جمہوری نظام اور سرکاری اداروں کی مداخلت

سیاسی جماعتوں کا اپنا کیڈر ہونا چاہیے جو عوام کو بتائے کہ ان کی پارٹی کا منشور کیا ہے


Editorial October 18, 2012
عدالت عظمیٰ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ فوٹو فائل

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ اصغر خان کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

اس دوران فاضل جج صاحبان کے دو ریمارکس اور آبزرویشنز سامنے آ رہی ہیں' ان سے پاکستان کا روشن مستقبل ابھرتا نظر آ رہا ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔

بدھ کو اس کیس کی سماعت کے دوران جب جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے یہ کہا کہ ان کے موکل سیاست میں فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت کے خلاف ہیں' اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ جنرل اسلم بیگ اس بات کا ادراک کر لیتے تو پھر نہ 12 اکتوبر 1999 ہوتا اور نہ 3 نومبر2007۔ وہ بطور آرمی چیف سیاست میں مداخلت نہ کرتے' عدالت میں سابق آرمی چیف اسلم بیگ کا بیان حلفی پڑھ کر بتایا گیا' جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایوان صدر میں سیل موجود تھا یہاں سیاسی سرگرمیاں مانیٹر کی جاتی تھیں' چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایوان صدر میں بیٹھے کسی شخص کو سیاسی گروپ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

ماضی میں صدر غلام اسحاق خان نے بادی النظر میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔ منگل کوبھی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے تھے کہ اب کوئی آئی جے آئی نہیں بنے گی اور وہی ہو گا جو آئین کہے گا' بزرگ سیاستدان اصغر خان نے 1990 کی دہائی میں سیاستدانوں کو مبینہ طور پر ایک خفیہ سرکاری ادارے کی طرف سے دی جانے والی رقوم کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ رقم عام انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے اور اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے نام سے ایک انتخابی و سیاسی الائنس کی تشکیل کے لیے دی گئی تھی۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تمام متعلقہ فریقوں کے بیانات سننے اور حقائق کا پوری طرح جائزہ لینے کے بعد ہی سامنے آئے گا تاہم پچھلے کچھ عرصے سے دوران سماعت ایسے پہلو بھی سامنے آتے رہے ہیں جن سے کئی انتہائی اہم عہدوں کے حامل افراد کی انتخابی عمل میں مداخلت کے شبہات پیدا ہوئے۔

اب یہ بات عدالت کے سامنے ہے، وہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ یہ مبینہ مداخلت ذاتی حیثیت میں ہوئی یا بطور ادارہ ہوئی؟ بات کچھ بھی ہو کسی جمہوری ریاست میں الیکشن ہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے عوامی نمائندوں کے چنائو میں قوم کی رائے سامنے آتی ہے۔ انتخابی نظام اور انتخابی عمل جتنا قابل اعتماد ہوتا ہے اتنا ہی منتخب ہونے والے حکمران عوام کی نظر میں معتبر ٹھہرتے ہیں۔ الیکشن کے دیانتدارانہ' منصفانہ اور ہر قسم کی مداخلت سے پاک ہونے کا یقین ہی عوام کو یہ اعتماد دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی پالیسیاں اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے خود بنارہے ہیں۔ ایوان صدر میں سیاسی سیل کا قیام ہو' کسی خفیہ ایجنسی کی طرف سے سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم ہو یا کسی اور مقام سے ہلائی جانے والی ڈوریاں ہوں ان سے جمہوری نظام کے پورے تصور کی نفی ہوتی ہے۔ یہ باتیں آئینی اور اخلاقی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان سے بہر صورت اجتناب برتا جانا چاہیے۔

پاکستان میں آمریت کے دور میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں' ان میں سرکاری اداروں کا سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا بھی شامل تھا' اصغر خان کیس کے حوالے سے بہت کچھ منظر عام پر آ چکا ہے۔ 1990 کے الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج لینے کے لیے اس زمانے کی کچھ طاقتور شخصیات نے جو کچھ کیا، اس کے حقائق بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بہر حال اب اس بارے میں عدالت عظمیٰ ہی کوئی فیصلہ کرے گی لیکن یہ بات طے ہے کہ جمہوریت کی بقا اور سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ ملک کا ہر ادارہ اپنے آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہے' پاکستان میں آج جو مسائل سر اٹھا رہے ہیں' اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں طاقتور اداروں نے من مانی کی۔

اس کا نتیجہ اداروں کے زوال کی شکل میں سامنے آیا' کسی سرکاری ادارے کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاسی جماعتیں بنائے یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرے یا اس کے لیے فضا ساز گار بنائے' سیاسی جماعتوں کا اپنا کیڈر ہونا چاہیے جو عوام کو بتائے کہ ان کی پارٹی کا منشور کیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں تک ریاستی اداروں کے معاملات درست طریقے سے چلتے رہے۔ اس زمانے میں سرکاری اداروں کی کارکردگی سے عوام مطمئن تھے' نچلی سطح کا سرکاری اہلکار بھی غیر قانونی کام کرتے ہوئے ڈرتا تھا' ٹرانسپورٹ جتنی تھی' اس کا نظام بہتر حالت میں تھا' شہری دفاع کا محکمہ کام کر رہا تھا' فائر بریگیڈ کی حالت آج سے بہتر تھی' میونسپل کمیٹیاں اپنی ذمے داریاں ادا کر رہی تھیں' پھر بتدریج زوال کا عمل شروع ہو گیا' سرکاری اہلکاروں کا رویہ حاکمانہ ہو گیا۔

رشوت کا چلن عام ہو گیا۔ سرکاری اداروں میں عوام کے جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہ ہوتے تھے، سیاست میں سرکاری اداروں کی مداخلت بڑھنے سے اوسط درجے کے سیاستدان ابھرے، علما فضلا پس منظر میں چلے گئے اور ان کا خلاء سیاسی مولانائوں سے پُر کیا گیا۔ اب صورتحال پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ گئی ہے۔ بظاہر اس زوال پذیری کا تعلق بڑے سیاسی معاملات سے نہیں لگتا لیکن یہ حقیقت ہے کہ آمرانہ طرز حکومت نے سرکاری اداروں کو زوال کا شکار کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں صورتحال انتہائی خراب ہوئی' ایجنسیوں کا کردار سیاسی ہو گیا۔ ضیاء الحق کے انتقال کے بعد بھی ایجنسیوں کا سیاسی کردار جاری رہا اور اصغر خان کیس اسی دور کی یاد دلاتا ہے۔ آئی جے آئی کیسے بنی اور اس کے مقاصد کیا تھے' یہ سب کچھ منظر عام پر آ گیا ہے۔

لیکن سیاسی شخصیات اور سیاسی جماعتیں بھی بے نقاب ہوئی ہیں' یہ سیاسی جماعتیں اور شخصیات اب بھی میدان سیاست میں ہیں' اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں' طاقتور اداروں کی شخصیات بھی جوابدہی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ یہ ایک صحت مند علامت ہے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ اس ملک کی سیاسی تاریخ کو بدلنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔