بچوں کی اخلاقی تربیت کی ضرورت

بچوں کی تربیت میں کہیں تو کوئی لاپرواہی اور سقم ہے جو ان واقعات کا باعث بن رہا ہے۔


Editorial September 03, 2015
نوعمر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر فلٹر لگانے کے ساتھ ان کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آسکیں، فوٹو : فائل

کراچی کے علاقے پٹیل پاڑہ کے ایک نجی اسکول میں میٹرک کے طالب علم کی ساتھی طالبہ کو گولی مار کر خودکشی کے واقعے نے نہ صرف شہریوں کو مغموم بلکہ قوم کے لیے اخلاقیات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

کم عمری کی محبت کے اس ہولناک انجام کا ذمے دار کوئی ایک محرک قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ 15-16سال کے یہ نوخیز بچے اس انتہائی اقدام تک جانے کی ہمت کیسے کر پائے، نیز والدین کی لاپرواہی، میڈیا اور بے لگام انٹرنیٹ کے اخلاقی زوال اور کم عمری میں ہی بچوں کو موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے سے روابط بڑھانے کی آزادی اس طرح کے واقعات کو بڑھانے میں مہمیز کا کردار ادا کر رہی ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس میں محبت میں ناکامی پر خودکشی یا جنس مخالف کو قتل کرنے کے واقعات میڈیا پر رپورٹ ہوئے۔ آخر محرکات کیا ہیں؟ کیوں نئی پود میں تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں عشق و محبت کے جراثیم پروان چڑھ رہے ہیں؟ وہ بچے جو محبت کے صحیح مفہوم سے واقف نہیں، ناکامی کے خوف سے کیوں اپنے جان کے درپے ہوجاتے ہیں؟ بچوں کی تربیت میں کہیں تو کوئی لاپرواہی اور سقم ہے جو ان واقعات کا باعث بن رہا ہے۔

مذکورہ واقعے میں دونوں مخلوط تعلیمی ماحول میں ساتھ پڑھ رہے تھے، نیز ٹیوشن بھی ساتھ لیتے تھے، دونوں کا ایک ہی وین میں اسکول آنا جانا ہوتا تھا۔ اس طرح کے واقعات معاشرے اور والدین کے لیے الارم ہیں، ہمیں اپنے بچوں کی اخلاقیات پر توجہ دینی ہوگی۔ انٹرنیٹ پر بچوں کے باآسانی روابط اور میڈیا و غیر ملکی فلمیں جس میں جواں جوڑوں کو عشق و محبت کی پینگیں بڑھاتے دکھایا جاتا ہے، خاص عمر تک بچوں کو اس ماحول سے دور رکھنا ہوگا۔

والدین اور اساتذہ کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ بچوں کی اخلاقیات پر نظر رکھیں، بچوں کے اذہان اس لائق نہیں ہوتے کہ وہ ان معاملات کے مضمرات سے آگاہ ہوسکیں، یہ ہماری ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت میں صحیح اور غلط کی پہچان شامل کریں۔

کشاکش روزگار اور دیگر مصروفیات کے باعث والدین اور بچوں کے درمیان دوری بچوں کی تربیت میں کجی کا باعث بن رہی ہے، والدین بچوں کو زندگی کی آسائشیں مہیا کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا فرض بخوبی نبھا رہے ہیں جب کہ یہاں ''کھلاؤ سونے کا نوالہ، دیکھو شیر کی نگاہ سے'' والے مقولے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ نوعمر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر فلٹر لگانے کے ساتھ ان کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آسکیں۔