اس تاثر کو ختم کرنا ضروری ہے
پاکستان خصوصاً کراچی پچھلے ایک عشرے سے جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے
پاکستان خصوصاً کراچی پچھلے ایک عشرے سے جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے، ان سے نجات کے لیے ہر پاکستانی شہری دست بہ دعا تھا۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ اس عشرے میں اقتدار منتخب نمایندوں کے ہاتھوں میں تھا ،کیا ہماری منتخب حکومتوں نے ملک میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت جرائم کی بھرمار کی روک تھام کے لیے کوئی منصوبہ بند سنجیدہ کوششیں کیں؟ اس کا جواب اس لیے نفی میں آتا ہے کہ یہ پورا عشرہ ایک عذاب بن کر عوام کے سروں پر مسلط رہا۔
دہشت گردی اس عرصے میں سب سے بڑا گڑھ شمالی وزیرستان رہا اس گڑھ سے دہشت گردوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا تھا یوں سارا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا ۔ اس دہشت گردی کے نقصانات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اس عرصے میں پچاس ہزار سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہید کردیے گئے جن میں سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار بھی شامل ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں چوکیوں پر پہرہ دینے والے فوجی جوانوں پر حملے کرکے جگہ جگہ انھیں شہید کیا گیا۔ سڑکوں کے کنارے بم نصب کرکے اور فوجی قافلوں پر حملے کرکے فوج کا مورال ڈاؤن کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔
اس گمبھیر صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری فوجی قیادت نے ''ضرب عضب'' کے نام سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغازکیا، بلاشبہ اس آپریشن میں ہمارے فوجی جوانوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا لیکن یہ منصوبہ بند آپریشن بتدریج کامیابی کی طرف بڑھنے لگا اب صورتحال یہ ہے کہ شمالی وزیرستان سے دہشت گرد بھاگ کر افغانستان چلے گئے ہیں لیکن اب بھی ان کی کارروائیاں جاری ہیں خاص طور پر پختونخوا کا صوبہ اب بھی ان ناگہانی آفتوں کا شکار ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور شمالی وزیرستان سے بھاگے ہوئے دہشت گرد افغانستان میں فعال ہیں، آج کی تازہ خبر کے مطابق کابل میں کیے جانے والے دو خودکش حملوں میں 25 اہلکاروں سمیت 40 افراد ہلاک اور 400 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب افغانستان ان کا ہدف بن گیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کے بعد آپریشن کو ہینڈل کرنے والے دماغوں نے اس کا دائرہ ملک کے مختلف شہروں تک بڑھا دیا ہے، خاص طور پر کراچی میں ضمنی ضرب عضب شدت سے جاری ہے ہر روز رینجرز درجنوں کے حساب سے چھاپے مار کر مختلف النوع مجرموں کو پکڑ رہی ہے اور ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ وغیرہ برآمد کر رہی ہے کچھ عرصے پہلے تک کراچی دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان سمیت کئی سنگین جرائم میں اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ کراچی کے شہریوں کی زندگی عذاب بن گئی تھی لیکن ان جرائم کے خلاف ضرب عضب نے جس شدت سے کارروائی کی اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب کراچی بڑی حد تک ان عذابوں سے چھٹکارا پا چکا ہے اور کراچی کے شہری اب اطمینان کا سانس لے رہے ہیں۔
کراچی میں ہونے والی خونریزی اور جرائم کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے ایک مذہبی انتہا پسندی جو دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں کراچی پر مسلط رہی ہے دوسرے بھتہ خوری، بینک ڈکیتیاں، اغوا برائے تاوان کی شکل میں کراچی کا مقدر بنی ہوئی تھی۔ دہشت گرد تنظیمیں بھتہ، بینک ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان کے ذریعے بھاری سرمایہ جمع کرکے اسے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو پھیلانے اور مستحکم کرنے میں استعمال کر رہی تھیں اور شاید اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس آپریشن میں پچھلے ماہ سے جو شدت آئی ہے بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کا رخ متحدہ کی طرف ہوگیا ہے خاص طور پر نائن زیرو (90) پر چھاپے اور متحدہ کی قیادت کی گرفتاریوں اور رابطہ کمیٹی کے ارکان کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آر درج کرانے کا ایک ایسا سلسلہ چل پڑا جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اس آپریشن کا بڑا ہدف متحدہ ہے۔ ماضی قریب تک یہ کہا اور دیکھا جاتا رہا ہے کہ ہماری کئی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنے عسکری ونگز بنا رکھے ہیں جن کے ذریعے کراچی کے حالات خراب کیے جاتے ہیں اور جماعتی مفادات کے لیے ان عسکری ونگز کو استعمال کیا جاتا ہے۔
متحدہ کو بھی ان جماعتوں میں شامل کیا گیا جن کے عسکری ونگ ہیں ہوسکتا ہے یہ بات درست ہو لیکن متحدہ کی قیادت اسمبلیوں کے اندر اور باہر یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ جب کئی جماعتوں کے عسکری ونگز ہیں تو پھر صرف متحدہ ہی کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے متحدہ نے اسمبلیوں کے اندر اور باہر احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور کرپشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ سمیت کئی حکومتی اکابرین رینجرز پر الزام لگا رہے ہیں کہ رینجرز اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر رہی ہے پچھلے دنوں آپریشن کے حوالے سے رینجرز کی کارروائیوں کی ختم ہونے والی مدت میں توسیع بھی ایک مسئلہ بن گئی تھی لیکن یہ مسئلہ بخیر و خوبی حل کرلیا گیا، لیکن کراچی آپریشن کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں جو سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ''کیا سندھ کے علاوہ ملک کے دوسرے صوبوں میں جرائم پیشہ لوگ موجود نہیں۔ کیا دوسرے صوبوں میں سب فرشتے رہتے ہیں؟ اگر دوسرے صوبوں میں بھی جرائم پیشہ لوگ دہشت گرد ٹارگٹ کلر وغیرہ موجود ہیں تو ان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟
ہر قسم کے جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ ہماری آج کی شدید ضرورت بھی ہے اور قومی مفادات کا تقاضا بھی ہے ۔ کراچی اب کسی ایک کمیونٹی کا شہر نہیں رہا بلکہ یہ شہر ایک ایسا میگا سٹی بن گیا ہے جہاں ملک کے دوسرے صوبوں سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ملکوں کے باشندے لاکھوں کی تعداد میں رہتے ہیں اور ہر کمیونٹی میں جرائم پیشہ افراد موجود بھی ہیں اور فعال بھی ہیں۔ ان سارے جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ ہونا چاہیے تب ہی کراچی روشنیوں کا شہر بن سکتا ہے اس بڑے کام میں اگر جانبداری کا شک بھی پیدا ہوتا ہے تو اس کی افادیت خطرے میں پڑ جاتی ہے لہٰذا اس تاثر کو ہر حال میں دور کیا جانا چاہیے کہ یہ آپریشن ٹارگٹڈ ہے۔