پاک بھارت مذاکرات ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئے

یہ دوسرا موقع ہے جب بھارت غیر سنجیدہ بہانے کر کے مذاکرات کے باہمی فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے


Editorial August 23, 2015
امریکا اس معاملہ میں مداخلت کرے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ پہلے مرحلے میں جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے تاکہ تنازعہ کشمیر کے حل کی کوئی راہ نکل سکے۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے کشمیری رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی بھارتی شرط مسترد کر دی ہے جس کے بعد قومی سلامتی مشیروں کے مذاکرات کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں ہواکہ بھارت نے مذاکرات سے پہلو تہی کی کوشش کی ہے کیونکہ اس کے پاس مقبوضہ ریاست کے لیے ''اٹوٹ انگ'' کا راگ الاپنے کے سوا اور کوئی عذر ہی نہیں ہے۔ دیکھنے کی بات ہے کہ کشمیر کے متنازعہ ہونے کا معاملہ خود بھارت کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے جہاں ''کشمیریوں کے حق خود ارادیت'' کی قرارداد منظور ہوئی جس پر بھارت آج ساتواں عشرہ سر پہ آنے کے باوجود عمل کرانے پر تیار نہیں۔

ہمارے دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کے ذریعے تجویز دی کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز اپنے دورہ بھارت کے دوران حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں تاہم سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھارتی ہائی کمشنر کو بتا دیا کہ پاکستان کے لیے اس تجویز پر عمل درآمد کرنا ناممکن ہے کیونکہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد باقی ہے نیز حریت رہنما مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقیقی نمائندے اور حقیقی شراکت دار ہیں۔ پاکستان نے بھارت کو روسی شہر اوفا میں جامع مذاکراتی ایجنڈہ پیش کیا لیکن بھارت کا نئی شرائط پر اصرار اس کے غیرسنجیدہ طرزعمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پیشگی شرائط پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دوسری مرتبہ دونوں ممالک کی قیادت کے طے شدہ فیصلوں سے انحراف کیا ہے اور یہ دوسرا موقع ہے جب بھارت غیر سنجیدہ بہانے کر کے مذاکرات کے باہمی فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس اہم معاملے پر وزیر اعظم ہاؤس میں بھی جناب نواز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے۔

حریت کانفرنس کی قیادت سے ملاقات اور بھارتی شرط قبول نہ کرنے کا فیصلہ اسی اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا۔ قبل ازیں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ سرتاج عزیز کے حریت رہنماؤں سے ملاقات دہشتگردی کے خلاف اقدامات کی مشترکہ کوششوں کو متاثر کریگی۔ وکاس سوروپ نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات منسوخ نہیں کیے گئے بلکہ اب بھی مذاکرات کو آگے لے جانا چاہتے ہیں مگر شرطیں رکھ کر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے مذاکرات منسوخ کر نے کی خبر جاری کر دی تھی۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت رہنما علی گیلانی، یاسین ملک اور شبیر شاہ کو نظر بند کر دیا۔ سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر کے کشمیر پر فوجی تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ شبیر شاہ نے کہا کہ ان کی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات طے تھی، کل ہی ان کے دفتر سے پولیس ہٹائی گئی تھی، لیکن انھیں نظربند کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ بھارت کا موقف بڑا کمزور ہے اسی لیے وہ مذاکرات سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میر واعظ عمرفاروق نے گھر میں نظر بندی سے رہائی کے بعد سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ آج نہیں تو کل مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں میں کمی محسوس ہوتی ہے جب کہ بھارتی دفتر خارجہ اپنی قومی سرگرمیوں میں کہیں زیادہ پر عزم ہے یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر کوئی ملک پاکستان کا ساتھ نہیں دیتا۔ یوں دیکھا جائے تو پاک بھارت مذاکرات کا معاملہ ایک بار پھر تناؤ کا شکار نظر آتا ہے۔

گزشتہ روز بھارت کی وزیر خارجہ نے یہ منطق دی کہ دونوں ملکوں کے سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات محض بات چیت ہے، یہ مذاکرات نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت میں فرق ہوتا ہے۔ادھر امریکا نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ چاہتاہے اور مسئلہ کشمیر پر امریکا اپنے موقف پر قائم ہے۔ پاکستان اور بھارت کو مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔امریکا کے پالیسی ساز بھی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں، اصل معاملہ یہ کہ امریکا اس معاملہ میں مداخلت کرے اور بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ پہلے مرحلے میں جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرے تاکہ تنازعہ کشمیر کے حل کی کوئی راہ نکل سکے۔