کراچی آپریشن کا کثیرجہتی مفاد

حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں پر تشدد کلچر سے ہونے والا نقصان صرف ملک کے اس اقتصادی حب تک محدود نہیں تھا


Editorial August 26, 2015
حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں پر تشدد کلچر سے ہونے والا نقصان صرف ملک کے اس اقتصادی حب تک محدود نہیں تھا، فوٹو : فائل

وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ روز ملک کو درپیش مختلف النوع چیلنجز کے حوالے سے قدرے دوٹوک انداز میں بعض اہم فیصلے کیے جب کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انتہائی غیر مبہم لہجے میں بھارت سمیت تمام عالمی قوتوں کو باور کرایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کوئی بھی مذاکراتی عمل بیکار ہوگا۔

وزیراعظم نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ کشمیری رہنما تیسرا فریق نہیں بلکہ مسئلے کا اہم فریق ہیں جن کی رائے اور مشاورت کے بغیر ان کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔دریں اثنا وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے حکومت کے نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عملدرآمد کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ جو عناصر فرقہ واریت میں ملوث ہیں ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ حکومت نے سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں اردو زبان کے استعمال کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کی5رکنی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے۔

ادھر وزیراعظم قازقستان روانگی سے قبل اسلام آباد میں پیر اور منگل کی شب کراچی آپریشن پر ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد سیاسی حلقوں نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ متحدہ کی طرف سے استعفے واپس لینے کے لیے مفاہمت اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کوششیں رنگ لائیں۔ میڈیا کے مطابق اسحاق ڈار سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے اعتراضات سننے کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔

یاد رہے پیر کو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کے چھ رکنی وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جب کہ اس موقعے پر جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ کراچی آپریشن میں صرف ایم کیو ایم کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جس پر وزیراعظم نواز شریف نے انھیں یقین دلایا کہ آپریشن صرف مجرموں کے خلاف ہورہا ہے، کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے لیکن کراچی آپریشن کا سب سے زیادہ فائدہ ایم کیوایم کو ہی ہوگا، ملک میں فرقہ وارانہ عناصر کی کوئی گنجائش نہیں انھیں پنپنے نہیں دیں گے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں پر تشدد کلچر سے ہونے والا نقصان صرف ملک کے اس اقتصادی حب تک محدود نہیں تھا، اگر قومی معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا تو کراچی میں بدامنی ، ہڑتالوں، خونریزی، بھتہ خوری ،ڈکیتیوں اوراسٹریٹ کرائمز سے بھی ناقابل تلافی نْقصان ہوا ہے ، ایک امریکی جریدہ ''نیشنل انٹرسٹ'' کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی پر تشدد طاقتیں دنیا کی سب سے پیچیدہ طاقتوں میں سے ایک ہیں۔ جریدہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ کراچی میں سیاسی طاقت اور دولت حاصل کرنے کا ایک لازمی ذریعہ خوف اور قتل کی صلاحیت ہے۔

یہ کتنا بڑا الزام ہے کہ جس شہر کو جریدہ خود کہتا ہے کہ ''بہت ہی پرامن اور صاف تھا'' اب اس میں حکومت (سندھ گورنمنٹ)شہری حدود میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس وقت حکومت کو ملک گیرکولیٹرل ڈیمیج کے سب سے بڑے مسئلے سے بھی خود کو نجات دلانی ہے، بلاشبہ متحدہ سے وزیراعظم کی ملاقات ایک وسیع تر بریک تھرو بن سکتا ہے بشرطیکہ ساری سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کے پیش نظر دشمن قوتوں کے عزائم سے خبردار رہیں اور باہمی اختلافات ختم کردیں، پاکستان کو بڑے ہی نامساعد حالات کا سامنا ہے، مگر اب صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی اگرچہ شرط اول ہے تاہم اس سمت میں پیش قدمی جاری ہے ۔

لیکن دوسری جانب بھارتی حکمرانوں کی پاک بھارت جامع مذاکرات اور مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی ڈپلومیٹک کہہ مکرنیوں کا ادراک تقاضائے وقت ہے، کنٹرول لائن پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ خالی از علت نہیں، مزید برآں مسئلہ کشمیر کے بغیر بات چیت کو بیکار قرار دینے کا جو جواز وزیراعظم نواز شریف نے پیش کیا ہے اس کو مسترد کرنا بھارت کے لیے آسان نہیں ہوگا ۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی ایکشن پلان پر پیشرفت کے بارے میں وفاقی کابینہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملکی صورتحال میں بڑی بہتری آئی ہے۔ جرائم پیشہ فرد یا دہشتگرد کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ کسی کو مجرموں کے خلاف آپریشن ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان میں بریک تھرو ہونے والا ہے، اسی اجلاس سے خطاب میں نوازشریف نے کہا کہ دہشتگرد لوگوں کی جانوں اور انسانیت سے کھیلتے ہیں۔

وہ ناقابل معافی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں، انھیں معاف نہیں کیا جائے گا۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے شروع کیا گیا اور آپریشن کے نتائج واضح ہیں۔ کراچی کے شہری امن چاہتے ہیں اور کراچی آپریشن سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

ان تمام جملہ معروضات کو قومی نقطہ نظر سے پرکھنے کی ضرورت ہے، دہشت گردوں نے کراچی کو اپنا نیا مسکن بنانے کے لیے راہیں ہموار کرنے کی اپنی سی ساری کوششیں کرکے دیکھ لیں مگر ملکی سلامتی پر مامور پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تہیہ کرلیا ہے کہ اب فرقہ واریت ، بد امنی اور دہشت گردی کے خلاف داخلی جنگ آخری اور فیصلہ کن ہوگی۔