کیا بورڈ سے’’بزرگوں‘‘ کا راج ختم ہوگا

میڈیا ڈپارٹمنٹ کا جو حال ہے وہ سب جانتے ہیں، بیچارے امجد حسین بھٹی اپنی کوشش تو کر رہے ہیں مگر کامیابیاں نہیں مل رہیں


Saleem Khaliq September 10, 2015
میڈیا ڈپارٹمنٹ کا جو حال ہے وہ سب جانتے ہیں، بیچارے امجد حسین بھٹی اپنی کوشش تو کر رہے ہیں مگر کامیابیاں نہیں مل رہیں:فوٹو فائل

2011 کے اوائل کی بات ہے، نیوزی لینڈ کے شہر نیپیئر کی ٹھنڈی ہوائوں نے اس وقت کے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کا موڈ بھی خاصا خوشگوار کر دیا تھا، ایسے میں گرم چائے نے بھی کام کر دکھایا، عام طور پر سخت انداز اپنانے والے سابق کرکٹر کے لہجے میں بھی گرمجوشی آ گئی، میں نے ایسے میں ان سے ایسا سوال جڑ دیا جو عام طور پر صحافی پوچھتے ہوئے ہزار بار سوچتے کیونکہ سب کو پتا ہے کہ بٹ صاحب کا موڈ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ میں نے پوچھا کہ''آپ بڑے اصول پسند بنتے ہیں مگر جاوید میانداد کو بغیر کسی کام کے ڈائریکٹر جنرل بنایا ہوا ہے وہ ہر ماہ کئی لاکھ روپے وصول کرتے ہیں، فلاں فلاں صاحب بھی شاید کرکٹ چھوڑتے ہی بورڈ میں آ گئے تھے، ان کو بھی کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔''

شاید یہ موسم کا اثر تھا کہ بٹ صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے تلخ بات بھی برداشت کر لی، انھوں نے کہا کہ ''تمہیں علم نہیں ہے کہ پی سی بی میں کتنے قسم کے دبائو ہوتے ہیں، میانداد کا تقرر ۔۔۔۔۔۔'' اس کے بعد ہماری جو باتیں ہوئیں وہ چونکہ آف دی ریکارڈ تھیں اس لیے نہیں لکھ رہا،البتہ میں اس وقت یہ ضرور سوچ رہا تھا کہ اتنا دبنگ انسان بھی بعض معاملات میں کتنا بے بس ہے۔

اب منظر بدلتے ہیں،2012 کی ایک شام اس وقت کے چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے لاہور میں اپنے گھر چائے پر بلایا ہوا تھا، وہاں بھی کھل کر گفتگو ہو رہی تھی، میں نے پھر اپنا پرانا سوال داغا کہ ''جناب آپ کہتے تھے کہ بورڈ میں نئے لوگ لے کر آئوں گا لیکن پرانی شخصیات برقرار ہیں، اس طرح کیسے کوئی تبدیلی آ سکے گی۔''ذکا اشرف نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے جو باتیں بتائیں وہ وہی تھیں جو کچھ عرصے قبل اعجاز بٹ نے کی تھیں، ایسے میں مجھے اندازہ ہوا کہ براہ راست صدر (اس وقت کے پیٹرن انچیف)کی جانب سے تقرر کے باوجود چیئرمین بورڈ بعض ملازمین کے سامنے کتنے بے بس تھے۔

اب موجودہ دور کی بات کرتے ہیں چند روز قبل شہریارخان سے گفتگو ہو رہی تھی، میں نے ان سے پوچھا کہ بورڈ میں رائٹ سائزنگ کی باتیں ہو رہی ہیں کیا واقعی ایسا ہوگا، اس پرانھوں نے نفی میں جواب دیا تھا، مگراب یہ بات طے ہے کہ بھارت سے سیریز نہ ہونے کی وجہ سے جو نقصان ہو گا اس کا ازالہ کرنے کیلیے بورڈ کئی سو ملازمین کو برطرف کرے گا،درپردہ ایک اور شخصیت یہ کام کر رہی ہے، ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ برسوں سے اپنی کرسیوں سے چمٹے ہوئے ہیں وہ کیاآسانی سے چلے جائیں گے؟ کیا اپنے دوستوں کے ساتھ بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات ''ناانصافی'' ہونے دیں گی۔

کئی چیئرمین جس شخصیت کے سامنے آئے اور گئے ان کا عدم ''انتخاب'' چاہنے والے کیسے برداشت کریں گے، کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ ہر بار کی طرح ''چھانٹی'' کی زد میں چند ہزار روپے حاصل کرنے والے غریب ملازمین ہی آئیں گے، ملازمت کو تاحیات سمجھنے والے آفیشلز آرام سے اے سی والے کمروں میں بیٹھے رہیں گے، لگتا تو ایسا ہی ہے، اگر یہ ہوا تو سوائے بددعائوں کے حکام کو کچھ حاصل نہ ہو گا۔

بات عجیب مگر حقیقت ہے کہ پی سی بی میں بزرگوں کا راج ہے، جس عمر میں لوگ پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں یہ کرکٹ سے کھیل رہے ہیں، چیئرمین شہریارخان 81 برس کے ہو چکے جبکہ اصل چیئرمین نجم سیٹھی67 پر ناٹ آؤٹ ہیں، چلیں مراعات کو بھول جاتے ہیں مگر کہنے کو تو یہ دونوں شخصیات اعزازی طور پر کام کر رہی ہیں لہذا ان کے بارے میں مزید بات نہیں کرتے، اب بورڈ نے عندیہ دیا کہ 60 سال سے زائد العمر آفیشلز کو فارغ کر دیا جائے گا، اس وقت ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز انتخاب عالم تقریباً74 سال، سینئر جی ایم کرکٹ آپریشنز شفیق احمد پاپا66 سال، چیف کیوریٹر آغا زاہد 62 سال، قذافی اسٹیڈیم کے گرائونڈز مین حاجی بشیر 76 سال کے ہیں۔

ڈائریکٹر ایچ آر اینڈ ایڈمنسٹریشن بریگیڈیئر (ر)ساجد حمید بھی 60 سے کم کے تو نہیں لگتے،اور تو اور اپنے چیف سلیکٹر ہارون رشید بھی 62سال کے ہیں، اچھا ہوا کہ وہ گیم ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ چکے ورنہ مشکل میں پھنس جاتے، ان کی جگہ سنبھالنے والے ایزد سید کو بعض چاہنے والے افراد ترقی کی مزید منزلیں بھی طے کرانا چاہتے ہیں مگر یہ کام آہستہ آہستہ ہی ہوگا،اسی طرح عثمان واہلہ جس طرح آگے بڑھ رہے ہیں یوسین بولٹ جیسی ایسی ہی اسپیڈ رہی تو جلد انھیں ''ڈائریکٹر'' ہی نہ بنا دیا جائے، سینئر جنرل منیجر اسپیشل پروجیکٹس ندیم سرور ان دنوں عتاب میں آئے ہوئے ہیں، وہ ذکا اشرف کے دور میں عمدگی سے جی ایم میڈیا کے فرائض نبھا رہے تھے مگر چیئرمین کے جانے پر ٹرانسفر ہو گیا۔

اب میڈیا ڈپارٹمنٹ کا جو حال ہے وہ سب جانتے ہیں، بیچارے امجد حسین بھٹی اپنی کوشش تو کر رہے ہیں مگر زیادہ کامیابیاں نہیں مل رہیں،ان کے پاس رضا راشد جیسا محنتی نوجوان تو موجود ہے، ایسے میں انھیں چاہیے کہ ندیم سرور کو میڈیا ڈپارٹمنٹ میں واپس لے آئیں یقیناً اس سے بہتری آئے گی۔

سنا ہے ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز ذاکرخان کو بھی کوئی اور ذمہ داری دینے پر غور ہو رہا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، یہ سب کچھ غلط نہیں ہوگا،پی سی بی میں اس وقت بے کار ملازمین کی بھرمار ہے جنھیں فارغ کیا جانا ضروری ہو چکا مگر مجھے نجانے کیوں اس وقت ایک بزرگ آفیشل کی بات یاد آ رہی ہے کہ '' کئی چیئرمین آئے اور گئے ہمیں کوئی نہیں ہٹا سکا، اب بھی کچھ نہیں ہو گا، چند روز بعد خاموشی چھا جائے گی، بورڈ میں ہم لوگوں کی حکمرانی تاحیات رہنی ہے''