بلدیاتی انتخابات سے مسلسل گریز کیوں

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی حکومتیں بلدیاتی نظام کی راہ میں کیوں حائل ہورہی ہیں


Editorial August 13, 2015
ملک کے سب سے پسماندہ اور مسائل میں گھرے دو صوبے بلدیاتی انتخابات مکمل کراچکے ہیں، مناسب ہوگا کہ دونوں بڑے صوبے بھی اپنی ذمے داری کا احساس کریں۔ فوٹو: فائل

سندھ و پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ ایک چیستان بن گیا ہے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی حکومتیں بلدیاتی نظام کی راہ میں کیوں حائل ہورہی ہیں اور متواتر بلدیاتی انتخابات سے گریز کی راہ کیوں اپنائی جارہی ہے؟ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور بلدیاتی نظام کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں، نیز مفر کی صورت میں مقامی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں، ایسے میں سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب و سندھ حکومت کی بلدیاتی انتخابات سے عدم دلچسپی پر برہمی متوقع ردعمل ہے کیونکہ سپریم کورٹ بارہا بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو پیش ہونے کی ہدایت کی جب کہ الیکشن کمیشن سے سندھ و پنجاب میں مزید ایک ماہ کی مہلت دینے سے متعلق درخواست پر تجاویز طلب کرلی ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سندھ اور پنجاب حکومت کے نمایندوں کو الیکشن کمیشن کے ساتھ بیٹھ کر ایک ماہ کی مہلت کے اسباب اور الیکشن کے انعقاد سے متعلق تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ نیز پنجاب و سندھ میں بلدیاتی الیکشن ستمبر کے بجائے اکتوبر میں دو مراحل میں کرانے سے متعلق بھی الیکشن کمیشن کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے گریز میں لایعنی قسم کی تاویلات پیش کی جارہی ہیں، حد بندیوں میں مشکلات، سیلاب کی صورتحال کے باعث نقل مکانی اور آنے والے محرم کی سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر مہلت کی استدعا کو راست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ محرم کے بعد کسی اور ایشو کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے، بلدیاتی الیکشن ایک دو سال پہلے کیوں نہیں ہوئے؟ انھوں نے ریمارکس دیے کہ برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم میں بھی حکومتیں قائم ہوئیں اور انتخابات ہوئے تو ہمارے ملک میں بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں ہوسکتے۔ بے شک پنجاب سے سندھ تک ایک پوری پٹی میں سیلاب آیا ہوا ہے لیکن یہ صورتحال غیر متوقع تو نہیں تھی، اگر پہلے ہی انتخابات کرا دیے جاتے تو یہ مسائل بھی جنم نہ لیتے۔

جسٹس جواد خواجہ کا یہ کہنا صائب ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ امن و امان کے مسائل ہیں لیکن وہاں کی حکومتوں نے تو الیکشن کرادیے جب کہ سندھ اور پنجاب کے عوام 2009ء سے محروم ہیں، اگر صوبے الیکشن نہیں کراسکتے تو عوام کو بتادیا جائے۔ بلدیاتی انتخابات سے گریز کے پیچھے وہ آمرانہ سوچ کارفرما ہے جو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو اپنے حق میں برا گردانتی ہے، جب کہ بلدیاتی نظام عوامی امنگوں کا مظہر ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اپنے علاقے میں پانی کی کمی اور گٹروں کی صفائی کے لیے عوام وزیراعلیٰ کی سطح پر تو شکایات کرنے سے رہے، یہ مسائل اس علاقے کے نمایندوں کو ہی نمٹانے ہوتے ہیں جو بلدیاتی نظام کے انعقاد کے بغیر ممکن نہیں۔ ملک کے سب سے پسماندہ اور مسائل میں گھرے دو صوبے بلدیاتی انتخابات مکمل کراچکے ہیں، مناسب ہوگا کہ دونوں بڑے صوبے بھی اپنی ذمے داری کا احساس کریں اور جلد از جلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مکمل کیا جائے۔