مشیر خارجہ کا وزرائے خارجہ فورم سے خطاب

جب سے بھارت میں انتہا پسند مودی سرکار آئی ہے پاکستان کے خلاف اس کی اشتعال انگیزیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے


Editorial September 14, 2015
عالمی سطح پر جس قدر تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اس کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک فل ٹائم وزیر خارجہ کا تقرر کرے جو پاکستان کے موقف کو بھرپور طور پر واضح کر سکے۔ فوٹو : این این آئی/فائل

PRAGUE: مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ہفتے کو کراچی میں وزرائے خارجہ فورم سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھارتی سرحدی خلاف ورزیوں اور مداخلت کو ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ مودی سرکار آنے کے بعد سرحدی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو گیا، بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا اور دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اس کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں جنھیں اقوام متحدہ میں پیش کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے تاہم یہ برابری کی سطح پر ہوں گے اور جب بھی ہوں گے مسئلہ کشمیر ایجنڈا میں لازمی شامل ہوگا، موجودہ صورت حال میں مذاکرات شروع ہونے کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہیں، پاکستان کی اسٹرٹیجک پالیسی واضح اور شفاف ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے، بھارت سے لڑائی نہیں چاہتے، خطے میں استحکام اور تمام پڑوسی ممالک سے برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں پر کشیدگی کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جب سے بھارت میں انتہا پسند مودی سرکار آئی ہے پاکستان کے خلاف اس کی اشتعال انگیزیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، ایک جانب وہ سرحدوں پر بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کر رہا تو دوسری جانب پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکا کو فراہم کر چکا ہے اب اس نے یہ ثبوت اقوام متحدہ میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے جو مثبت اقدام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ثبوت ملنے کے بعد اقوام متحدہ کا ردعمل کیا سامنے آتا ہے، آیا وہ بھارت کے اس منفی کردار کی مذمت کر کے اس پر دباؤ بڑھائے گی کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں سے باز آ جائے یا وہ روایتی بیان دے کر خاموشی اختیار کر لے گی۔

کیا اقوام متحدہ میں ثبوت پیش ہونے کے بعد بھارتی حکومت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور سرحدی خلاف ورزیوں سے باز آ جائے گی۔ امریکا اور یورپ کے بھارت سے بڑھتے ہوئے تجارتی و دفاعی مفادات اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے باہمی تنازعات کے حل میں طے شدہ بے حسی اور خاموشی کے پیش نظر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ بھارت کے خلاف ثبوت پیش کرنے کے باوجود اقوام متحدہ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ بھارتی حکومت پاکستان کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں سے باز آئے گی۔ بھارت کی اس جارحیت کو عالمی سطح پر اجاگر نہ کرنے میں پاکستانی حکومت کی روایتی تساہل پسندانہ پالیسیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پوری دنیا کے سفیروں کو اکٹھا کر کے پاکستان کے خلاف ایک طوفان برپا کر دیا تھا حتیٰ کہ بعد کے واقعات میں یہ منظر عام پر آیا کہ ممبئی حملے بھارتی ایجنسیوں کا ایک سوچا سمجھا ڈرامہ تھے، دوسری جانب بھارتی سرحدی خلاف ورزیوں اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ٹھوس ثبوت موجود ہونے کے باوجود پاکستانی حکومت بھارت کے خلاف عالمی سطح پر کوئی بڑی مہم نہیں چلا سکی۔

سرتاج عزیز نے حکومت کی تین ترجیحات دہشت گردی کا خاتمہ' معاشی استحکام اور برابری کی سطح پر تمام ممالک سے تعلقات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے تاہم اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔ دوسری جانب نئی دہلی میں پنجاب رینجرز اور بھارتی سرحدی سیکیورٹی فورس کے ڈائریکٹرز جنرل کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو سیز فائر کی خلاف ورزی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی، دونوں ممالک نے ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے، کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مشترکہ تحقیقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سرحدی خلاف ورزیاں روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد بار فلیگ میٹنگز ہو چکی ہیں جن میں بھارتی حکومت ہر بار یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے گی مگر اس نے اس پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا اور ہمیشہ فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے پاکستان کے لیے نئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی۔ جب تک بھارت اپنے روئیے میں تبدیلی نہیں لاتا دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ وزرائے خارجہ فورم سے خطاب میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اس جانب توجہ دلائی کہ پاکستان کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اس لیے اسے ایک فل ٹائم وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔ یہ بات بالکل صائب ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے علاوہ عالمی سطح پر جس قدر تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اس کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک فل ٹائم وزیر خارجہ کا تقرر کرے جو پاکستان کے موقف کو بھرپور طور پر واضح کر سکے۔