طورخم و چمن بارڈر چشم کشا ریمارکس

عدالت نے کہا صورتحال یہ ہے کہ روز مختلف راستوں سے لوگ غیر قانونی طور پر سرحد عبورکر لیتے ہیں


Editorial August 23, 2015
سرحدوں کی نگہبانی کا میکنزم مضبوط بنانا اس لیے ضروری ہے کہ اسی راستے سے ملکی و غیر ملکی سمگلرز کسی ملک کو اپنی جنت اور اس ملک کے عوام کے لیے دوزخ بنادیتے ہیں۔ فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے جمعہ کو انسانی اسمگلنگ کیس سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے ا ن کی چشم کشائی سے کو انکار نہیں ہوگا، وہ پاک افغان سرحد کی صورتحال ، اسمگلنگ سے متعلق حکومتی اور ریاستی طرز عمل ، ناکافی اور عدم دلچسپی پر مبنی نیم دلانہ انتظامات اور اپنا وطن چھوڑ کر جانے والے پاکستانیوں کی دردناک اموات کے حوالہ سے ایک کھلی چارج شیٹ ہے۔ اگرچہ جولائی 2013 ء کی اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرم(UNODC) کی ایک جامع رپورٹ جو امیگرینٹس کی پاکستان آمد کے رجحانات اور اسباب پر مبنی ہے اور ایف آئی اے کے پر جوش اشتراک و تعاون اور پاکستانی حکومت کے بعض اقدامات کے حق میں ہے تاہم ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ریاستی اور حکومتی اداروں کے سامنے طورخم اور چمن بارڈر کے بارے میں بعض اہم اور بنیادی سوال اٹھائے ہیں جو انسانی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ مسلح مافیاؤں کے مابین مذکورہ سرحدی پٹی پر لین دین کے جھگڑوں سمیت پاکستانیوں کی ملک چھوڑ کر جانے کے عمل سے متعلق ہیں جب کہ ان ہی ریمارکس کی روشنی میں سپریم کورٹ نے طورخم اور چمن بارڈر پر امیگریشن کی اصل صورتحال جاننے کے لیے کمیشن تشکیل دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قوانین پر عدم عملدرآمد سے سرحدیں غیر محفوظ اور دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے۔

چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بنچ نے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے افراد سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ تارکین وطن سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں حکومتی اداروں کی کوئی دلچسپی نہیں، اس بارے میں موجود قوانین میں بظاہر تضاد ہے، لوگوں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان ایک ڈوبتی ہوئی کشی ہے ، اس لیے یہاں سے بھاگ لو۔عدالت نے کہا صورتحال یہ ہے کہ روز مختلف راستوں سے لوگ غیر قانونی طور پر سرحد عبورکر لیتے ہیں، اس دوران بہت سے افراد کی زندگیاں ضایع ہوجاتی ہیں، عدالت نے صورتحال جاننے کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ کمیشن چمن اور طورخم بارڈر پر جاکر امیگریشن اورکسٹم کے دفاترکا معائنہ کرکے تمام صورتحال کا جائزہ لے اور تصاویر کی مدد سے جامع رپورٹ بنا کر یکم ستمبر تک جمع کرائے۔

عدالتی حکم کے مطابق کمیشن میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل جعفر شاہ، اٹارنی جنرل کا نامزد کردہ پاکستان کسٹم کا ایک نمائندہ، طورخم بارڈرکے لیے کمیشن میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عمر فاروق اور چمن بارڈر کے لیے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان شاہد شامل ہوں گے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے غیر قانونی تارکین وطن کا ریکارڈ نہیں ہوگا تو نیشنل ایکشن پلان کو کیسے کامیاب بنایا جائے گا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ صومالیہ کے لوگ اسلام آباد میں آکر رہائش پذیر ہیں،غیر قانونی تارکین وطن کا ریکارڈ نہیں، اس صورتحال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جا سکتی ہے، افغانستان سے یہ لوگ آسانی کے ساتھ داخل ہو جاتے ہیں۔

جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ طورخم بارڈ غیر قانونی آمد و رفت کے لیے آسان راستہ ہے، مقامی افراد پولیٹیکل ایجنٹ کو لاکھوں روپے دیتے ہیں، جعفر شاہ نے بتایا طورخم بارڈر پر ایف سی کاغذات کی جانچ پڑتال کرتی ہے، ایف آئی اے کا دائرہ اختیار نہیں، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا یہ بہت اہم اور سنجیدہ آئینی ایشو ہے، یہ صورتحال ہو تو وفاق پاکستان کی سرحدوں کے وقار کا کیا تحفظ ہوگا، کیا ملک کے اقتدار اعلیٰ کو سرنڈرکیا گیا ہے؟اسلام آباد ایئر پورٹ پر لاکھوں ڈالر پکڑے گئے، طور خم بارڈر سے تو بھرے کنٹینرزگزریں گے، چیف جسٹس نے کہا طورخم بارڈر سے اربوں ڈالرا سمگل ہوجاتے ہیں، جسٹس دوست محمد خان نے کہا طورخم بارڈر پر آئے روز فائرنگ کے واقعات لین دین کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

مجوزہ کمیشن کو چمن ، طورخم بارڈر پر جاری ایسی صورتحال کو کنٹرول کرنا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی رسوائی کا باعث بنا ہوا ہے، یہ درست ہے کہ انسانی اسمگلنگ یورپی ممالک کے لیے بھی نیا درد سر بنا ہوا ہے اور دنیا ہیومن ٹریفکنگ سے نالاں ہے مگرعدلیہ نے کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کر کے بادی النظر میں ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے سرحدوں سے اسمگلنگ اور دیگر معاملات کو روکنے کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے کا کہا ہے، چنانچہ فاضل کمیشن ارکان کو ایک ایسے دیرینا مسئلہ کا حل پیش کرنا ہے جس نے گذشتہ 60 برس سے پاک افغان سرحد پر مافیائی طاقتوں کو قتل و غارت، اغوا و تشدد، پیسے کے لین دین، لاقانونیت اور ریاستی قوانین کے اطلاق سے مستثنیٰ کردیا ہے۔

اس لیے ہر محب وطن پاکستانی کے لیے سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے ان ریمارکس سے ملکی سرحدوں کی گھمبیر صورتحال سامنے آ جاتی ہے ایسے بہت سے سوال ہیں جن پر ارباب اختیار کو سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے اسمگلنگ ، انسانی اسمگلنگ سمیت سنگین اور بہیمانہ جرائم میں ملوث پس پردہ عالمی مافیاؤں کا تصور بھی ذہن میں لانا ہوگا کہ ان کانیٹ ورک کسی ملک کے قانونی و انسدادی نظام سے زیادہ سخت اور وحشیانہ ہوتا ہے ، گاڈ فادر سیریز کے علاوہ مصنف گے ٹیلیسی نے اپنے معرکتہ الآرا ناول''آنر دائی فادر'' میں سلواٹور بونانو خاندان اور نیو یارک، شکاگو، ہارلم اور اٹلی سمیت امریکا کی دیگر ریاستوں میں مافیائی گینگز کی دلچسپ مگر خونیں داستاں رقم کی ہے۔المختصر سرحدوں کی نگہبانی کا میکنزم مضبوط بنانا اس لیے ضروری ہے کہ اسی راستے سے ملکی و غیر ملکی سمگلرز کسی ملک کو اپنی جنت اور اس ملک کے عوام کے لیے دوزخ بنادیتے ہیں۔