سورج مکھی کی سیاست

2008 کے بعد پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے مفاہمت کے جس فلسفے کو متعارف کرایا تھا


Zaheer Akhter Bedari September 10, 2015
[email protected]

سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں دوستی، دشمنی، حمایت اور مخالفت نہ اصولوں کے حوالے سے ہوتی ہے نہ اخلاقیات کا اس میں کوئی دخل ہوتا ہے یہ مفادات باہمی کا ایک ایسا رشتہ ہے جو کچے دھاگے کی طرح ایک معمولی جھٹکے پر ٹوٹ جاتا ہے۔

2008 کے بعد پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے مفاہمت کے جس فلسفے کو متعارف کرایا تھا اس کی بنیاد بھی مفادات باہمی پر رکھی گئی تھی۔

اس غیر تحریری مفاہمت کے پیچھے یہ مقصد کارفرما تھا کہ مسلم لیگ (ن) مرکز میں پیپلزپارٹی کے لیے کسی قسم کی مشکلات نہیں پیدا کرے گی اور جواباً پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اطمینان سے کام کرنے کا موقع فراہم کرے گی، چنانچہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے مفادات تحفظ کی خاطر ایک دوسرے سے جڑے رہے اس پالیسی کو مفاہمت کی پالیسی کا نام دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان اگر رسہ کشی کی جگہ تعاون کا کلچر پیدا ہوتا ہے تو یہ ایک خوش آیند بات ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ مفاہمت کی بنیاد کیا ہے اور اس فلسفے سے عوامی مفادات کا کتنا تعلق ہے؟

اس حوالے سے اگر ہم ان دونوں جماعتوں کی مفاہمتی پالیسی کا جائزہ لیں تو اس میں عوامی مفادات کو تلاش کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے اہم قومی مسائل ہیں۔

نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام سب سے اہم مسئلہ ہے جو ہماری سیاسی سماجی اور اقتصادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اس مفاہمتی سیاست میں زرعی اصلاحات شامل ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں آتا ہے کیونکہ اس غیر تحریری رشتے میں زرعی اصلاحات کا سرے سے ذکر ہی نہیں۔ ہمارے اہم قومی مسائل میں دہشت گردی ایک اہم قومی مسئلہ ہے لیکن اس مفاہمتی فلسفے میں دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی ذکر نہیں ۔

ہمارے انتہائی اہم عوامی مسائل میں بے لگام مہنگائی ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کے 18 کروڑ عوام شکار ہیں۔ کیا اس مفاہمتی فارمولے میں مہنگائی ختم کرنے کی کوئی شق ہے؟ اس کا جواب بھی نفی میں آتا ہے۔ ہمارے اہم ترین عوامی مسائل میں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ بھی ایک اہم ترین قومی مسئلہ ہے۔

کیا اس مفاہمتی فارمولے میں بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا کوئی ذکر موجود ہے؟ اس کا جواب بھی نفی ہی میں آتا ہے۔ ہمارے قومی اہم مسائل میں کرپشن ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ کیا کرپشن ختم کرنے کی کوئی بات مفاہمتی سیاست میں شامل ہے؟ اس کا جواب بھی نفی ہی میں آتا ہے۔ عوام کے انتہائی اہم مسئلوں میں تعلیم اور علاج سے عوام کی محرومی ایک انتہائی تشویش ناک مسئلہ ہے کیا اس مفاہمتی فارمولے میں یہ مسئلہ شامل ہے؟ اس کا جواب بھی نفی ہی میں آتا ہے۔ ہمارے عوامی مسائل میں بے روزگاری ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ کیا اس مفاہمتی سیاست میں یہ مسئلہ شامل ہے؟ اس کا جواب بھی نفی ہی میں آتا ہے۔

ان تلخ حقائق کے پس منظر میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے کہ اس مفاہمتی سیاست کا پس منظر کیا ہے مقاصد کیا ہیں؟ اس کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ مفاہمتی پالیسی کی عمارت مفادات باہمی کی بنیادوں پر کھڑی ہوئی ہے اور بورژوا سیاست میں سیاسی مفادات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

آج پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ''انتقامی سیاست کے بھیانک نتائج نکلیں گے اور نواز شریف نے سندھ حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔'' زرداری یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ''نواز شریف 1990 کی سیاست دہرا رہے ہیں؟'' آج زرداری یہ سوال کیوں کر رہے ہیں کہ ''مجسٹریٹ کے سامنے ن لیگ کی قیادت کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کرنے والے شخص کے خلاف احتساب ہونا چاہیے۔'' آج زرداری یہ سوال کیوں کر رہے ہیں کہ ''کیا ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہ افراد کو مارنے والے دہشت گرد نہیں ہیں؟''

آج شہباز شریف اور چوہدری نثار میاں نواز شریف کو یہ مشورہ کیوں دے رہے ہیں کہ وہ بلیک میل نہ ہوں اور کرپشن کے خلاف ڈٹے رہیں۔ آج مسلم لیگ (ن) کے ایک وزیر عبدالقادر بلوچ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ''پیپلز پارٹی اگر جنگ چاہتی ہے تو بسم اللہ ہم تیار ہیں؟'' ہم نے ابتدا میں اس حقیقت کی نشان دہی کردی تھی کہ بورژوا سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس کا چہرہ وقت کے ساتھ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے۔

2008 سے 2013 تک پی پی پی اور مسلم لیگ کا مشترکہ مفاد یہ تھا کہ پی پی پی مرکز میں اطمینان کے ساتھ ''اپنا کام'' کرتی رہے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو ''اپنے کام'' کی مکمل آزادی ہو۔ بدقسمتی سے اب صورت حال بدل گئی ہے۔ تحقیقاتی ادارے کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں اور صورت حال کا تماشا یہ ہے کہ اس احتساب کی زد میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی آرہی ہے۔ پی پی پی کی قیادت کا یہ گمان بے بنیاد نہیں کہ اس آپریشن میں مرکزی حکومت کی مرضی بھی شامل ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جس نے مسلم لیگی قیادت کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔

ہم نے کہا ہے کہ جو مفاہمتی فارمولے ایک وقت میں فائدے مند نظر آتے ہیں، وہی دوسرے وقت میں نقصان رساں بن جاتے ہیں۔ جب عمران خان اور قادری نے اسلام آباد دھرنا تحریک شروع کی تو عمران نے یہ مطالبہ کیا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں۔اس مطالبے کے خلاف ملک کی 13 سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں دھرنا دیا جس کی قیادت پیپلزپارٹی کر رہی تھی۔

یہ اتحاد اس لیے ہوا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت 13 جماعتوں کی ضرورت تھی آج وقت نے کروٹ لی ہے اب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نہ صرف ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں بلکہ متحارب بھی ہیں۔ فرض کریں احتساب کا دائرہ پنجاب تک بڑھتا ہے جس کا مطالبہ شدت سے کیا جا رہا ہے تو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے سامنے ہی ہوں گے یا کندھے سے کندھا ملائے کھڑے نظر آئیں گے؟ یہ ہے اشرافیائی سیاست کے کھیل۔ جو سورج مکھی کی طرح اپنا رخ بدلتی رہتی ہے۔

مقبول خبریں