یوم آزادی پر نوجوانوں کی ون ویلنگ

منچلے نوجوانوں کی ان کے پسند کے مطابق تفریح کے لیے اگر مناسب انتظامات اور سہولتوں کا فقدان ہو گا تو وہ یہی کریں گے۔


Editorial August 16, 2015
منچلے نوجوانوں کی ان کے پسند کے مطابق تفریح کے لیے اگر مناسب انتظامات اور سہولتوں کا فقدان ہو گا تو وہ یہی کریں گے۔ فوٹو: آن لائن

14 اگست کا دن یوم آزادی کے نام سے منایا جاتا ہے، یقینا یہ سارے پاکستانیوں کے لیے خوشی و انبساط کا دن ہے لیکن اس روز کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں نوجوان موٹرسائیکل سواروں نے ون ویلنگ کے جو مظاہرے کیے، گلی محلوں میں شورشرابا کیا، اس کے باعث لوگوں کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ 14 اگست کے موقع پر ون ویلروں نے رات گئے تک شاہراہوں پر اودھم مچائے رکھا جس کی وجہ سے اہم سڑکوں پر ٹریفک جام رہی، ہلڑ بازی اور سائلنسر نکا ل کر موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سیکڑوں موٹر سائیکلیں بندکر دیں۔ یہ یوم قیام پاکستان کا منظر نامہ تھا۔ کئی شہروں میں پولیس اور ون ویلروں میں تصادم کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔

منچلے نوجوانوں کی ان کے پسند کے مطابق تفریح کے لیے اگر مناسب انتظامات اور سہولتوں کا فقدان ہو گا تو وہ یہی کریں گے جو وہ یوم آزادی پر ہر سال کرتے رہے ہیں۔ اس مسئلے کا پائیدار حل یہی ہے کہ ان کی موٹر سائیکل کرتبوں کے لیے لاہور کے کسی اسٹیڈئم میں الگ انتظامات کیے جائیں نا کہ ان معصوموں کی موٹر سائیکلیں ضبط کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور عوام میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ زندہ قومیں اپنے تہوار نظم و ضبط سے مناتے ہیں، بے ہنگم ہجوم کے باعث ٹریفک جام ہوتی ہے جس کی وجہ سے ضروری کاموں پر جانے والوں اور مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔