پچھلے دنوں کے مکتوب کا خوشگوار ردعمل

یعنی جب کسی پر رب کا کرم ہوجاتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے جو کسی کے خیال و تصور اور وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq September 15, 2015
[email protected]

KARACHI: زندگی میں پہلی بار جی خوش ہو گیا۔ کچھ ایسا ہوا ہے جس کی توقع ہمیں دور دور تک نہیں تھی لیکن ایک پشتو ٹپہ ہے کہ

د رب کرم چہ پہ چا اوشی
ھغہ کار اوشی چہ پہ خیال کے نہ رازینہ

یعنی جب کسی پر رب کا کرم ہوجاتا ہے تو وہ کام ہو جاتا ہے جو کسی کے خیال و تصور اور وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ اس واقعے نے ہمارے نہ جانے کتنے پرانے تجربے اور واہمے دور کر دیے ہیں، ۔کل کی بات ہے (یہ کالم ہم اس واقعے کے دوسرے دن لکھ رہے ہیں) کہ ہم نے خلاف معمول ان کالموں میں کینسر کے مریض کا ایک درد ناک مکتوب شایع کیا تھا اور کل ہی بارہ بجے سے پہلے پہلے ہمیں ایک ٹیلی فون آیا۔ ناصر علی سید نے بتایا کہ میجر عامر آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ہماری توقع سے بڑھ کر تھا جن کو ہم آسمان پر ڈھونڈ رہے تھے، وہ خود زمین پر آکر ہم سے ملنا چاہتے ہیں، زہے نصیب ۔کہاں ہم کہاں یہ مقام اللہ ۔ ہم اور وہ ، وہ اور ہم

ہم تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

اور پھر اس نے یہ بھی بتا ہی دیا کہ اس خط کے سلسلے میں جو آج تمہارے کالم میں چھپا ہے وہ کچھ بات کرنا چاہتے ہیں اور اگر آج شام ہم درد کی تقریب میں آسکو تو وہیں پر ملاقات بھی ہو جائے گی، تھوڑی دیر بعد ان کا بھی فون آیا، اور وہی بات انھوں نے بھی دہرائی البتہ یہ خوش خبرانہ اضافہ کیا کہ اس مریض کے لیے مجھے کسی نے چیک دیا ہے، وہ دینا چاہتا ہوں۔ حیرت پر حیرت اور خوشی پر خوشی ہو رہی تھی۔ سب سے بڑی خوشی تو یہ تھی کہ دنیا ابھی اچھے اور درد رکھنے والوں سے خالی نہیں ہوئی'' ابھی کچھ لوگ ہیں باقی جہاں میں'' حالانکہ ہمارا روزمرہ کا تجربہ تو ہمیں بہت زیادہ مایوس کیے ہوئے تھا۔

ایک بات یاد آگئی ،کسی دانا کا قول ہے کہ دنیا میں ہر نئے بچے کی پیدائش اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ابھی انسانوں سے مایوس نہیں ہوا ہے اور ہمارے بزرگ بھی اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دنیا ابھی تباہ نہیں ہو رہی ہے تو کچھ لوگوں کی وجہ سے ۔ ورنہ عام انسانوں کے کرتوت تو ایسے ہیں کہ دنیا کو ایک پل کی مہلت دینا بھی نہیں چاہیے، دوسری بات جس سے خوشی ہوئی بلکہ تھوڑی سی گردن بھی اکڑ گئی کہ ہمارا اخبار اور ہمارا کالم لوگ پڑھتے ہیں بلکہ غور سے پڑھتے بھی ہیں اور اس پر اعتماد بھی کرتے ہیں اور یہ بہت بڑی بات ہے۔

روزانہ کتنی خبریں آتی ہیں ،کتنے اخبارات شایع ہوتے ہیں، کتنے کالم لکھے جاتے ہیں لیکن ہمیں یقین کہ کسی اخبار کے کسی کالم پر اتنا فوری ردعمل سامنے آیا ہو۔کالم کو اور اخبار کو چھپے ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں اور نہ صرف اسے پڑھا گیا ہے بلکہ اعتماد کا مظاہرہ بھی ہو گیا، وہ بھی زبانی کلا می نہیں بلکہ ایک بڑی رقم کی صورت میں۔ ہمارے خیال میں تو اس سے بڑی بات اور ہو ہی نہیں سکتی، چھاتی چوڑی ہو گئی کہ ہم بھی کچھ کر رہے ہیں ۔

یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی شاعر کو اپنے شعر کی فوری اور بھرپور داد بلکہ اسٹینڈنگ اویشن مل جائے، ظاہر ہے کہ نہ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، زندگی میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ ہم کسی تقریب میں مجبوری سے اور بادل ناخواستہ نہیں بلکہ نہایت ہی ''دل خواستہ'' اور سرشاری کی کیفیت میں جارہے تھے، ہم درد شوریٰ یا شام ہم درد میں بھی ہم بڑے عرصے کے بعد جارہے تھے۔ بہت ابتداء میں جب حکیم محمد سعید صاحب نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا، ہم کبھی کبھی جایا کرتے تھے، وہ بھی صرف اس لیے کہ حکیم صاحب سے ہلکا سا تعلق تھا۔ ہمارے درمیان خط و کتاب رہتی تھی، اس وقت ہم بانگ حرم میں تھے اور رمضان کے مہینے میں حکیم صاحب روح افزا کی دو پیٹیاں بھیجا کرتے تھے جو بانگ حرم کے عملے میں بانٹ دی جاتی تھیں۔

اس کے بعد حکیم صاحب نہیں رہے تو وہ سلسلہ بھی کٹ گیا۔ آج شام ہم درد میں جاتے ہوئے بہت ساری یادیں آنکھوں کے سامنے پھر رہی تھیں، تقریب میں تو ہمارا کوئی دخل نہیں تھا ،کچھ مقررین کو سنا کچھ کو نہیں سنا، لیکن میجر صاحب سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے مجھے وہ چیک پکڑا دیا جو اس مریض کے لیے تھا اور یہاں پر انکشاف ہوا کہ یہ چیک ایک بڑے مخیر نے دیا ہے، اس مخیر کے بارے میں ہماری معلومات اتنی ہی ہیں جتنی اخباروں میں آتی رہتی ہیں بلکہ اس سے بھی کم کیوں کہ ایسی خبروں کو صرف سونگھنے کی حد تک پڑھا کرتے ہیں چنانچہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے آدمی ہیں اور میڈیا میں جو کچھ آتا ہے۔

اس کی اصل حقیقت کیا ہے لیکن ایک بات جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ پشتو میں ایک بڑی ہی کثیر الاستعمال کہاوت ہے کہ مرغے کو دیوار پر چڑھے ہوئے بانگیں مت دیکھو بلکہ اسے پلیٹ میں دیکھو، یعنی دور سے بانگ دینے سے مرغ کی اصل خوبی کا کیا پتہ ۔ پلیٹ میں پتہ چلتا ہے کہ مرغا کیا ہے اور کیا کیا خوبیاں اور ذائقے اپنے اندر رکھتا ہے۔

ایک حقیقہ یاد آیا۔ ہمارے گاؤں میں اسکول کے لیے زمین کی ضرورت تھی لیکن جو زمین اس کے لیے موزوں ہو سکتی تھی وہ دو چچا زاد وڈیروں کی تھی جن میں ایک نہایت ہی نیک پرہیزگار اور میٹھا آدمی تھا جب کہ دوسرا بدمعاش اور برائیوں کی پوٹ تھا۔ نیک اور پرہیز گار پنج وقتہ نمازی عابد و زاہد بارش حاجی اور تسبیح بردار تھا چنانچہ لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اسکول زمین فٹ سے دے دے گا۔ جرگہ اس کے پاس گیا اور مدعا عرض کیا۔ ہم بھی اس میں شامل تھے۔

انھوں نے بڑی آؤ بھگت کی، نہایت ہی شیریں لہجے میں پوچھا، کہو کیسے آنا ہوا۔ جرگے نے اپنا مقصد بتایا تو ایک طویل مراقبے میں چلے گئے۔ تسبیح پھراتے رہے، مسکراتے رہے، سوچتے رہے اور تسبیح گھماتے رہے، پھر بولے تم اتنے لوگ ہو اور کام تمہارا ہے، اگر سو سو روپے فی گھر جمع کر لو گے تو اسکول کے لیے زمین خرید سکتے ہو اور میں کیوں زمین دوں۔ میرے بچے تو ویسے بھی شہر میں پڑھتے ہیں، اگر ضروری زمین چاہیے تو جو نرخ ہے چلو میں اس سے دو چار سو کم لے لوں گا لیکن مفت میں کوئی پاگل ہے جو زمین بانٹتا پھرے۔ گاؤں والوں کی توقع نقش بر آب ثابت ہوئی۔

دوسرے وڈیرے سے تو کوئی توقع کر ہی نہیں سکتا تھا۔ مجبوراً گاؤں والوں نے چندے کی ابتداء کر دی۔ چند ہی روز گرے تھے، حالات بڑے مایوس کن تھے کہ اچانک بدمعاش وڈیرے کا سندیسہ آیا۔ گاؤں کے بزرگ چلے گئے تو اس نے کسی تمہید کے بغیر پوچھا، کتنی زمین چاہیے۔ لوگوں نے کہا، ایک کنال ۔ تو بولا ، اس میں تو پرائمری اسکول بن جائے گا، آگے اس اسکول کو مڈل یا ہائی بھی ہونا ہے، پھر کیا کرو گے؟ ہم سمجھے کہ انکار کی تمہید باندھ رہا ہے لیکن اس نے اچانک اپنے کرخت اور ناپسندیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا، وہ میرا شیشم والا کھیت پانچ کنال ہے ،کاغذات تیار کرو، میں انتقال کر دوں گا، نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی ۔۔۔؟

سوچتا ہوں سر ساحل باقی
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

بھئی ہمیں تو قائل ہونا پڑا کہ جو نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں ہے اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آتا یا کچھ اور نظر آتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی بات پر آتے ہیں کہ اس واقعے سے نہ جانے کتنے پردے اٹھے، بڑے بڑے مخیرانہ اسپتال چار دانگ عالم میں ''کیش'' کیے جانے والے نام فلاحی رفاعی واہی تباہی تنظیمیں ۔ دولتوں، سرمایوں، سرکاری محکموں اسپتالوں اور بڑے بڑے دعوؤں کے پس منظر میں حقیقت کیا ہے۔

آخر کینسر کے قابل علاج یا دوسرے امراض کے شکار بے بس و بے کس لوگ کتنے ہوں گے اس ملک میں۔ ہمارے خیال میں سرکاری غیر سرکاری اور مخیر اسپتالوں اور تنظیموں سے تو یقیناً تعداد میں کم ہوں گے۔ سارے جھوٹے ہیں، سب جھوٹ ہے اور محض دیکھنے دکھانے کے فضول بول بچن ہیں، سارے ہی اس کم بخت غریب کے نام پر مال دار ہونے کے ہتھکنڈے ہیں، دھوکے ہیں، فریب کاریاں ہیں ۔ کرنا اسے کہتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہ بولتے نہیں کر کے دکھاتے ہیں۔

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا