ڈنگی اسپرے کے مضر اثرات

یہ حقیقت ایک معمولی ذہانت کا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی بھی زہریلا اسپرے انسانی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے


Editorial September 14, 2015
چاروں صوبوں میں اسکولوں اور اداروں کے سربراہوں اور عملے کو پنجاب میں رونما ہونے والے ان دو واقعات سے سبق لینا چاہیے، فوٹو : فائل

پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے قصبے دو میلی کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں انسداد ڈنگی اسپرے کرنے سے 135 طالبات بے ہوش ہو گئیں۔ اس سے قبل اٹک میں بھی ایسا ہی واقعہ رونما ہو چکا ہے' حیرت ہے کہ کسی نے اٹک میں ہونے والے واقعہ کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے اور ویسی ہی غلطی کا ارتکاب کیا جیسی اٹک میں ہو چکی تھی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول میں شام کے وقت اسپرے کیا گیا اور کمرے بند کر دیے گئے۔اگلی صبح جب طالبات اسکول آئیں اور جیسے ہی کمروں میں داخل ہوئیںتو اسپرے کی بو سے وہ بے ہوش ہونا شروع ہو گئیں۔ اس سارے واقعہ میں غلطی یہ تھی کہ اسپرے کے بعد رات گئے کلاس رومز کے دروازے کھول دیے جانے چاہیں تھے تا کہ ہوا اسپرے کی بو کو باہر نکال دیتی۔ لیکن کسی نے اتنی عقل بھی استعمال نہیں کی۔

سیکریٹری صحت پنجاب کہنا ہے کہ اسپرے میں استعمال ہونے والا کیمیکل بھی محکمہ صحت کی طرف سے منظور شدہ نہیں تھا جس کی وجہ سے اسکول کی طالبات متاثرہ ہوئیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جہلم اور اٹک کے اسکولوں میں انسداد ڈنگی اسپرے سے طالبات کے بیہوش ہونے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ ڈی سی اوز، ای ڈی اوز ہیلتھ، ای ڈی او ایجوکیشن اور ٹی ایم او کو فوری طور پر معطل کرنیکے احکامات جاری کر دیے ہیں جب کہ سیکریٹری اسکولز، سیکریٹری صحت اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو او ایس ڈی بنا دیا جب کہ ڈی جی ہیلتھ سروسز اور ڈی جی انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو معطل کر دیا۔محکمہ تعلیم پنجاب نے تعلیمی اوقات کار کے دوران تعلیمی اداروں میں ڈنگی اسپرے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ادھر تمام ای ڈی اوز ہیلتھ کو واضح ہدایت کر دی گئی ہے کہ ڈنگی اسپرے کرتے وقت طے شدہ طریقہ کار اور SOPs پر سختی سے عمل کیا جائے۔ تعلیمی اداروں اور دیگر پبلک مقامات پر لوگوں کی موجودگی میں ڈنگی اسپرے نہ کرایا جائے۔

مقامی محکمہ صحت کے حکام کی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری عمارت میں انسداد ڈنگی اسپرے نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر اٹک کے علاقے جنڈ میں ڈنگی اسپرے سے متاثرہ مزید گیارہ طالبات کو واپس تحصیل اسپتال لایا گیاتاکہ ان کا علاج کیا جا سکے۔بلاشبہ کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ سرکاری اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ان اقدامات سے یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ پنجاب میں ڈنگی مچھر کی افزائش کا سیزن چل رہا ہے۔ اس موسم میں ڈنگی مچھر سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں لیکن اس کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اعلیٰ سطح سے لے کر نچلی سطح تک ذہانت اور کامن سینس کا اس قدر فقدان پیدا ہو گیا ہے کہ معمولی سوجھ بوجھ کی چیز بھی سمجھ میں نہیں آ رہی۔

یہ حقیقت ایک معمولی ذہانت کا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی بھی زہریلا اسپرے انسانی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے لہٰذا اسپرے کرتے وقت حفاظتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ محض اسپرے کرنا ہی ذمے داری نہیں ہوتی بلکہ اس اسپرے کے نتائج اور عواقب پر غور کرنا اور ان سے عہدہ برآ ہونے کا نام بھی ذمے داری ہوتا ہے۔ بہر حال پنجاب حکومت نے گرفتاریوں اور معطلیوں کے جو اقدامات کیے ہیں ان سے جوابدہی کے عمل کی نشاندہی ہوتی ہے۔چاروں صوبوں میں اسکولوں اور اداروں کے سربراہوں اور عملے کو پنجاب میں رونما ہونے والے ان دو واقعات سے سبق لینا چاہیے اور اپنے اپنے اداروںمیں اسپرے کرنے سے پہلے پورے حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔