اب کے کھائیں گے تو شادی میں ہی کھائیں گے

12 سو کیلوریز اپنی رگوں اور نسوں میں بھر کر ’’ڈائیٹ کولڈ رنک‘‘ مانگنے والے آپ کو شادیوں میں ملیں گے۔


صہیب جمال August 18, 2015
شادی میں کھانے پر ٹوٹ پڑنا یہ بتاتا ہے کہ اس قوم میں دشمن کو پچھاڑنے کی کتنی صلاحیت ہے۔فوٹو :فائل

HAWTHORNE, NJ, US: وہ انسان ہی کیا جو شادی میں جائے اور کھانے پر حملہ نہ کرے؟ بھلا شرافت سے شادی میں کھانا،کھا لینا بھی کوئی کھانا ہوا جب تک ایک لمبی چھلانگ نہ لگے بیلچے کی طرح ڈش میں چمچہ نہ چلے پلیٹ لبالب نہ بھرے تو کھانے کا مزہ ہی کہاں آتا ہے۔

شادی میں کھانے پر ٹوٹ پڑنا یہ بتاتا ہے کہ اس قوم میں دشمن کو پچھاڑنے کی کتنی صلاحیت ہے اور جس دیس میں کھانے پر چنگیز خان کی طرح لوگ ڈش میں چمچہ چلاتے ہیں اور کسی گوہرِ نایاب کی تلاش میں ہوتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے اس قوم میں جذبہِ تلاش و جستجو کتنا ہے اور جو اس چھوٹی سی ڈش میں تحقیق پر اتنا وقت لگا رہا ہو وہ کتابوں کو تو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہوگا۔ اگرچہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ کتابوں کو دیمک ہی چاٹ گئی ہے۔



شادی کے کھانے پر ٹوٹنا لوگوں کی مجبوری بھی ہے، ہوسکتا ہے یہ کسی کا پہلا کھانا ہو ورنہ آخری سمجھ کر تو سب ہی ٹوٹتے ہیں۔ کچھ لوگ بہت ذمہ دار اور مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ جب تک ان کا دوزخِ شکم بھر کر حلق تک نہ آجائے وہ ڈش کے پاس سے ہٹنے کا سوچتے تک نہیں۔ مرغی کی چوکیداری اور چاول کی عزت و ناموس کی حفاظت کوئی ان سے سیکھے، مجال ہے کہ کوئی ان کے علاوہ مرغی پر غلط چمچہ ڈالے۔ اس قوم کو اگر کبھی کسی نے انتہائی سنجیدہ اور کسی کام میں منہمک دیکھنا ہو تو شادی کے کھانے جیسی مصروفیت کے وقت دیکھے۔ پر آشوب دور ہے۔ بھائی، بھائی کا نہیں، بیٹا، باپ کو نہیں پہچانتا۔ اس کی چھوٹی سی مثال یا مشق شادی کے کھانے کے وقت نظر آتی ہے۔ جب تک پلیٹ بھر نہ جائے اور حلق سے اتر نہ جائے کچھ بھاتا ہی نہیں ۔

ہم نے شادی کے کھانے کے لئے نئی ترتیب دے ڈالی ہے، اب ہم اپنے بھانجوں، بھتیجوں، بیٹوں کو پہلے حالات کا جائزہ لینے بھیجتے ہیں کہ دیکھ کر آؤ ان نقاب پوش ڈشوں میں کیا کیا چھپا ہے۔ پھر ڈشوں کے تعین کے بعد کھانے کے سپاہیوں کی ذمہ داری بانٹ دی جاتی ہے کہ کون کیا لائے گا یوں ہمارا معرکہ بآسانی سر ہوجاتا ہے۔

یہ لوگوں کا ماننا ہے کہ کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی، جانورں اور غریبوں کے کام آجاتا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ دو پلیٹیں بریانی اور آدمی مرغی کی ران کھانے کے بعد ہم نے کچھ غریبوں کے لیے بھی بچالیا۔ ویسے بھی مفت کا مال کون چھوڑتا ہے؟ اگر کسی کو اس مثال کو غلط ثابت ہوتا دیکھنا ہو تو وہ شادی کے کھانے کی بچی پلیٹ دیکھ لے ہم دوسرے کے مال کو کیسے شانِ بے نیازی سے چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ ویسے بھی زیادہ مرغن کھانا بھی نہیں چاہیئے۔

شادی کے کھانے کی ایک خاص بات اور بھی ہے اور وہ ہے خوب گھی سے تر بتر مرغیاں اور بہتے شیرے سے لبریز میٹھا۔ لیکن مزہ تو اُس وقت آتا ہے جب یہ سب کھانے کہ بعد اور کم از کم 12 سو کیلوریز اپنی رگوں اور نسوں میں بھر کر کچھ لوگ نعرہ لگاتے ہیں ''ڈائیٹ کولڈ رنک'' ہے کیا؟ کیونکہ یہ بتانا بھی تو ہوتا ہے کہ ہم ڈائیٹ پر ہیں۔ تو بھائی شادیوں، تقریبات میں جاؤ اچھی طرح کھاؤ لیکن دھیان رکھو کہ معدہ بھی اپنا ہی ہے۔ اور اس پر ظلم کرنا اچھی عادت نہیں۔

[poll id="607"]

 


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس