امریکا کیوبا سفارتی تعلقات بحال

امریکا نے اب بالآخر کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنے وزیر خارجہ کیری کو بھجوا دیا


Editorial August 16, 2015
امریکا نے اب بالآخر کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنے وزیر خارجہ کیری کو بھجوا دیا۔ فوٹو: فائل

امریکا اور بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے سنگم پر واقع چھوٹے سے جزیرے کیوبا میں آخر کیا مقابلہ، مگر قابل تعریف ہیں کیوبا کے حکمرانوں کی کہ امریکا کی ہر زیادتی کو بلا احتجاج برداشت کیا اور امریکا نے اب بالآخر کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنے وزیر خارجہ کیری کو بھجوا دیا۔ جان کیری نے امریکا کے سفارتخانے کی چھت پر ستاروں اور نیلی پٹیوں والا اپنا قومی پرچم لہرا کر ستر برس کے مقاطعے کو کالعدم قرار دے دیا۔ کیوبا سات دہائیوں تک مسلسل امریکی پابندیوں کا شکار رہا ہے مگر اس نے اتنے بڑے اور اتنے طاقتور امریکا کے سامنے سر نگوں ہونے سے انکا ر کر دیا۔ ایک مرتبہ کیوبا کے بابائے قوم فیڈل کاسترو نے امریکا کی دولت مندی اور ٹیکنالوجی کی برتری پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے پاس اپنے طبی شعبے کے لیے بھی وافر فنڈز نہیں ہیں جب کہ ہمارے پاس ڈاکٹروں کی ایک بھاری پلٹن موجود ہے جو امریکی مریضوں کا مفت علاج کرنے پیشکش کرتی ہے۔

کیوبن دارالحکومت ہوانا سے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری یہاں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کی بحالی کی تقریب میں بھی کیوبا پر یہ زور ڈالنا نہیں بھولے کہ اسے اپنے ملک میں سیاسی تبدیلی لانی چاہیے اور کیوبن عوام کو اپنے قائدین کے انتخاب کا حق دیا جائے۔ گزشتہ ستر سال میں کیوبا کا دورہ کرنے والے وہ پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیں۔ مسٹر کیری نے اس تقریب کی صدارت کی جو امریکی سفارتخانے کے دوبارہ کھلنے کے بعد امریکی پرچم لہرانے کے لیے منعقد کی گئی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال امریکی صدر بارک اوباما نے ہوانا پہنچ کر صدر راؤل کاسترو کے ساتھ مل کر اعلان کیا تھا کہ دونوں ملک تعلقات بحال کر لیں گے۔ واضح رہے کیوبن صدر راول کاسترو کیوبا کے بابائے قوم اور پہلے صدر فیڈل کاسترو کے چھوٹے بھائی ہیں۔ جان کیری نے اس موقع پر یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ واشنگٹن جمہوریت پر زور دیتا رہے گا۔ اس دعوے کے ساتھ کہ جمہوریت میں کیوبا کے عوام کی زیادہ بہتر خدمت ہو سکے گی۔

یہاں یہ امر بطور خاص قابل ذکر ہے کہ کیوبا میں ایک پارٹی (کمیونسٹ پارٹی) کی حکومت ہے اور وہی اکلوتی قانونی پارٹی ہے۔ جان کیری نے کہا کہ کیوبا کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق انسانی حقوق کو اہمیت دینی چاہیے جس پر دنیا بھر کے ممالک کو عملدرآمد کرنے میں بین الاقوامی پابندی ہے۔ جان کیری کی تقریر کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا جسے کیوبن ٹی وی پر چلایا گیا۔ سرد جنگ کے دور میں کیوبا کے ساتھ امریکا کے تعلقات اس قدر زیادہ کشیدہ ہو گئے تھے کہ ایک وقت میں دنیا پر ایٹمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا جب سوویت روس نے جوابی طور پر کیوبا میں ایٹمی میزائل نصب کر دیے تھے۔ کیوبا کے خلاف امریکا کی آخری جارحانہ کارروائی کیوبا کے قریبی جزیرے گوانتا نامو بے پر ''ایکسرے کیمپ'' نامی عقوبت نامہ قائم کرنا تھا جس میں نائن الیون کے مشکوک ملزم رکھے گئے جنھیں امریکا کی اپنی سرزمین پر مقدمہ چلائے بغیر گرفتار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اب امریکا کیوبا تعلقات کی بحالی کا دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام جائے گا اور عالمی کشیدگی میں کمی کی امید کی جا سکے گی۔