افغان سفیر کی طلبی… درست فیصلہ

سرحدی مقامات بالخصوص باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، چترال اور دیر کے اضلاع میں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں


Editorial August 25, 2015
پاکستان اور افغانستان کو سرحدوں پر سیکیورٹی انتظامات موثر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ فوٹو: فائل

MUZAFFARGARH: خیبر ایجنسی کے علاقے تیراہ میں پاک افغان بارڈر پر قائم پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر افغانستان کے علاقے سے ہونے والے راکٹ حملے میں چار اہلکار شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ اس حملے میں پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی سے دہشت گردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس افسوسناک واقعہ پر اسلام آباد میں متعین افغان سفیر جانان موسٰی زئی کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق افغان سفیر کو بتایا گیا کہ وہ اپنی حکومت پر زور دیں کہ وہ اس سانحے کی تحقیقات کرائے اور اس کے نتائج سے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا جائے۔

سفیر سے کہا گیا کہ ایسے واقعات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کوئی مثبت علامت نہیں، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور مشترکہ دشمن کے خلاف افغانستان سے تعاون کے لیے تیار ہے تاہم پاکستانی فوجی جوانوں کے خلاف اس قسم کے حملے ناقابل برداشت ہیں۔

افغانستان کے سفیر کی طلبی، پاکستان کا درست فیصلہ ہے کیونکہ افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقے پر یہ حملہ پہلی بار نہیں ہوا ، سرحدی مقامات بالخصوص باجوڑ ایجنسی، مہمند ایجنسی، چترال اور دیر کے اضلاع میں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں تاہم خیبر ایجنسی میں ایسے حملے اس سے پہلے کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ سرحدوں کو پرسکون رکھنا اور سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کرنا ہر ملک کی بنیادی ذمے داری ہوتی ہے اگر کسی ملک کی سرحد سے دوسرے ملک پر فائرنگ کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا ذمے دار اس ملک ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔

اگرچہ خیبر ایجنسی کے دور افتادہ علاقے درہ اخوند والا میں 8ہزار فٹ کی بلندی پر واقعہ پاکستانی سرحدی چوکی پر ہونے والا یہ حملہ دہشت گردوں کی جانب سے کیا گیا ہے مگر اس علاقے کی نگرانی کی ذمے داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے لہٰذا اس صورت حال کے تناظر میں اس حملے سے افغان حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا ،اس واقعہ سے اس کی غفلت اور نااہلی ثابت بھی ہوتی ہے کہ اس نے سرحدی علاقوں پر سیکیورٹی کے اتنے ناقص انتظامات کر رکھے ہیں کہ یہ علاقے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں اور وہ جب چاہتے ہیں پاکستانی علاقے پر حملہ کر دیتے اور فرار ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے افغان سفیر کو طلب کر کے حالیہ سانحہ پر احتجاج کرتے ہوئے ان سے یہ بھی کہا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی قونصلیٹس اور سفارتخانے کے افراد کے تحفظ کو یقینی بنائے تاہم افغان سفیر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان وہاں موجود پاکستانیوں کی سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنی مشرقی اور شمال مغربی سرحد پر کشیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ مشرقی سرحد پر بھارتی فوجیں بلاجواز گولہ باری اور فائرنگ کر کے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں تو دوسری جانب شمال مغربی سرحد پر کبھی افغان سیکیورٹی فورسز تو کبھی دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

اشرف غنی کی حکومت آنے کے بعد یہ امید باندھی جا رہی تھی کہ اب نہ صرف پاکستان کے افغانستان سے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ سرحدوں پر ہونے والے حملے بھی رک جائیں گے مگر یہ امید بر نہیں آئی اور معاملات جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ افغان حکومت اور نیٹو فورسز دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہیں مگر اس کے برعکس حقائق افغان حکومت کی نااہلی کا پردہ چاک کر رہے ہیں، پاکستان تو اپنے علاقے میں دہشت گردوں سے بھرپور جنگ لڑ رہا اور اس نے شمالی وزیرستان جیسے مشکل علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے مگر افغان حکومت نے اپنے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی جس سے یہ علاقے پاکستان کے لیے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارتی ایجنسیاں دہشت گردوں کو تربیت دے رہی ہیں جنھیں افغان حکومت اور نیٹو کی آشیر باد حاصل ہے جب تک اس صورت حال میں تبدیلی نہیں آتی سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنا ایک مشکل امر ہے۔ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے دوسرے ملک سے بہتر تعلقات قائم کرے مگر یہ تعلقات کسی دوسرے ملک میں افراتفری پھیلانے اور دہشت گردی کی کارروائیاں کرانے پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔

افغان حکومت کو اپنے ملک میں بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے قائم کردہ دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کا خاتمہ کرنے کے علاوہ سرحدی علاقوں پر سیکیورٹی کا انتظام موثر بنانا ہو گا ورنہ سرحد پار سے ہونے والا دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوششیں ثمر آور نہ ہو سکیں گی۔ پاکستان اور افغانستان کو سرحدوں پر سیکیورٹی انتظامات موثر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔