مری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں

چوہدری صاحب ہمارے بزرگ ہیں بزرگ ان معنوں میں نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq August 27, 2015
[email protected]

چوہدری صاحب ہمارے بزرگ ہیں بزرگ ان معنوں میں نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں یا جس کا اندازہ بالوں کی رنگت سے کیا جاتا ہے بلکہ ان معنوں میں جو فارسی کے داناؤں نے بتائے ہوئے ہیں یعنی ... بزرگی ''بہ عقل'' است نہ کہ بہ سن ... اگر بالوں کی سفیدی پر جایا جائے تو ہم نے ایسے بہت سارے لوگ دیکھے ہیں بلکہ دور کیوں جایئے ''آئینے'' میں روزانہ دیکھتے ہیں جو بالوں کو نہ جانے کہاں اور کس دھوپ میں سفید کیے بیٹھے ہیں لیکن عقل ابھی ''ٹخنوں'' ہی میں کہیں اٹکی ہوئی ہے اور گھٹنوں تک پہنچنے میں بھی نہ جانے کتنا عرصہ لگے جب کہ ایسے لڑکے بالے بھی دیکھ رکھے ہیں جو اپنی عمر سے سو سال پیچھے اور سو سال بعد تک کی جان کاری رکھتے ہیں بلکہ جتنی عقل ''زمین'' کے باہر رکھتے ہیں۔

اس سے کئی گنا زیادہ سرزمین کھوپڑی کے اندر بھی چھپائے بیٹھے ہیں، چنانچہ چوہدری صاحب بھی سن و سال کے لحاظ سے بھلے ہی ہم سے کم نظر آتے ہوں لیکن ''بہ عقل'' ہم سے کافی بڑے ہیں یا آج کی اصطلاح میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سینئر ہیں چنانچہ اکثر ہماری ''خطا'' کی نشاندہی کر لیتے ہیں، چنانچہ اب کے انھوں نے ''کیمیکل لوچے'' کے بارے میں پوچھا ہے جس کا ذکر ہم اکثر اپنے کالموں میں کرتے رہتے ہیں اور جو ہمارے دماغ میں ویسے تو پیدائشی تھا لیکن آج کل کچھ زیادہ ہی بڑھ چکا ہے۔

پوچھتے ہیں کہ یہ تم کیا ہر وقت کیمیکل لوچا، کیمیکل لوچا کرتے رہتے ہو آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ مطلب تو اس کا سیدھا سادا ہوتا ہے ... یہ ''کیمیکل لوچا'' تقریباً ہر لکھنے والے کے دماغ میں ہوتا ہے خاص طور پر پاکستان میں تو ایسی کوئی کھوپڑی ہے ہی نہیں جس کے اندر دماغ نام کی چیز اور اس میں کیمیکل لوچا نہ ہو ... یہ کیا کوئی کم کیمیکل لوچا ہے کہ ہم ابھی تک لیڈروں سے خیر کی توقعات رکھے ہوئے ہیں حالاں کہ وہ ترقی کر کے عطار کے لونڈے کے باپ کے بھی باپ ہو چکے ہیں

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالب
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

لیکن اس دماغی فتور یا نفسیاتی کمپلکس کا فلمی نام ''کیمیکل لوچا'' ہے اور یہ نام اسے منا بھائی ایم بی بی ایس نے اپنی دوسری فلم ''لگے رہو منا بھائی'' میں دے رکھا ہے چوں کہ وہ پکا ''بمبیا'' یا ممبیا ہے اس لیے وہاں کی مخصوص زبان استعمال کرتا ہے اس خاص قسم کی زبان میں بہت ساری چیزوں کے نام عام لغت سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً جیسے صحیح یا ٹھیک یا درست کے لیے ''بروبر'' کا لفظ استعمال ہوتا ہے، نقدی کے لیے ''روکڑا'' کا لفظ مخصوص ہے، پستول کو ''گھوڑا'' کہا جاتا ہے۔

کرپشن کے لیے ''جگاڑ'' کا لفظ مستعمل ہے، عورت کے لیے ''آئٹم'' کا لفظ ہے جو بیوی گرل فرینڈ اور رکھیل سب کے لیے خاص ہے جیسے شاہ جہان نے اپنی آئٹم کے لیے تاج محل بنوایا تھا، اکبر اپنی ''آئٹم'' جودھا بائی کی ہر بات مانتا تھا، مغل اعظم نے شہزادہ سلیم کی آئٹم کو دیوار میں ایڈجسٹ کیا تھا۔

یہ لفظ ہمیں اس لیے پسند آیا کہ ہمارا کیس بھی ہو بہو منا بھائی جیسا ہے اسے بھی وہ نظر آتا ہے جو ہوتا نہیں تھا اور وہ دکھائی نہیں دیتا تھا جو اصل میں ہوتا تھا، اور ہمارے ساتھ بھی ٹھیک ویسا ہی ہے جو ہوتا ہے وہ دکھائی نہیں دیتا اور جو دکھائی دیتا ہے وہ ہوتا نہیں مثلاً اب یہ سارے پاکستانی روزانہ ہمارے لیڈر ہمارے حکام ہمارے وزیر ہمارے منتخب نمایندے کہتے رہتے ہیں لیکن ہمیں آج تک کچھ بھی دکھائی نہیں دیا ہے اسی طرح ہمیں اکثر شہروں، بنگلوں، ایوانوں، ہاؤسوں وغیرہ میں کچھ ایسی چیزیں دکھائی پڑتی ہیں جو زیادہ تر جنگلوں اور بیابانوں میں ہوتی ہیں

لائی ہے زندگی مری کس موڑ پر مجھے
آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

منا بھائی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا اس نے اپنی آئٹم کو متاثر کرنے کے لیے ''گاندھی گیری'' شروع کی اور گاندھی پر لکھی ہوئی کتابیں بے تحاشا پڑھ ڈالیں اور پھر اچانک اسے گاندھی جی نہ صرف دکھائی دیا بلکہ سنائی بھی دیا، دونوں میں باقاعدہ بات چیت بھی ہونے لگی جہاں اسے کچھ پوچھنا ہوتا ''باپو'' سامنے ہی نظر آجاتے یعنی

ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے

لیکن وہ اسے فریب نظر نہیں مانتا، جب کہ اس کا ایک مخالف ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات کے سامنے کر کے ثابت کرتا ہے کہ یہ اس کا دماغی وہم اور فتور ہے وہ اپنے ساتھی سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ میرے دماغ میں کوئی ''کیمیکل لوچا'' ہے کیوں کہ اسے نفسیاتی نام وغیرہ نہیں آتے اور اپنی زبان میں اس کا ترجمہ کیمیکل لوچا کرتا ہے۔ ''لوچا'' ہر قسم کے گڑ بڑ اور بگاڑ کو کہتے ہیں۔

اب ظاہر ہے کہ ہم بھی بمبئی بلکہ مومبائی کے متاثرین میں سے ہیں اس بات پر بھی چوہدری صاحب اکثر کہتے ہیں کہ ہم ''مومبائیات'' سے کچھ زیادہ متاثر ہیں اور یہ سچ بھی ہے مومبائی خود اور اس کی ساری چیزیں بلکہ آئٹم ہیں ہی ایسی کہ ہر آئٹم پہ دم نکلے ... اور ہم بوڑھے ہیں تو کیا ہوا دل کالے ہیں، ویسے بقول چشم گل چشم بیویوں سے سب ڈرتے ہیں لیکن اعتراف بہت کم لوگ کرتے ہیں بلکہ یہاں کون ہے جو متاثرین مومبائی میں سے نہیں ہے ... ہم بھی ہیں ... یہ الگ بات ہے کہ وہاں ہمارا کسی سے ''آموں یا شالوں'' کا رشتہ نہیں ہے لیکن ان دو آئٹموں یعنی آموں اور شالوں کے علاوہ بھی وہاں بہت کچھ ہے

شفق دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، بجلی، پھول
اس ''دامن'' میں کیا کیا کچھ ہے وہ دامن ہاتھ میں آئے تو

جنھیں دیکھ کر دل میں ''کچھ کچھ'' ... تو کیا بہت کچھ ہونے لگتا ہے کسی اور کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں چاہتے ورنہ کون ہے جو اس کم بخت مومبائی کی زلف گرہ گیر کا اسیر نہیں ہے یہ ترانے اور نغمے صرف گانے بجانے کے لیے ہوتے ہیں عمل کرنے کے لیے نہیں اور پھر عمل کرنے اور مفت میں نفرت کا طوطا پالنے کے لیے اور خدا مارے کیا کم ہیں؟ ایک شخص نے ''غیرت اور عزت'' کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس ''کچھ بھی'' نہیں ہوتا وہ اپنی غیرت وحمیت پردہ داری آن بان خود داری وغیرہ سے جی خوش کر لیتے ہیں۔

غریب کی بیٹی کا دوپٹہ بھی ڈھلک جائے تو قیامت آجاتی ہے لیکن جو ''ہوتے'' ہیں ان کی بیوی بیٹیاں ... خیر چھوڑیئے ... تو کہنا ہم یہ چاہتے ہیں کہ متاثرین مومبائی کے ناطے سے ہمیں بھی منا بھائی کی یہ کیمیکل لوچے والی بات پسند آئی بلکہ پسند کو بھی گولی ماریئے حقیقتاً ہمارے دماغ میں کیمیکل لوچا بلکہ کئی لوچے ہیں، بلکہ صرف ہم ہی کیا یہاں کون ہے جس کے سر میں کوئی کیمیکل لوچا نہیں ہے اور لوچا بھی وہی ''منا بھائی والا'' ... فرق صرف اتنا ہے کہ منا بھائی کو ''باپو'' دکھائی دیتے تھے اور یہاں ہمارے ہاں کے سارے منا بھائیوں کو اپنے ''باپو'' قائداعظم کی تصویر دکھائی دیتی ہے بلکہ پورے ملک میں ہر ہر مقام پر ''باپو'' کی تصویر ہی سب سے زیادہ ''مطلوب و مقصود'' ہے خاص طور پر جو تصاویر رنگین کاغذوں پر ثبت ہوتے ہیں، ایک سالک نے کہا ہے کہ

''نقد'' فریادی ہے کس کی شوخیٔ تصویر کا
کاغذی ہے پیرہن ''باپو'' کی ہر تصویر کا

کس کا تعلق کسی بھی پیشے ذات برادری عقیدے نظریئے اور مسلک و سلسلے سے ہو سب کی عقیدت باپو کی تصویر کے ساتھ یکساں ہے جو جہاں ہے جیسا ہے وہیں پر اسے اگر کوئی طلب ہے تو وہ باپو کی تصویر کی ہوتی ہے کہ

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
ترے فوٹو کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اور ایک فرق یہ ہے کہ منا بھائی کو تو ''باپو'' صرف دکھائی دیتے تھے ''پکڑائی'' نہیں دیتے تھے یعنی باپو اپنی مرضی سے آتے تھے اور مرضی سے جاتے تھے لیکن ہمارے باپو کی تصاویر نہایت ہی سعادت اور مرنجاں مرنج ہوتی ہیں جس نے پکڑ لیا بس پکڑ لیا ... پھر مجال ہے جو باپو کی تصویر اس کی گرفت سے اس کی جیب سے اس کی تجوری سے اور اس کے قبضے سے رہائی پا سکے، بلکہ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو قائد مطلب اپنے باپو کی تصویر کا معاملہ وہی ہے جو فارسی والوں کا ''مہمان''سے ہوتا ہے یعنی

آمدن بہ ارادت و رفتن بہ اجازت

یعنی مہمان آتا ہے تو اپنی مرضی سے ہے لیکن جائے گا تو میزبان کی اجازت سے جائے گا ورنہ بیٹھا رہے بلکہ پشتو میں تو ''مہمان'' کی حالت اور بھی ناگفتہ بہ ہو جاتی ہے یعنی مہمان ''بیل ہوتا ہے میزبان کا'' وہ جو چاہے اپنے اس ''بیل'' کے ساتھ کر سکتا ہے اور ہمارے ہاں ''باپو'' کی تصاویر کا جو حال ہے وہ ''بیل'' سے بھی زیادہ برا ہے۔

بے چارے سے وہ وہ کام لیے جاتے ہیں کہ جی جانتا ہے ایسے ایسے کام جو کبھی ''باپو'' کے وہم و گمان میں بھی نہیں گزرے ہوں گے وہ جو کہتے ہیں نا کہ ''ندیدوں'' کے ہاں بیٹا ہوا تو سب نے چوم چوم کر بے چارے کو مار ڈالا، خیر تو ''کیمیکل لوچا'' اصل میں یہی ہے کہ خالی دماغ میں کوئی بھی بلا گھس سکتی ہے، خانہ خالی را دیو می گیرد خالی گھر پر بھوتوں کا قبضہ ہو جاتا ہے ہاں اگر باپو یا اس کی کوئی تصویر یا تصاویر ہاتھ لگ جائیں تو شاید یہ لوچا دور ہو جائے ۔