دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن

شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے


Editorial August 26, 2015
شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے، فوٹو:فائل

شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے' یہ انتہائی مشکل علاقہ اور دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ ہے' اس علاقے میں آپریشن کرنا انتہائی مشکل نظر آ رہا تھا لیکن پاک فوج نے یہاں سے بھی دہشت گردوں کا صفایا کرنے کا عزم کر کھا ہے' پاک فضائیہ بھی پوری طرح متحرک ہے اور عملی کارروائیاں کر رہی ہے۔

گزشتہ روز پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان نے جی ایچ کیو کادورہ کیا اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں جاری آپریشن میں ہونے والی پیشرفت پر غور کیا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ملک کے دوردراز علاقوں میں بچے کھچے دہشت گردوں کا بھی جلد صفایا کردیا جائے گا۔

فضائیہ کے سربراہ سہیل امان نے اس موقعے پر دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ذرایع ابلاغ کے مطابق دونوں فوجی سربراہان نے شمالی وزیرستان میں جاری فضائی کارروائی مزید مربوط بنانے اور آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک آپریشن ضرب عضب جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع ہوا ہے' ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاصی حد تک کمی ہوئی ہے' گو اس دوران دہشت گردوں نے چند بڑی کارروائیاں کی ہیں' جن میں حال ہی میں اٹک میں پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر خود کش دھماکا جس میں شجاع خانزادہ اور کئی دیگر افراد شہید ہوئے شامل ہے۔

اس کے علاوہ کراچی میں بھی دہشت گردی نے کارروائی کی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کے مقابلے میں دہشت گردوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔ بڑے بڑے دہشت گرد مارے گئے ہیں اور بہت سے فرار ہوکر افغانستان میں چلے گئے ہیں' طالبان کا سربراہ فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان میں ہیں' ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردوں کی بچی کھچی تعداد موجود ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی رفتار میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری جانب جمہوری حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کی حوالگی کے لیے افغان حکومت سے دو ٹوک انداز میں بات کرے۔

یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستانی علاقے میں آ کر کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ افغان حکومت اس حوالے سے تاحال اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ سول انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تھانے کی سطح پر پولیس کی انٹیلی جنس کا معیار بلند کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تھانے کی سطح پر انٹیلی جنس کا نظام جدید ہو اور پولیس اہلکار پورے جذبے سے دہشت گردی کو فوکس کر کے کام کریں تو شہروں' قصبوں اور دیہات میں دہشت گردوں کا صفایا کرنا آسان ہو جائے گا۔

تھانے کی سطح کا انٹیلی جنس نظام بہتر ہو جائے تو دہشت گردوں کے لیے شہروں میں ٹھکانے بنانا ممکن ہی نہیں رہے گا۔ بہر حال دہشت گردی کے خلاف بھرپور آپریشن جاری ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں' وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز سے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا حقیقی معنوں میں خاتمہ ہو جائے گا۔