کراچی میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ

آج کا پاکستانی میڈیا وکی لیکس کی روایت کا امین ہے، ہرحقیقت، سارےجھوٹ اورتمام جعلسازیوں کےتانےبانے ٹوٹ پھوٹ سےدوچار ہیں


Editorial September 11, 2015
صحافیوں نے آزادی اظہار اور ریاست کے چوتھے ستون پر حملہ کو جمہوریت اور ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ فوٹو: فائل

کراچی میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ سے صورتحال سنگین ہو گئی اور امن قائم کرنے کے دعوے کی قلعی کھل گئی، 9 روز میں صحافیوں اور اہلکاروں سمیت 20 افراد قتل ہوئے، کیا ملک کے سب سے بڑے اور 2 کروڑ کی آبادی والے گنجان شہر قائد میں دہشتگرد آپریشن ضرب عضب سے توجہ ہٹانے کے لیے چوتھے ستون کو اسی طرح ٹارگٹ کر کے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرتے رہیں گے۔

یہ اہم اور بنیادی سوال ہے۔ شہر قائد خاموش آتش فشاں بننے کو ہے جہاں غیر قانونی اسلحے کی بہتات ہے اور کسی مائی کے لال میں شاید طاقت نہیں کہ مجرمانہ گروہوں اور مافیاؤں سے اسلحے کی بازیابی مہم کو کسی نتیجے پر پہنچائے، قاتل قتل کر کے مصروف ترین علاقوں سے راہ فرار اختیار کر جاتے ہیں، سنیپ چیکنگ،چھاپوں اور محاصروں کے باوجود ٹارگٹ کلرز کا ہدف کو نشانہ بنا کر چمپت ہو جانا کسی بے بسی کا شاخسانہ تو نہیں۔

لہٰذا اندیشہ ہے کہ نامعلوم مسلح افراد، مافیاؤں کے کارندے اور کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد کسی وقت بھی کوئی فتنہ اٹھا سکتے ہیں، صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ دہشت گردی کی ہولناک لہر کی ایک سفاک کڑی ہے جسے روکنے اور چوتھے ستون پر وار کرنے والے ٹارگٹ کلرز کی فوری گرفتاری کے لیے فوری ایکشن ناگزیر ہے۔

آج کا پاکستانی میڈیا وکی لیکس کی روایت کا امین ہے، ہرحقیقت، سارے جھوٹ اور تمام جعلسازیوں کے تانے بانے ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہیں، اس لیے دشمن قوتیں اہل صحافت کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ بدھ کو نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے سینئر صحافی آفتاب عالم اور سٹیلائٹ انجینئر ارشد جعفری سمیت مذہبی جماعتوں کے3کارکنوں کی ہلاکت درد ناک واقعہ ہے۔ اس سے قبل ٹریفک پولیس اہلکار اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا، بتایا جاتا ہے کہ سینئر صحافی اور اہلسنت و الجماعت کے کارکنوں کے قتل میں ایک ہی اسلحہ استعمال کیا گیا۔

دہشت گری کے پے درپے واقعات پر وزیر اعلیٰ سید قائم شاہ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کراچی میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، پشاور کے علاوہ سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ صحافیوں نے آزادی اظہار اور ریاست کے چوتھے ستون پر حملہ کو جمہوریت اور ملکی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ اس واقعے کا ارباب اختیار نوٹس لیں اور قتل و غارت میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچائیں۔