کیا یہ مغرب کی کوئی سازش تو نہیں
سادہ لوحی اچھی عادت مانی جاتی ہے لیکن جب یہ حد سے زیادہ ہوجاتی ہے تو بڑی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
PESHAWAR:
انسان اور حیوان دونوں ہی کے سر میں دماغ ہوتا ہے اور جدید تحقیق کے مطابق اس چھوٹے سے دماغ میں 3 ارب کے لگ بھگ خلیات پائے جاتے ہیں جو مختلف ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں۔
عقل و فہم، غور و فکر بھی ان ڈیوٹیاں میں سے ایک ڈیوٹی ہے، جانوروں کے سروں میں بھیدماغ ہوتا ہے لیکن فطرت نے جانوروں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کر رکھا ہے، جانوروں کے منہ میں بھی زبان ہوتی ہے بلکہ انسانوں کی زبان سے بہت بڑی ہوتی ہے لیکن وہ بول نہیں سکتے، انسان اور حیوان کے درمیان اسی فرق کی وجہ سے انسان حیوان کے مقابلے میں اعلیٰ درجے پر فائز ہے اور اپنے سر پر اشرف المخلوقات کا تاج لگائے ہوئے ہے۔ انسان جب فطرت کی عطا کی ہوئی عقل و فہم کو استعمال نہیں کرتا یا اس کا استعمال منفی انداز میں کرتا ہے تو اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
سادہ لوحی اچھی عادت مانی جاتی ہے لیکن جب یہ حد سے زیادہ ہوجاتی ہے تو بڑی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس حد سے بڑی ہوئی سادہ لوحی کا شکار ہیں۔ ہماری اس سادہ لوحی کی وجہ سے عقل و فہم کا استعمال ہم آٹے میں نمک کی طرح کرتے ہیں۔ اسی 'خوبی' کی وجہ سے اہلِ عقل ہمیں جس طرح چاہیں استعمال کرتے ہیں۔
پچھلے دنوں امریکا کے کچھ پاجیوں نے ایک گستاخانہ فلم بنائی، اس کا ردعمل مسلم دنیا میں اتنا شدید ہوا کہ پورے عالمِ اسلام میں ایک بھونچال آگیا۔ کیا بچّے، کیا بڑے، کیا عورت، کیا مرد، کیا بوڑھے، کیا جوان سب سڑکوں پر نکل آئے اور ابھی تک سڑکوں پر ہیں۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنا مذہب اور اپنے مذہبی اکابرین کی حرمت کا بڑا پاس ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم میں یہ احساس زیادہ شدید ہے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اس شدّت احساس میں اگر ہم بینکوں کو لوٹنا، سنیماؤں کو اور دکانوں، بازاروں، گاڑیوں کو جلانا شروع کرتے ہیں تو پھر مذہب اور مذہبی اکابرین سے ہماری محبت بے لگام اور عقل و فہم سے عاری ہوجاتی ہے۔
ہماری اس سادہ لوحی یا نری جذباتیت کا اندازہ عقل و فہم رکھنے والی قوموں کو اچھی طرح ہے اور وہ وقفے وقفے سے ہماری سادہ لوحی اور مذہبی عقیدت کا شکار کرتے رہتے ہیں۔ ابھی ابھی اہلِ عقل نے ہماری سادہ لوحی کو روس کے خلاف بڑی کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ ضیاء الحق نے اس کام میں امریکا کی بڑی مدد کی۔
گستاخانہ فلم کے خلاف ہمارا احتجاج جاری ہے۔ آج میرے ذہن میں رہ رہ کر یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں مسلمانوں کے مذہب اور مذہبی اکابرین کے خلاف جو گستاخانہ حرکتیں کی جاتی ہیں، کیا وہ شیطان صفت انسانوں کی ذاتی اور انفرادی شیطانیت ہے یا اس کے پیچھے کوئی منظم اور گہری سازش ہے؟ افغانستان کی جنگِ آزادی کو حیرت انگیز طریقے سے پاکستان کے بے گناہ عوام کے قتلِ عام کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے۔ افغانستان سے روس کو نکالنے میں امریکی شاطروں نے ہماری اس سادہ لوحی کو استعمال کیا۔ کیا افغانستان کی جنگِ آزادی کو خود مسلمانوں کے قتلِ عام میں بدل دینا امریکا کی ایک گہری اور کامیاب سازش کا حصّہ تو نہیں۔ افغانستان سے روس کو نکالنے میں اسامہ بن لادن اور ضیاء الحق کی سادہ لوحی کو استعمال نہیں کیا جارہا ہے؟
گستاخانہ فلم نے ساری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کو مشتعل کردیا ہے، ان کی ساری توجہ اسی طرف لگی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی مجموعی آبادی دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصّہ ہے۔ مسلم ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، مسلم ملکوں میں بے پناہ قدرتی وسائل کو استعمال میں لایا جائے تو مسلم ممالک دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں۔ مسلم ملکوں سے بھوک، افلاس، بے روزگاری، جہالت جیسی لعنتوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن اس افرادی قوت کے استعمال، اس بے بہا قدرتی وسائل کو کام میں لانے کے لیے عقل و فہم، علم و دانش کی ضرورت ہے، جس کا مسلم ملکوں میں قحط ہے۔
غور و فکر، اظہار پر کفر و الحاد کے پہرے لگادیے گئے ہیں۔ سوچنے سمجھنے اور تحقیق و ایجاد کے سروں پر انتہا پسندی کی تلواریں لٹک رہی ہیں۔ اہلِ عقل، اہلِ دانش اپنی جانوں کی خیر منارہے ہیں۔ اسی خوف و دہشت سے گھبرا کر ملک کے باصلاحیت لوگ دوسرے ملکوں کو بھاگ رہے ہیں، جن کا فائدہ دوسرے ملکوں کو حاصل ہورہا ہے۔
جدید علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، خلائی فتوحات نہ ہندو ہوتی ہیں، نہ مسلمان، نہ سکھ، نہ عیسائی، نہ شیعہ، نہ سنّی، نہ انھیں کوئی مسلم ماں جنم دیتی ہے، نہ یہ کسی ہندو سکھ عیسائی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ساری ترقیاں یہ ساری فتوحات عقل و فہم فکر و آزادیٔ اظہار کی سیکولر ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہیں۔ جن معاشروں میں اس سیکولر ماں کو بانجھ بنا کر رکھ دیا جاتا ہے، جن معاشروں میں عقل، فہم، علم و دانش، فکر و اظہار، بارودی گاڑیوں، ٹائم بموں، خودکش حملوں کی دہشت میں مبتلا ہوں۔ ایسے معاشرے، پاکستان کے حبس زدہ معاشرے میں ، پہلی بار میڈیا نیند سے بیدار ہورہا ہے۔
اگرچہ میڈیا نے ابھی تک عقل و فہم، فکر و اظہار، تحقیق و ایجاد کے راستوں پر چلنا شروع نہیں کیا۔ اگرچہ یہ شعبہ ابھی تک نیم دروں، نیم بروں والی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اگرچہ اب تک عقل و دانش، فکر و اظہار کے لیے اس کے پاس وقت نہیں لیکن اس نیم خوابیدہ میڈیا کو بھی ہماری شدّت پسندی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، اسے وارننگیں دی جارہی ہیں، اس کے کارکنوں کی ہٹ لسٹیں تیار ہورہی ہیں اور ان گستاخوں کے لیے موت کی سزائیں تجویز ہورہی ہیں۔
امریکا کو جب سوشلزم سے خطرہ محسوس ہوا تو اس نے مسلم ملکوں میں سوشلزم کو لادینیت قرار دے کر قابلِ گردن زدنی ٹھہرایا۔ جب اس نے انسانوں میں معاشی انصاف کی راہ ہموار کرنے والے اس نظام کا تیا پانچا افغانستان میں کروایا تو مسلم ملکوں میں اب اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ جدید علوم، عقل و فہم، فکر و اظہار کی آزادی ہے۔ یہ ساری آزادیاں سیکولر ازم کے پیٹ ہی سے پیدا ہوتی ہیں اور مسلم دنیا میں سیکولر ازم ہی قابلِ گردن زدنی گناہ بن گیا ہے یا بنادیا گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا محافظ امریکا مسلم ملکوں کے وسائل پر اپنا قبضہ ہر قیمت پر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مسلم ملکوں میں آزادی فکر و اظہار کو دبانے کے لیے مذہبی انتہاپسندی کی پشت پناہی ضروری ہے۔ کیا گستاخانہ فلمیں، گستاخانہ خاکے، سیکولر ازم کے خلاف جہاد کہیں اسی سرمایہ دارانہ سازش کا حصّہ تو نہیں۔ کیا فکر و اظہار کی آزادی کا علمبردار مغرب، مسلم دنیا کے وسائل کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے فکر و اظہار کا خون تو نہیں کروا رہا ہے؟