حفیظ پیرزادہ ہم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے

عبدالحفیظ پیرزادہ 1973ء کا آئین تحریر کرنے والے 3 اہم قانون دانوں میں شامل تھے


Editorial September 03, 2015
جوڈیشل کمیشن میں تحریک انصاف کی نمایندگی ان کاآخری کیس تھا۔ کیا بہتر ہوتا کہ مرحوم اپنی بیش بہا یادداشتیں رقم کرتے۔فوٹو : فائل

معروف قانون دان اور 1973ء کے آئین کے مصنف عبدالحفیظ پیرزادہ لندن میں انتقال کرگئے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے، ان کی عمر 80 سال تھی ،1941 ء میں پیدا ہوئے، علم سیاسیات میں ماسٹر کیا اوران کا تھیسس سوویت یونین اور اشتراکیت کے عروج کے موضوع پر تھا۔

اس کے بعد جامعہ کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ سابق وزیراعلیٰ سندھ عبدالستار پیرزادہ کے فرزند تھے، مرحوم پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے ، انھیں ذوالفقار علی بھٹو کا قریبی ساتھی بھی سمجھا جاتا تھا، انھیں 1973ء کے متفقہ جمہوری اور وفاقی آئین کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل تھا۔عبدالحفیظ پیرزادہ 1973ء کا آئین تحریر کرنے والے 3 اہم قانون دانوں میں شامل تھے، انھوں نے اہم نوعیت کے کئی آئینی کیسز کی پیروی کی۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1973ء سے 1977ء تک وزیر قانون رہے۔77 ء میں تین ماہ کے لیے وزیر خزانہ بنے، جنرل ضیاء کے دور اقتدار میں انھوں نے بھٹو کا کیس بھی لڑا اور یحییٰ بختیار کی سربراہی میں وکلاء ٹیم کے ساتھ رہے، بھٹو اور پی این اے کی جماعتوں سے بات چیت میں وہ تین رکنی ٹیم کے رکن تھے۔ 17ستمبر1977 ء میں انھیں بھٹو اور ڈاکٹر مبشر حسن کے ساتھ گرفتار کیا گیا، حال ہی میں وہ 2013 ء کے انتخابی دھاندلی کیس میں تحریک انصاف کے وکیل تھے۔

مقدمہ کی سماعت کے دوران انتخابی عمل اور ووٹنگ پروسیس میں خرابیوں کی نشاندہی میں وہ دلچسپ اور فکر انگیز نکات بطور نظیر اپنے دلائل میں پیش کرنے کی زبردست مہارت رکھتے تھے جنہیں فاضل ججز نے اکثر سراہا، وہ عدالتی امور اور آئینی نکات و مسائل پر بولنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے، انتہائی وجیہہ اور خوبصورت طرز گفتگو کے حامل شخص تھے۔

پارلیمنٹ میں ان کی تقاریر سنجیدگی سے سنی جاتی تھیں، 73 ء کے آئین کی منظوری میں حفیظ پیرزادہ نے انتھک کوششیں کیں ، اور بھٹو مخالف سیاست دانوں کو اس کی منظوری کے لیے آمادہ کرنے کا ذمے ان کے سر تھا۔ لیاری میں انھوں نے بھٹو کے ساتھ پہلی جمہوری انٹری دی اور وزارتوں کے حصول کے بعد گبول پارک میں جھاڑو دینے کی عوامی مہم میں حصہ لیا، جمہوری جدوجہد اور آزادی اظہار و آزادی صحافت کے پر جوش حامی تھے۔ جوڈیشل کمیشن میں تحریک انصاف کی نمایندگی ان کاآخری کیس تھا۔ کیا بہتر ہوتا کہ مرحوم اپنی بیش بہا یادداشتیں رقم کرتے۔