی رکھی۔ امریکی معیشت خطرے میں پڑگئی۔ امریکہ میں 21دن بعد صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایک نئے سروے میں کہا گیا کہ ان دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔