کنٹرول لائن خلاف ورزی بھارت کیا چاہتا ہے

پاکستان چاہتا ہے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تحقیقات کے لیے موثر نظام بنایا جائے۔


Editorial August 18, 2015
پاکستان سرحدوں پر سیزفائر کی خلاف ورزی پر اپنے خدشات رکھتا ہے اور جولائی سے اب تک بھارت کی جانب سے سیزفائر کی 70سے زائد خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ فوٹو: فائل

KARACHI: اے ایف پی کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کو بھارتی فورسز کی جارحیت کے نتیجے میں ایک خاتون شہید جب کہ 8 افراد زخمی ہو گئے، دو پاکستانی افسروں کے مطابق نکیال سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور شیلنگ سے بچنے کے لیے آٹھ سرحدی دیہات کے قریباً10 ہزار مکین اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے۔ تاہم بھارت نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کو پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونیوالے تین شہری جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ اس بار بھارتی میڈیا نے بھی جارحانہ بہانہ سازی کا روایتی طریقہ اختیار کیا ہے جو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ہے ، ''ایشین ایج'' کے مطابق سرحد پر سیز فائر خلاف ورزی پرانتہائی سخت برہمی کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن پر خلاف ورزی پر احتجاج کیا گیا۔

بھارتی میڈ یا کے مطابق بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے سیزفائر کی مبینہ خلاف ورزی پر احتجاج کیا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر سیزفائر کی دانستہ یا مستقبل کے مذموم عزائم کے پیش نظر خلاف ورزی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے مگر بھارتی میڈیا اور سیکیورٹی حلقے الزام تراشی پر اتر آئے ہیں کہ کہیں یہ 23 اگست کو نئی دہلی میں بھارت کے نیشل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول اور پاکستانی مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز کے درمیان ہونے والی مجوزہ بات چیت کے التوا کا کوئی بہانہ تو نہیں؟ ادھر پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے طلبی کے بعد میڈیا سے دوٹوک انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈریوں پر سیزفائر کی خلاف ورزی سے متعلق موثر نظام بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان سرحدوں پر سیزفائر کی خلاف ورزی پر اپنے خدشات رکھتا ہے اور جولائی سے اب تک بھارت کی جانب سے سیزفائر کی 70سے زائد خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تحقیقات کے لیے موثر نظام بنایا جائے۔ تاہم بھارت پاکستانی موقف اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے جس مفاہمانہ ماحول کے قیام کی کوشش کررہا ہے اسے بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کو پر امن رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے،جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت خود مجوزہ بات چیت میں رخنہ ڈالنے اوراس پیش رفت کو سبو تاژ کرنا چاہتا ہے، پاکستان کو یہ بھی تاثر ملا ہے کہ آئندہ چند روز میں ہونے والی بات چیت میں بھارت کی طرف سے پاکستان پر لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل باؤنڈری پر خلاف ورزی سمیت گورداسپور اور اودھم پور میں دہشت گردی کے الزام میں دو ڈوزیئر پیش کیے جانے کا امکان ہے۔یہ دو عملی امن و مفاہمت کے حق میں نہیں۔ بھارت اس کا ادراک کرے۔