افغان مہاجرین کے مدت قیام میں توسیع

کابل میں پاکستانی پرچم جلائے جانے اور بھارت کے پرچم لہرانے کے واقعات پر پاکستانی عوام کے جذبات بھی مشتعل ہیں۔


Editorial August 25, 2015
پاکستانی حکومت کو بھی افغان مہاجرین کی بتدریج انخلا کی صورت اختیار کرنا چاہیے، یہی راست اقدام ہوگا۔ فوٹو : فائل

پاکستان میں افغان مہاجرین کی کثیر تعداد ایک عرصہ سے رہائش پذیر ہے جن کے سال رواں کے اختتام تک انخلا سے متعلق فیصلہ کیا گیا تھا، اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ گزشتہ روز افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان، افغانستان اور یو این ایچ سی آر پر مشتمل سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں مزید 2 سال کی توسیع کردی گئی ہے۔ اس معاہدے کی رو سے افغان شہری 2017 ء کے اختتام تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔

پاکستان ایک مہمان نواز ملک ہے اور ایک عرصہ سے مہاجرین کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے، لیکن یہ امر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی بھی ملک کے لیے غیر ملکی شہریوں کو اپنے ملک میں اس کثیر تعداد میں آباد رکھنا خود اس ملک کی معیشت اور وہاں کے عوام کے لیے بوجھ متصور ہوتا ہے، اور ایسی صورت میں جب کہ پاکستان دہشت گردی اور امن و امان کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے، غیر ملکیوں کے انخلا سمیت کثیر جہتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر سیفران عبدالقار بلوچ نے افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں پائے جانے والے پاکستان مخالف جذبات کے بارے میں کہا کہ کابل میں پاکستان کے خلاف مظاہرے کیے گئے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات یقینی طور پر متاثر ہوں گے۔

کابل میں پاکستانی پرچم جلائے جانے اور بھارت کے پرچم لہرانے کے واقعات پر پاکستانی عوام کے جذبات بھی مشتعل ہیں۔ سہ فریقی کمیشن کا مذکورہ معاہدہ بلاشبہ بہتر تعلقات کے قیام کے تناظر میں راست اقدام ہے لیکن افغان حکومت کو بھی پاکستانی عوام کے جذبات کا احترام کرنا ہوگا، نیز ملک کی معیشت کی بہتری اور مہاجرین کی کثیر تعداد کے باعث ابھرنے والے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کو بھی افغان مہاجرین کی بتدریج انخلا کی صورت اختیار کرنا چاہیے، یہی راست اقدام ہوگا۔