کیا برصغیر ایٹمی جنگ کی طرف جا رہا ہے
بھارت کا حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر اپنی پالیسیاں تھونپنے کی کوشش کرتا رہا
GAZA CITY:
بھارت کا حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر اپنی پالیسیاں تھونپنے کی کوشش کرتا رہا اور اسے اس حوالے ہمیشہ کامیابی بھی حاصل ہوتی رہی۔ جب بھی دونوں ملکوں میں مذاکرات کا کوئی پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے بھارت کی اولین شرط یہ ہوتی ہے کہ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر شامل نہ ہو، اگر بالفرض محال کسی مذاکرات میں مسئلہ کشمیر کو شامل کرنا پڑا تو بھارتی وفد کا موقف یہ ہوتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، لہٰذا کشمیر پر بات نہیں ہو سکتی۔ پچھلے دنوں روس کے شہر اوفا میں جو دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات طے کی جا رہی تھی تو بھارت کی یہی ضد تھی کہ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کا ذکر ہی نہ آئے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنی روایتی نرم پالیسی کی وجہ سے بھارت کی یہ شرط قبول کر لی۔ اوفا کی ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر کوئی بات نہ ہو سکی۔ بھارت کی یہ پالیسی نہ اخلاقیات کے زمرے میں آتی ہے نہ بین الاقوامی قوانین سے اس کا کوئی تعلق بنتا ہے، یہ سرے سے طاقت کی پالیسی ہے، جسے مہذب دنیا مسترد کرتی ہے کہ طاقت کی برتری کا اصول اصل میں جنگل کے قانون کا نام ہے۔
اوفا میں یہ طے ہوا تھا کہ اوفا ملاقات کے فالو اپ میں دونوں ملکوں کے مشیر ملاقات کریں گے۔ جب دونوں ملکوں کے مشیروں کی ملاقات طے کی جانے لگی تو بھارتی حکمران طبقے نے وہی رٹ لگائی کہ اس ملاقات میں بھی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں ہو گی۔ یہ ایک غیر اخلاقی غیر اصولی موقف تھا جسے پاکستان نے مسترد کر دیا اور پرزور مطالبہ کیا کہ اس ملاقات یا مذاکرات میں مسئلہ کشمیر نہ صرف شامل ہو گا بلکہ ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔ پاکستان کی یہ گستاخانہ شرط بھارت کو اس قدر ناگوار گزری کہ اس نے ان مذاکرات ہی کو منسوخ کر دیا۔ اس آمرانہ حرکت پر خود بھارت کے اندر زبردست تنقید ہونے لگی۔
ہندوستان ٹائمز کا شمار بھارت کے صف اول کے اخباروں میں ہوتا ہے، ہندوستان ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''مودی حکومت کی اس پالیسی سے صرف زہریلے اثرات مرتب ہوں گے۔'' پاکستانی وفد کا کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کا مطالبہ ایک اصولی اور فطری مطالبہ تھا جسے بھارتی حکومت ماننے کے لیے تیار نہ تھی۔ ٹائمز نے اس اداریے میں یہ منطقی سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان صرف اپنے اوپر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزامات سننے کے لیے مذاکرات میں شرکت کرے گا؟ ہندوستان ٹائمز نے مودی حکومت کو یہ وارننگ بھی دی کہ اگر مودی حکومت نے کوئی عاقبت نااندیشانہ کارروائی کی تو بھارتی طیاروں کے کمانڈروں کا واپس آنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ ٹائمز نے مودی حکومت کی پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مودی کی پالیسیوں سے پاکستان میں بھارت کے مخالفین کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ٹائمز مزید کہتا ہے کہ اگر بھارت دہشت گردی کے کسی واقعے پر امریکا یا عالمی برادری سے رجوع کرتا ہے تو اسے یہی جواب ملے گا کہ اگست میں سیکریٹری خارجہ کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کس نے اور کیوں منسوخ کیے؟
پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی ہٹ دھرمی کے جواب میں غیر روایتی جرأت مندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی ایسے مذاکراتی عمل کا حصہ نھیں بنے گا جس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر شامل نہ ہو۔ پاکستان کا یہ موقف اصولی بھی ہے اور اخلاقی بھی لیکن طاقت کی برتری کے گھمنڈ میں مبتلا بھارت کا حکمران طبقہ پاکستان کی اس حوالے سے کوئی جائز بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے برخلاف مودی سرکار بھارتی آئین سے وہ شق نکالنے کی ضد کر رہی ہے جس میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے، اس سے مودی حکومت کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔
مسئلہ کشمیر کا تعلق اب صرف کشمیری عوام سے نہیں رہا بلکہ اس کے حل ہونے یا نہ ہونے کے اچھے برے اثرات کا تعلق دونوں ملکوں اور جنوبی ایشیا کے رہنے والے عوام سے ہو گیا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت کا حکمران طبقہ پنڈت نہرو سے لے کر نریندر مودی تک یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ کشمیر نہ صرف اس پورے خطے کے بہتر یا بدتر مستقبل سے وابستہ ہے بلکہ دونوں ملکوں کے ایٹمی ملک بن جانے کے بعد اس خطے میں ایک تباہ کن ایٹمی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ حکام کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ایٹمی ہتھیار گلی ڈنڈا کھیلنے کے لیے نہیں بنا رکھے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ بھارت کے عقل سے پیدل مہاشے ان خطرناک بیانات کے مضمرات سے واقف ہوں گے۔ بدقسمتی سے بھارتی عوام نے اس بار الیکشن میں ایک ایسی کٹر مذہبی انتہا پسند جماعت کو اپنا مینڈیٹ دیا ہے جو اپنی مذہبی انتہا پسندی میں انسانی قدروں اور ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
ہمیں حیرت ہے کہ اس انسانی جائز حقوق کے مسئلے پر بھارتی دانشور طبقہ کیوں زبان بند کیے بیٹھا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہندوستان سے جو افراد یا وفود دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارہ اور محبت کے فروغ کے لیے پاکستان آتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا صاف گو اور مستقبل پر نظر رکھنے والا نظر نہیں آتا جو کشمیر کے مسئلے کو دونوں ملکوں اور جنوبی ایشیا کے لگ بھگ دو ارب عوام کے بہتر مستقبل کے تناظر میں دیکھ کر اس کے منصفانہ اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل پر زور دیں۔
حالیہ مذاکرات کی منسوخی کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، دونوں ملکوں کے درمیان ڈیڈ لاک توڑنے کی اس کوشش میں ناکامی دونوں ملکوں کو کس خطرناک راستے پر لے جا سکتی ہے اس کا اندازہ مشکل نہیں۔