کراچی آپریشن منطقی انجام کا منتظر

بادی النظر میں کراچی آپریشن اس قومی اتفاق رائے کا ایک استعاراتی مظہر ہے جو قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی بنیاد ہے


Editorial September 03, 2015
مزید برآں قوم کو جمہوری ثمرات، شفاف انتظامی اور معاشی ریلیف دلانے میں بھی جوش عمل درکار ہے۔ فوٹو: فائل

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ بھتہ خوروں اور دہشتگردی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔کراچی آپریشن پر کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور آپریشن کو مصلحتوں سے پاک رہ کر جاری رکھا جائے گا کیونکہ آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کیا جا رہا ہے یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق پاک فوج کے سربراہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم نوازشریف سے تفصیلی ملاقات کی جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملکی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت نے دہشت گردی اور اس سے منسلک جرائم اور لاقانونیت کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے کراچی آپریشن کو ہر قسم کی مصلحت اور دباؤ سے آزاد رکھتے ہوئے جاری رکھنے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ ملکی نظام اور ریاستی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

بادی النظر میں کراچی آپریشن اس قومی اتفاق رائے کا ایک استعاراتی مظہر ہے جو قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی بنیاد ہے، وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے اعلان واضح ہے کہ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ جرائم پیشہ اور دہشتگردی میں ملوث عناصر کے خلاف ہے۔

ظاہر ہے ایسی صورتحال میں اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کسی قسم کا دباؤ قبول نہ کرنے کا پختہ ارادہ عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی ہے۔ بدامنی اور دہشتگردی کے ساتھ کرپشن کی آمیزش سماجی ترقی اور انتظامی شفافیت کے عمل کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس باب میں سیاسی مین اسٹریم جماعتوں کو کسی تذبذب کا شکار نہیں رہنا چاہیے کہ کرپشن اور دہشتگردی میں گٹھ جوڑ کے خاتمہ پر پوری قوم متفق ہے۔

یہ عارضی مقاصد کے حصول کے لیے محض حکومتی اتفاق رائے سے بڑھ کر قومی سلامتی کے بنیادی اہداف کے لازمی حصول کی جنگ ہے، جو قوم کو ہر حالت میں جیتنی ہے جب کہ ملکی سیاسی اور عسکری افق پر صورتحال تاحال جدوجہد اور انتہا پسند قوتوں سے نبرد آزما رہنے کا تقاضہ کرتی ہے، ایک طرف فاٹا ، بلوچستان ، پنجاب اور سندھ کو ابھی دہشت گرد گروپوں اور کرپشن سے پاک کرنا ہے، دوسری جانب دھرنوں کے پھر سے پیدا شدہ امکانی منظرنامہ سے نمٹنے ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے نتیجہ خیز مفاہمت و سیاسی مکالمہ کی کامیابی ، مختلف انتظامی و انتخابی اصلاحات ، عدالتی احتساب اور بدامنی میں ملوث افراد اور کالعدم تنظیموں سے حکومت کا چومکھی لڑائی لڑنا وہ حقائق ہیں جن کا ادراک سیاسی سواد اعظم کو جلد کرنا چاہیے۔

تاکہ دیر نہ ہوجائے، جمہوریت سے عوام کو ڈھیر ساری توقعات ہیں، وہ خاک بسر نہیں ہونی چاہئیں۔ جمرود میں خود کش دھماکا سب کے لیے چشم کشا ہے، اسی طرح امریکی ڈرون حملہ بھی تشویشناک صورتحال کا عکاس ہے ، شمالی وزیرستان میں بمباری جاری ہے، 13 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، ادھر بھارتی آرمی چیف نے بڑھک ماری کی ہے کہ پاکستان سے مختصر جنگ ہوسکتی ہے بھارتی فوج تیار رہے۔

میڈیا کی اطلاع کے مطابق وفاقی حکومت کی ایک درخواست جو سندھ میں گرفتاریوں کا عمل سست کرنے سے متعلق تھی مسترد کردی گئی اور سندھ رینجرز کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ وہ گرفتاریوں اور آپریشن کا عمل سست نہیں کرسکتی، رینجرز حکام کا صائب استدلال ہے کہ مجرموں کے خلاف گھیرا تنگ ہوچکا، اس مرحلہ پر رعایت سے آپریشن متاثر ہوگا ، قبل ازیں دوطرفہ ہائی پروفائل ملاقات میں کراچی آپریشن اور ضرب عضب پر بھی بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر فاٹا میں تعمیر نو اور شوال میں زمینی آپریشن سے متعلقہ امور بھی زیر بحث آئے۔ آرمی چیف نے وزیر اعظم کو امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس اور جرمن وزیر خارجہ سے ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں ملاقات میں افغانستان میں امریکی سفیر اور امریکی صدر کے معاون خصوصی برائے جنوبی ایشیاء پیٹر لیووئے سے ملاقاتوں کے تناظر میں افغان امن عمل میں ممکنہ پیشرفت کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پاک بھارت سلامتی مشیروں کی ملاقات کی منسوخی اور نئی دہلی میں ڈی جی رینجرز اور بی ایس ایف کے درمیان ملاقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

ملاقات میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے بارے میں امور بھی زیر غور آئے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ایک امریکی جریدہ ''نیشنل انٹرسٹ '' نے کچھ روز قبل اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاک فوج نے کراچی کی رونقیں لوٹا دیں ، جریدہ کے مطابق فوج کے آپریشن سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا گراف گر رہا ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 2006 ء کے بعد سے دہشت گرد حملوں میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی یہ تعداد سب سے کم ہوجائیگی، یہ وہ سال تھا جب طالبان عسکریت پسندوں نے ملک بھر میں اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اب ضرورت ملک بھر میں دہشتگردی اور بدامنی اور کرپشن کے خاتمہ ، معاشی ریلیف مہیا کرنے اور مقتدر سیاسی رہنماؤں کے مابین ملکی سالمیت کے تحفظ پر سیاسی ہم آہنگی کی ہے۔ مزید برآں قوم کو جمہوری ثمرات، شفاف انتظامی اور معاشی ریلیف دلانے میں بھی جوش عمل درکار ہے۔