کرپشن کا گٹھ جوڑ توڑنے کی ہدایت

شہر قائد مادر وطن کی معاشی شہ رگ ہے جب کہ دیگر گلوبل شہروں کی طرح کراچی کو بھی بہت سے سماجی و معاشی مسائل کا سامنا ہے


Editorial August 27, 2015
کراچی کی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس شہر میں سیاسی جماعتوں اور شراکت داروں میں ایک بے نام سی کشمکش نے دہشت گردی میں ملوث ان قوتوں کا کام آسان کردیا۔ فوٹو: فائل

لاہور: بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کراچی میں پائیدارامن کے قیام کے لیے دہشت گردی اور کرپشن کے گھناؤنے گٹھ جوڑ کو توڑنے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی کراچی میں قائم فوجی عدالتوں کی تعداد میں اضافے کی منظوری بھی دیدی تاکہ دہشت گردی کے مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک اس شیطانی گٹھ جوڑ کے خاتمہ کی یہ واضح ہدایت پہلی بارعسکری اسٹیبلشمنٹ کی ایک بالادست شخصیت کی طرف سے آئی ہے جس میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کی ملی بھگت کو ملیامیٹ کرنے کے عزم کا قطعی غیر مبہم انداز میں اظہار کیا گیا ہے جسے ایک طرح سے شہر قائد کی ہولناک صورتحال پر مہر ثبت کرنے سے تعبیر کیا جارہا ہے اور یہ ایک ایسا کھرا سچ ہے جسے ملکی سیاسی صنم کدہ میں موجود بعض عاقبت نا اندیش قوتوں نے ہمیشہ دبانے کی کوشش کی جب کہ اسی مصلحت کوشی اور گریز پائی کے باعث شہر قائد لاقانونیت کا ایسا مہیب جنگل بن گیا کہ اس میں شہریوں کا جینا حرام ہوگیا اور جہاں قتل کا لائسنس لیے ہر دوسرا ٹارگٹ کلر کراچی کو روز مارتا اور دوسرے دن شہر پھر سے زندہ ہوتا۔

اتنی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا کہ خود سیاسی سٹیک ہولڈرز مسائل و مصائب کے خود ساختہ گرداب میں الجھ کر رہ گئے، لا محدود تشدد کی ایسی اندوہ ناک لہر اس شہر کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی مگر یہ حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت نے عسکری قیادت کے اشتراک سے نہایت جرات مندی سے حالات کا رخ بدل دیا، اب کراچی میں امن ، ترقی ، بے خوفی اور آزادانہ زندگی کے کچھ آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں اور شہر کی کاروباری رونقیں پھر سے لوٹ آئی ہیں۔ آرمی چیف نے منگل کو کراچی میں کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا جہاں انھیں شہر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کی صدارت آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کی جب کہ کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی آئی ایس پی آر، ڈی جی رینجرز، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، کمشنر اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی پولیس کی آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے پولیس کو 65ملین مالیت کا ساز و سامان بھی مہیا کیا گیا ہے، اس حوالے سے پولیس کو تربیت بھی دی جاچکی ہے۔

تاہم کراچی کو درپیش تشدد، لسانی منافرت ، علاقوں پر قبضہ گیری کی خواہش، لاقانونیت، بھتہ خوری، دہشت گردی، سٹریٹ کرائم اور فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث کالعدم تنظیموں اور طالبان کی صف بندی کی پچھلی اور تازہ کوششوں کے درمیان بہت سارے سماجی ، معاشی ،قومیتی ،نسلی اور ثقافتی تضادات و عدم مساوات سے پیدا شدہ مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے چنانچہ سابق گورنر سندھ و وزیر داخلہ معین الدین حیدر نے گزشتہ روز ایک ٹی وی پروگرام میں بہت اچھی بات کہی کہ صرف کرمنلز کو پکڑنے سے بات نہیں بنے گی۔

انھوں نے آرمی چیف کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا بھتہ خوروں، اور سیاسی جماعتوں کے ونگز سمیت پانی و دیگر مافیاؤں کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ناگزیر ہے،لیکن اس کے لیے اس ماسٹر مائنڈ کو پکڑنا چاہیے جس نے یہ سارا جال پھیلایا ہے، ارباب اختیار کراچی کے اقتصادی پوٹنشل پر نظر رکھیں اور عالمی حریص طاقتوں اور ملک کے دشمنوں کے عزائم کا بھی ادراک کریں کہ وہ کراچی کو کمزور کرکے درحقیقت پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔

شہر قائد مادر وطن کی معاشی شہ رگ ہے جب کہ دیگر گلوبل شہروں کی طرح کراچی کو بھی بہت سے سماجی و معاشی مسائل کا سامنا ہے، ایک معتبر اقتصادی ماہر کا کہنا ہے کہ کراچی اب ایک زبان بولنے والی کمیونٹی کا شہر نہیں رہا ، یہ کئی بے ترتیب کچی آبادیوں پر مبنی ایک بد صورت میگا سٹی ہے جس کی سیاسی و وسیع المشرب سماجی شناخت گم ہوچکی ہے اور اسے مختلف مافیاؤں اور حکمرانوں ان کے حامیوں کی سیاسی بے تدبیری اور بد عنوانی کے کثیر جہتی ناسور نے تباہ کردیا ہے۔ بلاشبہ ہر بڑا شہر مختلف نوعیت کے مسائل سے دوچار رہتا ہے مگر ترقی یافتہ ممالک کے طرز حکمرانی سے ہماری نوکر شاہی اور اہل اقتدار بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

سیاست چوبیس گھنٹے میڈیا پر لاحاصل گفتگو یا ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نام تو نہیں، قوم کی بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بھی تعمیر نہ کرسکے جہاں کوئی یہ کہہ سکے کہ ''جاہل کا انکسار عالم کے غرور سے بہتر ہے ۔'' وہ اس لیے کہ بے شمار جاہل آن لائن آکر ملکی صورتحال کا وہ بھیانک خاکہ پیش کرتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ کراچی کی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس شہر میں سیاسی جماعتوں اور شراکت داروں میں ایک بے نام سی کشمکش نے دہشت گردی میں ملوث ان قوتوں کا کام آسان کردیا جو اس میں جرائم کو بھیانک وارداتوں کے شعلوں کی نذر کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔

آئے روز کی خونریزی کراچی کو بے آرام کرگئی ہے، دو کروڑ بندہ پرور شہر قائد کو غیر مشروط قانون کی حکمرانی سے رجوع کی ہر وہ آزادی ملنی چاہیے جس کی جمہوری عمل میں اجازت ہے،لیکن یہ منزل اسی وقت قریب آئیگی جب اس گٹھ جوڑ کا دی اینڈ ہوگا جس کا آرمی چیف نے ذکر کیا ہے۔