وفاق سے شکوہ طبل جنگ نہیں

دنیا بھر کے جمہوری نظام ہائے حکومت میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مروجہ اور مسلمہ دائرہ اختیار ہوتے ہیں


Editorial September 16, 2015
مراد علی شاہ کے الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم ان کی طرف سے روادارانہ انداز میں یہ پیش کش بہت خوش آیند ہے کہ حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کو تیار ہے، فوٹو:فائل

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کی سندھ میں کارروائیاں غیر قانونی ہیں اور یہ صوبائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، وفاق کی مداخلت پر چپ نہیں رہیں گے، ان کارروائیوں کے خلاف معاملہ وفاقی اپیکس کمیٹی میں اٹھایا ہے اور وزیراعظم کو بھی اس بارے میں آگاہ گیا ہے لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک ہمارے تحفظات دور نہیں کیے ہیں۔ انھوں نے یہ باتیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔

دنیا بھر کے جمہوری نظام ہائے حکومت میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مروجہ اور مسلمہ دائرہ اختیار ہوتے ہیں جن میں رہتے ہوئے وہ نظم حکمرانی کے تقاضے پورے کرتے ہیں مگر کہیں بھی اور کبھی بھی یہ اندیشے سر نہیں اٹھاتے کہ جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے، ریاستی اداروں کے شکست و ریخت ، بدعنوانی یا سیاسی کشیدگی کے باعث وفاق اور اس کی ریاستی اکائیوں کے مابین جنگ کے ہولناک منظر نامہ سے عوام ششدر رہ جاتے ہوں اور بے یقینی ان کے اعصاب شل کردیتی ہو۔

اسی لیے مغرب میں حکومت اسی نظم حکمرانی سے عبارت ہے جو اصل میں نظر نہ آئے کہ کوئی حاکم ہے اور باقی شہری محکوم یا غلام ۔ لیکن بدقسمتی سے ملکی سیاسی بحرانوں نے جب بھی سر اٹھایا تان اسی پر ٹوٹتی ہے کہ وفاق صوبوں کی نہیں سنتا اس لیے تنگ آمد بجنگ آمد ۔سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بلاشبہ بعض اہم نکات پیش کیے اور ان کی برہمی مجموعی طور پر نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے۔

وفاق سے شکایت یا صوبوں سے وفاق کا گلہ جمہوری عمل ہے، جمہوریت روبوٹ سسٹم نہیں مگر ہم اس استدلال پر گزشتہ روز ہی اظہار خیال کرچکے ہیں کہ وفاق و صوبوں کے مابین ہم آہنگی ، خیر سگالی، اشتراک عمل بنیادی جمہوری شرط ہے،آئینی طور پر صوبوں کے مالیاتی ، معاشی اور دیگر سیاسی مسائل کا حل وفاق یا خود صوبوں کے پاس ہوتا ہے اور18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو غیر معمولی اختیارات اور وسائل و حقوق ملے ہیں، گیند اب صوبوں کے پاس ہے، مرکز مضبوط ہے کا کلیشے دفن ہوچکا اس لیے لازم ہے کہ صوبائی معاملات اگر وفاق سے شکایات و شکوے گلے سے منسلک ہیں تو مشترکہ مفادات کونسل، ایپکس کمیٹی سمیت بین الصوبائی رابطے کے کئی ایک سیاسی ، سماجی اور معاشی فورمز موجود ہیں ۔

ان سے فوری مدد لی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جس 'تنگ آمد بجنگ آمد' کی بات کی ہے وہ وفاق کی توجہ حاصل کرنے کی جمہوری کوشش ہوسکتی ہے ،کوئی طبل جنگ نہیں، صوبائی قیادتیں ہوشمندی سے کام لیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صرف سندھ میں کرپشن کا تاثر دینا درست نہیں، کرپشن کے خلاف پورے ملک میں یکساں کارروائیاں ہونی چاہئیں۔

اس کا جواب اس خبر میں موجود ہے کہ ''پنجاب میں ترقیاقی کاموں میں کرپشن، کمیشن مافیا کی شکایات اور خفیہ اداروں کی رپورٹس پر نیب ایکشن میں آ گیا ہے، نیب پنجاب نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں 10کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات ایک ہفتے (7 یوم) میں طلب کرلی ہیں۔'' یوں بھی اصولی طور پر کرپشن ملکی نظام کے لیے رستا ناسور بن چکا ہے اس لیے اس کا دائرہ پورے ملک پر پھیلا دینا نتیجہ خیز ہوگا ، اور کسی کو شکایت بھی نہیں رہے گی۔

اسی سے ملتا جلتا انداز نظر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ہے جن کا کہنا صائب ہے کہ کراچی اور سندھ میں آپریشن اور احتساب سے لوگ بہت زیادہ خوش تو ہیں، مگر رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ادارے پنجاب میں بھی آپریشن کریں جہاں بقول ان کے بڑے بڑے کرپشن کے کیس ملیں گے، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا یہ طنز سقراطی سا تھا کہ دہشتگردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف آپریشن ہو تو جمہوریت انھیں کیوں یاد آتی ہے۔

حقیقت میں جمہوریت کا ثمر مشکلوں سے ملا ہے اس کا تحفظ اب تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمے داری ہے، جمہوریت ہوگی تو ملک داخلی استحکام پاکر عالمی برادری میں اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے گا۔ ادھر وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی معقول حکومت گیس نہیں روک سکتی ہے۔

مراد علی شاہ کے الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم ان کی طرف سے روادارانہ انداز میں یہ پیش کش بہت خوش آیند ہے کہ حکومت ان کے تحفظات دور کرنے کو تیار ہے، انھوں نے واضح کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے منصوبے میں تمام صوبے شامل ہوتے ہیں، دریں اثنا وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ احتساب کا نیٹ صرف سندھ میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں ہونا چاہیے کیونکہ بدعنوان صرف کراچی ہی نہیں پورے پاکستان میں ہیں۔

بہت مشہور مقولہ ہے کہ ''فلسفی نے عقل اور مشاہدہ کا امتزاج پیدا کیا ہے۔'' اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے مقتدر سیاست دان جمہوری انداز فکر سے کام لیتے ہوئے قومی چیلنجوں سے کس تدبر و دانش مندی سے نبرد آزما ہوتے ہیں، اور وفاق و صوبوں کے مابین مثالی یگانگت،جمہوری امتزاج ، تحمل و برداشت اور مختلف النوع مسائل کے تصفیے کے لیے کب فیض کے اس شعر کی تعبیر لے آتے ہیں کہ

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو