پاکستان کا بہترین محلِ وقوع اور ہمارے حکمران
پاکستان اپنے خطے میں اہم ترین محل وقوع رکھتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں سے مغرب،مشرق،شمال اور جنوب ہر جانب راستے جاتے ہیں
ایک منفرد اور بے مثال جغرافیائی محل وقوع رکھنے والا ملک پاکستان 1947ء میں وجود میں آیا تو دو بلاکوں میں تقسیم کر دی جانے والی دنیا تیزی سے محاذ آرائی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ یہ دونوں بلاک ایک دوسرے سے نظریاتی اور معاشی طور پر متصادم تھے۔ ایک بلاک کی قیادت امریکا کر رہا تھا جہاں جمہوریت اور آزاد منڈی کی معیشت رائج تھی، جب کہ دوسرے بلاک کی سربراہی سوویت یونین کے پاس تھی جہاں ایک پارٹی کی سخت گیر حکومت تھی اور آزاد معیشت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ بات صرف سیاسی مفادات تک محدود ہوتی تو صورتحال اتنی خطرناک نہ ہوتی لیکن یہاں مسئلہ فنا اور بقا کا تھا، لہٰذا دونوں عالمی طاقتوں کی طرف سے ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے تمام قوتیں صرف کر دی گئیں۔
دونوں عالمی قوتوں کا تختۂ مشق تیسری دنیا کے نو آزاد ملک بن گئے۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ تیسری دنیا کے کسی ملک کے لیے خود کو اس دو قطبی دنیا سے الگ رکھنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے پاس دونوں میں سے، کسی ایک عالمی طاقت سے وابستہ ہونے کے سوا چارہ نہ تھا۔ دونوں حریف عالمی طاقتوں کی نظر بطور خاص، ان ملکوں پر زیادہ تھی جو جغرافیائی اعتبار سے بہت اہم تھے۔ پاکستان بھی دنیا کے ایسے ہی چند منتخب ملکوں میں سے تھا جن کو ہر قیمت پر اپنے حلقہ اثر میں رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے حکمرانوں کا تختہ الٹنے یا انھیں قتل کرانے، فوجی انقلاب، ردِ انقلاب اور خانہ جنگی برپا کرانے جیسے تمام حربے آزمائے جاتے تھے۔
پاکستان اپنے خطے میں اہم ترین محل وقوع رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسا ملک ہے جہاں سے مغرب، مشرق، شمال اور جنوب ہر جانب راستے جاتے ہیں۔ مشرق کی جانب ہندوستان جیسا بڑا ملک ہے، مغرب کی طرف جائیں تو افغانستان ہے جہاں سے وسط ایشیا اور روس تک رسائی بہت آسان ہے، شمال کی جانب نکل جائیں تو چین کے شہر آپ کو اپنے منتظر ملیں گے اور پھر ایک جانب ایران ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان 2912، افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2430، پاکستان اور ایران کے درمیان 909 جب کہ چین اور پاکستان کے درمیان 523 کلومیٹر طویل سرحدیں واقع ہیں۔ پاکستان کا سمندری ساحل 1014 کلومیٹر طویل ہے۔ پاکستان تیز رفتار ترقی کرنیوالے دنیا کے دو سب سے بڑے ملکوں کا پڑوسی ہے۔ دنیا کے کم ملک پاکستان جیسا شاندار جغرافیائی محل وقوع رکھتے ہیں اس پس منظر میں، خوف ناک سرد جنگ کے دوران پاکستان جیسے ملک کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا تھا؟
آزادی کے بعد پاکستان کی جانب سابق سوویت یونین اور امریکا دونوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، ہمارے اکابرین نے سوویت یونین کا ہاتھ جھٹک کر امریکا سے بغل گیر ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے اس دور کے رہنماؤں کو غالباً یہ اندازہ نہیں تھا کہ دنیا میں دو طاقتوں کے درمیان جو خطرناک کشمکش جاری ہے، اس کے تناظر میں امریکا سے معاملہ محض دوستی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بات بہت آگے تک جائے گی۔ ہمارا بہترین اور شاندار جغرافیائی محل وقوع، ہمارے لیے ایسے بھیانک مسائل اور مصائب پیدا کرنے کا سبب بن جائے گا جس کی قیمت ہم نصف صدی سے زیادہ عرصے تک چکاتے رہیں گے۔
پاکستان جس کے اردگرد ایشیا کے اہم ممالک واقع ہیں، وہ فوجی اور نظریاتی اعتبار سے امریکا کے لیے کتنا اہم ہو گا، اس کا درست اندازہ اگر لگا لیا گیا ہوتا تو ہم سرد جنگ کے دوران امریکا کے حلیف ہونے کے باوجود اس کی ایک فرنٹ لائن طفیلی ریاست بن جانے کی حد تک آگے نہ گئے ہوتے۔ امریکا نے پاکستان کو فوجی معاہدوں میں جکڑا، جمہوریت سے محروم رکھا، کیونکہ عوامی رائے عامہ اس کی حامی نہیں تھی، جمہوری حکمران اس کے ہر حکم کی تعمیل نہیں کر سکتے تھے، یہی وجہ تھی کہ امریکا نے فوجی آمروں پر انحصار کیا جنھوں نے اپنے اقتدار کے لیے نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ تضادات کو شدید تر کیا، تا کہ عوام باہم دست و گریباں رہیں اور متحد ہو کر ان کے خلاف کسی جمہوری تحریک کا حصہ نہ بن سکیں۔ طاقت کے نشے میں چور آمروں نے اپنی سخت گیر حکمرانی سے وفاق کی یکجہتی کو پارہ پارہ کیا، یہاں تک کہ ملک ٹوٹ گیا۔
70ء کی دہائی میں ملک کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد بھی پاکستان، دنیا میں جاری سرد جنگ میں امریکا کی فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کرتا رہا۔ 90ء کی دہائی کے اوائل میں جب اس بھیانک اعصاب شکن اور طویل سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو سوویت یونین کے ٹکڑے ہو چکے تھے لہٰذا امریکا نے بھی اپنے اتحادیوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ اس سے ایک خلا پیدا ہوا جسے ان مذہبی انتہاپسند قوتوں نے پورا کیا جنھیں امریکا نے خود جنم دیا تھا اور سوویت یونین کے خلاف انھیں بڑی بے رحمی سے استعمال کیا تھا۔ امریکا کے ان ''دوستوں'' نے اپنے ماضی کے سپرپاور سرپرست اور محسن پر ایک کاری وار کیا جسے تاریخ میں 9/11 کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ 9/11 نے امریکا سے ان خوشیوں کو چھین لیا جو سوویت یونین پر فتح کے نتیجے میں اسے حاصل ہوئی تھیں۔ اب اس کے سامنے ایک نیا دشمن تھا جو سوویت یونین کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک تھا۔ سرد جنگ میں نظریاتی اور معاشی محاذ آرائی تھی لیکن القاعدہ کی شکل میں اس نئے دشمن نے امریکا سمیت پوری دنیا کے خلاف مذہبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس نوعیت کے دشمن سے نمٹنے کا تجربہ امریکا کے پاس نہیں تھا اسی لیے اس کی بوکھلاہٹ دیدنی تھی۔
اپنے اہم ترین جغرافیائی محل وقوع کے باعث امریکا نے پاکستان کو سرد جنگ میں سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا اور اپنے ''اتحادی'' ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ پاکستان کو اپنے ماضی کے غلط فیصلوں کا اب مزید تاوان ادا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ اس سفر کا آغاز کر سکے گا، جو اسے 1947ء کے فوراً بعد کر دینا چاہیے تھا۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ ایک اور بدنصیبی ہماری منتظر تھی۔ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی نئی جنگ میں امریکا نے پاکستان کو دوبارہ اپنی فرنٹ لائن ریاست بنانے کا فیصلہ کیا جسے اس وقت کے ہمارے فوجی آمر نے بخوشی تسلیم کر لیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ 9/11 کے بعد پاکستان کا شاندار جغرافیائی محل وقوع ایک بار پھر اس کے لیے مسائل کا سبب بن گیا۔ 9/11 برپا کرنے والے منصوبہ سازوں کا مسکن افغانستان تھا۔ یہ وہ ''مجاہد'' تھے جن کو ماضی میں پاکستان کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا، لہٰذا 9/11 کے بعد امریکا کو دوبارہ پاکستان اور اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اشد ضرورت تھی۔
9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہمارے اس وقت کی فوجی حکومت نے ضرورت نہیں بلکہ مجبوری کے تحت شرکت کی تھی۔ اس میں عدم شرکت کا مفہوم عالمی برادری، اقوام متحدہ اور امریکا سے ٹکرانا تھا۔ اس جنگ میں شرکت کو مجبوری کے بجائے ضرورت سمجھا جاتا تو پاکستان کے لیے اس کے نتائج اتنے ہولناک نہ نکلتے، لیکن اس وقت ہمارا حکمران ایک آمر تھا، اس کے لیے ذاتی اقتدار قومی مفاد سے بالاتر تھا، لہٰذا دوغلے پن کا مظاہرہ کیا گیا۔ خود کو امریکا کا اتحادی ثابت کرنا مقصود تھا اس لیے القاعدہ اور طالبان کے خلاف اس کی مدد کی جا رہی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی امریکا کے حریفوں کو اپنا ''اثاثہ'' بھی تصور کیا جا رہا تھا۔ اس دوغلی پالیسی نے امریکا ، طالبان اور القاعدہ، تینوں کو پاکستان کا مخالف کر دیا۔ امریکا نے افغانستان میں کامیابی حاصل کی اور وہاں سے تقریباً نکل گیا، پسپا ہونے والے انتہاپسندوں نے پاکستان کو اپنا مرکز اور ہدف بنا لیا۔
امریکا نے واپسی کی راہ اختیار کی اور پاکستان کو عملاً مفلوج کر دیا۔ فوجی اور سرکاری اداروں کے اہل کاروں پر اور اہم مراکز پر حملے ہوئے، ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کو شہید کیا گیا، معیشت دیوالیہ ہونے لگی۔ کہا جانے لگا کہ انتہاپسند کسی بھی وقت ریاست پر قابض ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے ریاست کے ہر ادارے کو فیصلہ کن مرحلے پر لا کھڑا کیا۔ دباؤ ڈال کر عام انتخابات کرائے گئے، فوجی آمر کو گھر کی راہ دکھائی گئی۔ اب ملک کو دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرانے کا مرحلہ درپیش تھا۔ مشکل یہ تھی کہ محض ایک آمر کے جانے سے پالیسیاں راتوں رات تبدیل نہیں ہوتیں، آمریت کی باقیات مزاحمت کرتی ہیں۔ حالات بگڑتے چلے گئے پھر وہ مرحلہ آیا جب ماضی کی اسٹیبلشمنٹ کا بڑا حصہ رخصت ہوا۔ 2013ء کے بعد آنے والی سیاسی اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ملک کو بچانے کے لیے ماضی کا یرغمال بنے بغیر آگے بڑھا جائے۔
پاکستان اب تک آمروں کے باعث اپنے بہترین جغرافیائی محل وقوع سے بے مثال فوائد کے بجائے بے پناہ نقصانات اٹھا چکا ہے۔ کیا ہم ماضی کے اسیر رہنے کے بجائے اس نئے سفر کا آغاز کر سکیں گے جس کی منزل خوشحالی، امن اور مستحکم جمہوریت ہے؟ اس سوال کا جواب چند برسوں میں سامنے آ جائے گا۔