موقع پرست مڈل کلاس
خوب سے خوب تر کی تلاش انسانی فطرت کا خاصہ ہے
بھٹو کے زمانے میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بہت مقبول ہوا لیکن بہت کم لوگوں نے اس نعرے کی اہمیت اور مضمرات پر غور کرنے کی زحمت کی۔ بلاشبہ یہ ایک اقتصادی مضمرات رکھنے والا نعرہ تھا اور جس ملک میں 50 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہوں ان ملکوں میں روٹی کپڑے اور مکان کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ نعرہ اپنے اندر ایک جمود اور ٹھہراؤ بھی رکھتا ہے، یعنی کھانے کے لیے دو روٹی، پہننے کے لیے معمولی کپڑا اور رہنے کے لیے معمولی مکان۔ کیا دنیا میں اپنی محنت سے اشیائے صرف اور اشیائے تعیش کے انبار لگانے والوں کا یہی حق ہے کہ وہ پیٹ کا جہنم کسی نہ کسی طرح بھریں کسی تھرڈ کلاس کپڑے یا لنڈا کے پرانے کپڑوں سے اپنی سترپوشی کریں اور رہنے کے لیے کسی کچی پکی بستی میں دو کچے کمروں کے مکان پر خدا کا شکر ادا کریں؟ نہیں نہیں نہیں۔ اس آدھا تیتر آدھا بٹیر زندگی پر نہ انسان مطمئن ہوسکتا ہے نہ ذہنی جمود کا شکار ہوسکتا ہے۔
خوب سے خوب تر کی تلاش انسانی فطرت کا خاصہ ہے اور جو طبقات اپنی محنت سے ایک چھوٹے سے طبقے کا ہر روز روزِ عید ہر شب شبِ برات بنا دیتے ہیں ان کا حق ہے کہ انھیں ایک آسودہ زندگی حاصل ہو بہتر غذا بہتر کپڑا بہتر مکان کے ساتھ انھیں اعلیٰ تعلیم، بہتر علاج کے مواقعے حاصل ہوں۔کسی بھی پسماندہ ملک پسماندہ معاشرے میں عوام کو ان کے حقوق کا احساس دلانا انھیں ایک آسودہ زندگی کی ضرورت سے آگاہ کرنا، اس ملک کی مڈل کلاس کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری مڈل کلاس دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک حصہ ایماندار مڈل کلاس کا ہے دوسرا حصہ ضمیر فروش مڈل کلاس کا ہے۔ایماندار مڈل کلاس کا حال یہ ہے کہ وہ صبح چائے روٹی سے ناشتہ کرتی ہے اپنے بچوں کو نام نہاد انگلش اسکولوں میں پڑھاتی ہے جن کی فیس اور کورس ان کی پہنچ میں ہو اور لشٹم پشٹم زندگی گزار کر رخصت ہوجاتی ہے، موقع پرست مڈل کلاس کو ایک آسودہ زندگی گزارنے کے پورے مواقعے حاصل ہوتے ہیں جس میں وہ مگن رہتی ہے۔اسے محنت کش عوام کی زندگی بہتر بنانے ان میں سیاسی اور طبقاتی شعور بیدار کرنے کی کوئی چنتا نہیں ہوتی کیونکہ اس کی ساری توجہ اپر مڈل کلاس میں شامل ہونے پر لگی رہتی ہے اور وہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے 90 فیصد غریب عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کیے رہتا ہے۔
ایماندار مڈل کلاس جو کچھ مل رہا ہے اسے غنیمت جان کر صبر و شکر کے راستے پر چل پڑتی ہے اسے بھی غریب عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے ان میں ایک بہتر زندگی کی خواہش پیدا کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی وہ جس طرح اپنی زندگی پر قانع ہوتا ہے اسی قناعت کو وہ غریب طبقات کے لیے بھی پسند کرتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے ایماندار مڈل کلاس اپنا طبقاتی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ عوام کی زندگی کو بہتر بنانے والی دوسری طاقت سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں۔میڈیا میں اپنی قیادت کے گناہوں پر پردہ ڈالنا ان کی لوٹ مار کی تردید کرنا ان کے گندے پوتڑے دھونا جاری سیاسی مڈل کلاس کی ڈیوٹی میں شامل ہے جسے وہ پوری ایمانداری سے بجا لا رہی ہے۔ جن کے منشور میں سرفہرست عوامی حاکمیت ہوتی ہے بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسم کی انقلابی پارٹیاں انقلابی رومانیت کا شکار ہیں اور جب انھیں عہد حاضر میں انقلاب کا دور دور تک پتہ نہیں ملتا تو یا تو وہ بے عملی کا شکار ہوجاتی ہیں یا پھر ایک دوسرے پر سنگ زنی میں مشغول ہوجاتی ہیں اگر آپ ان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہی دو عنصر نظر آئیں گے۔ایسی مایوس کن صورتحال میں ایماندار سیاسی طاقتیں کیا کریں؟ یعنی what is to be doneان کے سامنے آجاتا ہے۔
اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ انتظار کرو جس کی کوئی حد نہیں ہے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جہاں موقع ملے عوام میں سیاسی اور طبقاتی بیداری کی کوشش کریں۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں انقلابی پارٹیاں بے شک فعال تھیں اور ان کا رابطہ بھی عوام سے تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ پارٹیاں انتشار کا شکار ہوتی گئیں اور روس چین اختلافات ان کی فعالیت میں آخری کیل ثابت ہوئے حالانکہ روس چین اختلافات کا پسماندہ ملکوں میں کام کرنے والی انقلابی پارٹیوں سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا تھا کیونکہ پسماندہ ملکوں میں بنیادی تبدیلی لانے سے پہلے بعض ضروری اور اہم کام کرنے کی ضرورت تھی مثلاً پاکستان میں سب سے پہلے نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ازحد ضروری تھا لیکن آپس کی لڑائیوں اور فکری کجرویوں کی وجہ سے اس اہم مسئلے کو پس پشت ڈال دیا گیا۔
what is to be done کا جواب کتاب میں تلاش کرنے اور مباحثوں سے اخذ کرنے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے ملک کے معروضی حالات میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے۔کئی عشروں سے بنیادی تبدیلی لانے کی دعویدار انقلابی جماعتوں کا عوام سے رابطہ ہی نہیں ہے عوام نہ ان کے نام سے واقف ہیں نہ ان کے منشور سے ان حقائق کی روشنی میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مخلص سیاسی کارکن اپنے فروعی اختلافات ختم کرکے عوامی مسائل پر خود بھی متحرک ہوں اور عوام کو بھی متحرک کریں۔ عوام کے سمندر میں جانے کا ایک راستہ بلدیاتی انتخاب ہے۔ اپنے جمود اور اپنی صفر کارکردگی کی وجہ انقلابی دوستوں کا ایک کونسلر کی سیٹ پر کامیاب ہونا بھی مشکل ہے لیکن اگر اجازت ہو تو ہم عرض کریں کہ آپ میں رمق برابر بھی انقلابیت ہے تو اس موقعے سے نتائج کی پرواہ بغیر فائدہ اٹھائیں اور عوام تک رسائی حاصل کرکے خود کو اور اپنے منشور کو عوام سے متعارف کرائیں۔