ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی اشتعال انگیزی

جب سے مودی سرکار آئی ہے بھارت کی جانب سے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کے سلسلے میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔


Editorial August 29, 2015
مذاکرات کی باتیں اور سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا،بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ بھارت پہلے سرحدوں کو پرامن بنائے۔ فوٹو: فائل

ورکنگ باؤنڈری پر گزشتہ روز بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ سے خاتون اور بچے سمیت نو پاکستانی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس بلا اشتعال فائرنگ پر پاکستان رینجرز کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ بھارت سیز فائر معاہدے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ بند کرے۔ گزشتہ روز ہی پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سیالکوٹ رینجرز ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیااورسی ایم ایچ میں بھارتی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔آرمی چیف نے دشمن کو رینجرز کے منہ توڑ جواب کو سراہا آرمی چیف نے کہا کہ بھارت ڈھٹائی سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بھارتی فوج کی جانب سے سیالکوٹ کے متعدد دیہات پر بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے اور ان میں بہتری کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ جب سے مودی سرکار آئی ہے بھارت کی جانب سے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کے سلسلے میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان نے کئی بار اس سلسلے میں احتجاج کیا اور عالمی برادری کی توجہ بھی اس جانب کرائی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں کی خاموشی اور بے حسی پر مشتمل کردار کو دیکھ کر بھارت کو شہ ملی ہے اور وہ جب چاہتا ہے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر آگ اگلنا شروع کر دیتا ہے۔

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ نریندر مودی سے ملاقات ہی کی کوئی خواہش ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی جو امید بھی ابھرتی ہے وہ کچھ عرصہ بعد بھارت کے جارحانہ رویہ کے باعث دم توڑ جاتی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا ماحول نومبر2014ء میں نیپال میں ہونے والی 18ویں سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر اس وقت ختم ہوتا ہوا معلوم ہوا جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور نریندر مودی نے ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا جس کے بعد یہ کہا جانے لگا کہ سفارتی سطح پر برف پگھل گئی ہے اور دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور بھارت نے پاکستان کی کسی بھی دوستانہ کوشش کا مثبت جواب نہ دیا۔

اس کے بعد پاک بھارت تنازعات کو طے کرنے کے لیے سیکریٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا مگر نئی دہلی میں کشمیری حریت رہنماؤں کی پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کو بہانہ بنا کر بھارت نے یہ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سب کے باوجود پاکستان نے بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو جاری رکھا ۔

گزشتہ ماہ جولائی میں روسی شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی ایک بار پھر ملاقات ہوئی جس میں یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر متنازعہ معاملات پر بات چیت کریں گے مگر بعدازاں بھارت نے مذاکرات کو مائنس کشمیر فارمولے سے مشروط کر دیا جس پر پاکستان نے واضح کر دیا کہ اسے ایسا کوئی فارمولا قبول نہیں اور بھارت کی پیشگی شرائط کو مسترد کر دیا۔

بھارت آئے روز کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرتا رہتا ہے پہلے ہی اس نے ممبئی حملے کا ڈرامہ رچایا اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی پھر اس نے کشتی ڈرامہ رچایا جو بلا آخر بے نقاب ہو گیا اور پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی کا سبب بنا اب اس نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کا کھیل کھیلا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی موقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود نہیں۔ حیرت انگیز امر ہے کہ جب بھی پاک بھارت مذاکرات یا دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کی بات کی جاتی ہے بھارتی فورسز کی جانب سے سرحدوں پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اب جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان ہو سکتا ہے تو بھارت کی جانب سے سرحد کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا' جنرل اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات سے قبل بھی بھارتی فورسز نے سرحدی محاذ گرم کرکے کشیدگی کو ہوا دی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز اور بی ایس ایف حکام کی ملاقات آیندہ ماہ دہلی میں ہو گی جس میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر بات ہو گی۔

اس سے قبل بھی متعدد بار پاکستانی رینجرز اور بی ایس ایف حکام کے درمیان سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت ہو چکی ہے مگر اس کا اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ پاکستان بھارت کی مداخلت اور سرحدی خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کو آگاہ ضرور کرے مگر بھارتی جارحیت روکنے کے لیے اس کا منہ توڑ جواب بھی دے ۔مذاکرات کی باتیں اور سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا،بہتر تعلقات کے لیے ضروری ہے کہ بھارت پہلے سرحدوں کو پرامن بنائے۔