سندھ حکومت تدبر سے کام لے

کرپشن کسی خارجی عفریت کا نام نہیں یہ ذہنی رویہ، سوچ اور کاروباری نفع اندوز حکمت عملی ہے


Editorial August 30, 2015
کرپشن کے خاتمہ پر سندھ حکومت سمیت سارے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اتفاق کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

صوبہ سندھ بادی النظر میں ایک افسوس ناک انتظامی چپقلش سے دوچار ہو گیا ہے، جسے اگر نیم سیاسی بحران کی دلدل نہ بھی کہا جائے تو بھی اس سے پیدا شدہ صورتحال کو صوبے اور ملکی سیاست میں کرپشن کے ناسور اور تلاطم خیز الزامات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ماہرین قانون نے موجودہ صورتحال کو ''ڈائیارکی'' (Diarchy) سے تعبیر کیا ہے جس میں انتظامی سطح پر دوعملی نظام از خود قائم ہو جاتا ہے۔

اگر ایسی کوئی صورتحال ہے تو ارباب اختیار کو سندھ میں گڈ گورننس پر توجہ دینی چاہیے، ڈیلیور کرنا چاہیے تا کہ شفاف انتظامی اقدامات کر کے کرپٹ عناصر سے سندھ کی سیاست کو پاک کرنے کی کوششوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ کی مدد لی جا سکے، بجائے اس کے کہ تنازعات کسی دوسری انتہا تک چلے جائیں۔

بعض لوگ سندھ کے وفاق کے غیر مرئی کنٹرول میں آنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہیں؟ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری صورتحال میں کرپشن کے بارے میں زیرو ٹالرنس کا فقدان ہے جب کہ کوئی جمہوری عمل بدعنوان عناصر کی ملی بھگت سے عوام کو کوئی ریلیف مہیا نہیں کر سکتا۔ کرپشن کسی خارجی عفریت کا نام نہیں یہ ذہنی رویہ، سوچ اور کاروباری نفع اندوز حکمت عملی ہے جو جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپتی ہے، چنانچہ نیب، ایف آئی اے اور رینجرز کا ہدف یہی عناصر ہیں۔

سندھ کی ایپکس کمیٹی کا قیام بھی ان ہی عناصر کو قابو کرنا تھا، اگر ایپکس کمیٹی میں وزیر اعلیٰ ان امور کا تسلی بخش حل نکالتے تو رینجرز، ایف آئی اے اور نیب کے حوالہ سے میڈیا میں سندھ پر حملہ کی باتیں نہ ہوتیں۔ مزید براں مسئلہ صرف کراچی اور سندھ میں یک طرفہ کارروائی کا مفروضہ نہیں، دہشت گردوں اور اور ان کے سہولت کار کرپٹ عناصر کے خلاف پورے ملک میں کارروائی ہو رہی ہے، ہونی بھی چاہیے، پنجاب میں بھی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کرپٹ عناصر کا احتساب ناگزیر ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جس عزم کے ساتھ دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمہ میں سندھ کے سب اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے، اجتماعی شراکت اور شمولیت کا تاثر دیا جاتا ہے عمل بھی اسی کی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ کرپٹ عناصر کسی کے دوست نہیں ہوتے۔

اس تناظر میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کی زینت بننے والا یہ بیان توجہ کا مرکز بن گیا جس میں وفاقی اداروں کی مداخلت پر وزیر اعظم کے روبرو شدید اعتراضات اٹھائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا استدلال یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی ان کے علم میں لائے بغیر کی گئی، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کو کراچی میں4 معاملات ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی اور بھتہ خوری کے خاتمے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ بہر حال اگر ایپکس کمیٹی موجود تھی اور اب بھی ہے تو سندھ کی صورتحال پر سنجیدگی کے ساتھ اسی کمیٹی کا اجلاس سارے قضیہ کا حل نکال سکتا ہے۔

مگر ارباب اختیار اس حقیقت کا ادراک کریں کہ کراچی اور سندھ کو آپریشن کے اصل ہدف سے ہٹانا سنگین غلطی ہو گی۔ کرپشن کے خاتمہ پر سندھ حکومت سمیت سارے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اتفاق کرنا چاہیے۔