تارکین وطن کی ہلاکتیں سرحدیں کھولی جائیں

یونان کے قریب سمندر میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی الٹنے سے 15 بچوں سمیت 34 مہاجرین ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔


Editorial September 15, 2015
سعودی عرب میں شامی پناہ گزینوں کے مسئلے پر ہی بات چیت کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

یونان کے قریب سمندر میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی الٹنے سے 15 بچوں سمیت 34 مہاجرین ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق 68 تارکین وطن کو بچا لیا گیا اور 29 نے خود ہی تیر کر جزیرے کے کنارے پہنچ کر اپنی جان بچائی۔ آسٹرین پولیس کے مطابق بچا لیے گئے ان مہاجرین میں 8 بچے اور 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں، گزشتہ دنوں شامی بچے ایلان الکردی کی سمندر کنارے پڑی لاش کی تصاویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن پھر بھی انسانی اسمگلنگ کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ آسٹرین پولیس نے جرمنی کی سرحد کے قریب آئسٹرزہائم کے نواح میں قومی شاہراہ پر ہنگری سے آنے والے پھولوں سے لدے ٹرک کو روکا تو اس ٹرک سے 42 مہاجرین کو برآمد ہوئے۔

بند کنٹینروں میں دم گھٹنے سے بھی غیر قانونی سرحد پار کرنے والوں کی اموات واقع ہوچکی ہیں۔ تارکینِ وطن کے لیے جرمنی نے سرحد کی عارضی بندش کا فیصلہ کیا ہے، جرمن وزیرِ داخلہ تھامس ڈی میزئر کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد پر سیکیورٹی خدشات کے ازالے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ صرف ہفتے کو 12 ہزار سے زائد جب کہ اتوار کی صبح مزید 3 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن آسٹریا کی سرحد پار کرکے جرمنی کے جنوبی شہر میونخ پہنچے۔

پناہ گزینوں کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ سعودی عرب میں شامی پناہ گزینوں کے مسئلے پر ہی بات چیت کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔

دریں اثنا کئی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کی حمایت میں ''یوم عمل'' منایا گیا اور مظاہرے بھی کیے گئے۔ ڈنمارک، جرمنی، برطانیہ، پولینڈ، سویڈن کے دارالحکومتوں میں ہزاروں مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر ''سرحدیں کھول دو اور پناہ گزینوں کو آنے دو'' تحریر تھا۔ لندن میں وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی رہائشگاہ کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔ پناہ گزینوں کے معاملے سے پہلوتہی کسی صورت درست قرار نہیں دی جاسکتی، مناسب ہوگا کہ شامی مظلوموں کے لیے پڑوسی ممالک اپنی سرحدیں کھول دیں اور دیگر ممالک بھی آبادکاری کے مرحلے میں ساتھ دیں۔