نئی ای سی ایل پالیسی اہم فیصلے

وزارت داخلہ کی فہرست میں 8 ہزار جب کہ پاسپورٹ آفس کی فہرست میں 52 ہزار لوگوں کے نام شامل تھے۔


Editorial August 25, 2015
ان اہم اور غیر معمولی اقدامات کے پیش نظر امید کی جانی چاہیے کہ ای سی ایل پالیسی پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے نئی ایگزٹ کنٹرول لسٹ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیندہ کسی بھی فرد کا نام باقاعدہ منظوری کے بعد ہی ای سی ایل میں شامل کیا جائے گا جب کہ بلیک لسٹ ختم کرکے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ متعارف کرائی جائے گی۔ وزارت داخلہ کی فہرست میں 8 ہزار جب کہ پاسپورٹ آفس کی فہرست میں 52 ہزار لوگوں کے نام شامل تھے۔

گزشتہ روز میڈیا کو ECL پر جو بریفنگ دی گئی وہ وقت کا تقاضہ بھی تھی اور اسے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کی دیومالائی حیثیت کے حوالہ سے خوش آیند اقدام کہا جاسکتا ہے۔ سب سے صائب اعلان یہ ہے کہ اب ای سی ایل میں نام ڈالنے کی اتھارٹی وزارت داخلہ کے پاس ہوگی اور صرف سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے حکم پر، ڈیفنس فورسز اور حساس اداروں کی سفارش پر نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا جب کہ اس سے قبل ای سی ایل لسٹ کو عمومی طور پر حکومتی یا ریاستی مخالفین کا بازو مروڑنے کا کمال حاصل رہا ہے، اسے ارباب اختیار نے ہر بدلتے دور میںمختلف اہداف اور مقاصد کے لیے خوب آزمایا جب کہ ناگزیر مصلحت و سیاسی ضرورت کے تحت اسے استعمال کرنے کی روایت بھی ملکی سیاست اور انتظامی احکامات کے ضمن میں انہونی بات نہیں، تاہم اس لسٹ کی امتناعی و قانونی افادیت ، ریاست و حکومت کے لیے معاشرتی و معاشی اور اخلاقی حدود و قیود کی روشنی میں ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ، وزارت داخلہ نے بلاشبہ بر وقت اقدام ایک درست سمت میں اٹھایا ہے ۔

پاکستان ایگزٹ کنٹرول آرڈیننس 1981ء یا ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) رولز مجریہ2010 ء کے تحت وفاقی حکومت عدالتی حکم پر ہر اس شخص کو ملک چھوڑنے سے روک سکتی ہے جو کرپشن سمیت دیگر سیاسی ، اقتصادی ،اخلاقی جرائم اور ملک دشمن طرز عمل میں ملوث ہو۔19 جون2015 ء کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وزارت داخلہ ایف بی آر کی سفارش پر نئی ای سی ایل لسٹ کا جائزہ لے رہی ہے، یہ غالباً اسی شفافیت کی طرف سفر کا ایک عندیہ ہے جو اب وزیر داخلہ کے بیان کی صورت سامنے آیا ہے ۔چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ماضی میں ای سی ایل کو انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا جب کہ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایسے گینگسٹرز ،کریمنل ، مشکوک افراد اور قحبہ گری کے الزام میں ملوث غیر ملکی خواتین ملک سے فرار ہوئیں جن کے نام ای سی ایل لسٹ میں شامل تھے۔

تاہم ان واقعات اور بے قاعدگیوں کے تدارک کے علاوہ ای سی ایل میں حساس اداروں کے افسران جن کا باہر جانا قومی مفادات کے خلاف ہو ان کے نام شامل ہوں گے۔ گرفتاری اور تفتیش سے جان چھڑانے کے لیے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالنے دیں گے۔ 3سال تک کیس منطقی انجام تک نہ پہنچا تو نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔ بلا جواز کسی پاکستانی کی نقل و حرکت پر پابندی نہیں لگنے دیں گے۔ ایک ماہ کے اندر ای سی ایل میں شامل افراد کی تعداد 3ہزار رہ جائے گی۔ شناختی کارڈ کا نظام بھی مضبوط بنا لیا ہے۔ 80ہزار سے زائد جعلی شناختی کارڈز منسوخ کیے جا چکے ہیں۔چنانچہ ان اہم اور غیر معمولی اقدامات کے پیش نظر امید کی جانی چاہیے کہ ای سی ایل پالیسی پر اس کی اصل روح کے ساتھ عمل کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو ملکی سالمیت ، قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے اور ملکی امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔