بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے

ڈیری مافیا نےایک بار پھر سرکاری رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کراچی کے لیےتازہ دودھ کی سرکاری قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا ہے


Editorial September 08, 2015
مناسب ہوگا کہ حکومت کسانوں اور فارمرز کو سہولیات اور ریلیف فراہم کرے تاکہ مجموعی طور پر لاگت میں کمی اور مہنگائی کم ہوسکے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: حکومت مہنگائی کے بڑھتے گراف کو نیچے لانے میں مسلسل ناکام ہورہی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 'اونٹ کے منہ میں زیرہ' قسم کی کمی کے اعلانات کیے گئے لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مہنگائی کا جن بے قابو ہورہا ہے اس پر مستزاد منافع خور تاجر بھی سرگرم عمل ہیں اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے من مانی قیمتوں پر اشیائے خور و نوش کی فروخت میں مصروف ہیں، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ڈیری مافیا نے ایک بار پھر سرکاری رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے کراچی کے لیے تازہ دودھ کی سرکاری قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا ہے، شہر میں تازہ دودھ کی سرکاری قیمت 70 روپے فی لیٹر مقرر ہے تاہم شہر بھر میں تازہ دودھ 84 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جارہا ہے، ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور بڑے دکانداروں پر مشتمل ڈیری مافیا نے دودھ کی قیمت میں مزید 6 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد کراچی میں تازہ دودھ کی قیمت90روپے اور اس سے زائد وصول کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کراچی میں تازہ دودھ پٹرول سے زائد نرخ پر فروخت ہورہا ہے، حالیہ اضافے کے بعد دودھ اور پٹرول کی قیمتوں میں فرق مزید بڑھ جائے گا۔

ادھر لاہور ، راولپنڈی اسلام آباد اور پشاور میں دودھ ساٹھ روپے سے 80 روپے فی لیٹر فروخت ہورہا ہے ۔ اس کے علاوہ کسانوں کی جانب سے بھی غذائی اجناس کو ضایع کرکے انوکھا احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔ بلاشبہ زرعی سیکٹر میں اصطلاحات اور ریلیف کسانوں کا حق ہے جو حکومت مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے، نیز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دنوں کے حساب سے اتار چڑھاؤ اور دیگر محرکات بھی کسانوں و ڈیری فارمرز کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

مینوفیکچرنگ میں لاگت بڑھنے سے لامحالہ پروڈکٹ کی قیمت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ لیکن احتجاج کا طریقہ کار اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے من مانی قیمتوں کا حصول راست اقدام نہیں۔ مہنگائی کے اثرات براہ راست عوام پر پڑتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ حکومت کسانوں اور فارمرز کو سہولیات اور ریلیف فراہم کرے تاکہ مجموعی طور پر لاگت میں کمی اور مہنگائی کم ہوسکے۔