امن کا دسترخوان

سری نگر سے کبھی دل دکھانے والی اور کبھی دلچسپ خبریں آتی ہیں۔


Zahida Hina September 16, 2015
[email protected]

سری نگر سے کبھی دل دکھانے والی اور کبھی دلچسپ خبریں آتی ہیں۔ چند دنوں پہلے وہاں سے خبر آئی کہ کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے گوشت کی فروخت پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاجی سلسلوں کے ردعمل میں بی جے پی کے جنوبی کشمیر کے رہنما نے ''بیف پارٹی'' منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خورشید احمد ملک کا کہنا ہے کہ اس دعوت کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری کو فروغ دینا ہے۔ بی جے پی رہنما کا کہنا تھا کہ انھوں نے جس بیف پارٹی کو منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس میں ہندو اور مسلمان دونوں کو ہی شرکت کی دعوت دی گئی ہے، مسلمانوں کو گوشت اور ہندوؤں کو سبزی سے بنے ہوئے کھانے پیش کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دعوت مذہبی رواداری، بھائی چارے اور سیکولرازم کا پیغام دے گی۔

2014 کے عام انتخابات میں ناکام ہونے والے بی جے پی کے رہنما نے کہا کہ سیاست دان ہونے کے علاوہ میں ایک مسلمان بھی ہوں اور اپنے مذہب پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ بیف پارٹی کے لیے بی جے پی سے اجازت لینے کے سوال پر خورشید احمد ملک کا کہنا تھا کہ کیا مجھے مسجد جانے اور نہ جانے کے لیے پارٹی سے پوچھنا ہوگا؟ پارٹی کا اس دعوت کے اعلان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خورشید احمد ملک یہ پارٹی منعقد کر تے ہیں یا نہیں، اس کا علم تو ہمیں چند دنوں بعد ہوگا لیکن یہ خبر پڑھی تو یاد آیا کہ چند ہفتوں پہلے بھوٹان کے شاہی دربار میں پشپا کماری کی ہندی اور اردو میں لکھی ہوئی کتاب 'ذائقے فرنٹیر کے؛ ڈیرہ اسماعیل خان کے بھولے بسرے پکوان، بھوٹانی ملکہ جتسن پیما کو پیش کی گئی۔

پشپا کماری پاکستان کی بیٹی تھیں، ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے وقت ترک وطن ان کا مقدر بنا لیکن ان کے گھر اور شہر میں جو پکوان پکتے تھے، ان کی یادیں اور ذائقے پشپا کے ساتھ گئے۔ وہ ڈی آئی خان کو یاد کرتی رہیں ۔ ذہن میں ان مصالحوں کی خوشبو بسی رہی جو ان کے رسوئی گھر اور آس پاس کے دوسرے رسوئی گھروں اور باورچی خانوں سے آتی تھی۔ ان میں ہندو، مسلمان، سکھ سب ہی گھرانے تھے۔

آپ کو حیرت ہورہی ہوگی کہ کہاں ڈیرہ اسماعیل خان کی پشپا کماری، کہاں بھاجی ترکاری کی ترکیبیں اور کہاں بھوٹان کی ملکہ لیکن اس دنیا میں سب ہی کچھ ممکن ہے۔ یہ کتاب بہت سج دھج کے ساتھ اردو اور ہندی میں پاکستان سے 'مارکنگس' نے شایع کی ہے۔ پچھلے برس یہ کتاب جے پور لٹریچر فیسٹول میں پہلی مرتبہ پیش کی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ کتاب چین کے صوبے شان ڈونگ کے شہر یانتی میں شہرت یافتہ، گورمان ایوارڈ (Gourmand) جیت چکی ہے۔

اس موقع پر اس کتاب کی پاکستانی پبلشر کرن امان اور اس پبلشنگ ہاؤس کی کری ایٹو ڈائریکٹر طوبیٰ ارشد بھی موجود تھیں۔ 'گورمان ایوارڈ' دنیا میں کھانا پکانے کے فن میں ماہر ان لوگوں کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے جو کھانے پکانے کے طریقوں کو لفظوں میں بیان کرتے ہیں اور انھیں ہزاروں برس کے لیے محفوظ کردیتے ہیں۔

پچھلے برس یہ انعام پاکستان سے شایع ہونے والی اس کتاب 'ڈیرہ اسماعیل خان کے بھولے بسرے ذائقے کے حصے' میں آیا۔ یہی دیکھیے کہ ہمیں 3500 برس قبل مسیح کی مٹی کی وہ تختیاں ملتی ہیں جو کسی گم نام شخص نے لکھیں اور اب سے 5500 برس پہلے پکائے جانے والے کھانوں کے طریقے ہمیں بتاتی ہیں۔ اسی طرح 700 برس قبل مسیح میں ہندوستانی کیا پکاتے اور کھاتے تھے، یہ بھی ہمیں اس زمانے کے 'شاہی دسترخوان' جیسی کتاب سے معلوم ہوتا ہے۔ پہلی صدی عیسوی میں ہمیں المالکی 'ریاض النفس' لکھتا ملتا ہے۔ 1226ء میں البغدادی کی لکھی ہوئی کتاب 'بغداد کے کھانے' سے ہلاکو کے ہاتھوں بغداد کی تباہی سے پہلے اس شہر کے دسترخوان کی تفصیل ہمیں مل جاتی ہے۔

انٹرنیشنل گورماں ایوارڈ کا سلسلہ 1995ء سے شروع ہوا تھا اور آہستہ آہستہ اسے وہی مقام اور وقار حاصل ہوچکا ہے جو فلموں کے حوالے سے 'آسکر ایوارڈز' کے حصے میں آیا ہے۔ اس سے پہلے 2014 میں بہترین پیسٹری سوئیٹس کک بک پر یہ ایوارڈ پاکستان کی لال ماجد نے حاصل کیا تھا۔

ان کے بنائے ہوئے بسکٹ زبان پر رکھیے تو وہ بتاشے کی طرح گھل جاتے ہیں۔ نمکین اور میٹھی اشیا کے درمیان ہونے والا یہ بین الاقوامی مقابلہ اب اتنے وسیع پیمانے پر ہوتا ہے کہ دنیا میں سالانہ 26 ہزار کتابیں کھانے پکانے کی ترکیبوں پر مشتمل اس مقابلے میں پیش کی جاتی ہیں۔ 2008ء میں دنیا کے 102 ملکوں سے شایع ہونے والی کھانے پکانے کی ترکیبوں کی کتابیں پیش کی گئیں اور سال بہ سال اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میں قدم رکھتے ہی بھاجی ترکاری اور سبزی کی کڑھی کھانے کو جی چاہتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے کریلے اور کدو کی بھجیا اور ماش کی مکھنی دال کی کٹوریاں گھوم جاتی ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ ہم جو پاکستان اور ہندوستان میں رہتے ہیں، صرف 68 برس پہلے ہمارے گھروں کی دیواریں ملی ہوئی تھیں۔

ایک گھرکی رسوئی میں ہینگ کا بگھار لگے تو خوشبو دیواروں کو پھلانگتی ہوئی دوسرے گھر کے باورچی خانے تک پہنچتی تھی اور سندیسہ پہنچاتی تھی کہ آج رائے بہادر صاحب یا ترویدی جی کے یہاں کون سے پکوان پکے ہیں۔ اسی طرح پڑوس کے باورچی خانے میں بگھارے بینگن پک رہے ہوں، کوئلے کی آنچ پر مرغی یا مچھلی کے کباب سینکے جارہے ہوں تو دوسرے گھر میں سب کو خبر ہوجاتی تھی آج خان صاحب کے دسترخوان پر کون سے کھانے کھائے جائیں گے۔

مختلف سبزیوں، ترکاریوں سے تیار ہونے والے کھانوں کی وہ ترکیبیں جو پشپا کماری باگئی نے بار بار آزمائی تھیں اور انھیں اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرلیا تھا۔ اس کتاب نے پچھلے مہینے دنیا کا مشہور کھانا پکانے کا ایوارڈ جیت لیا جسے Gourmand World Cook Book Award (گورمان ورلڈ کک بک ایوارڈ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس پر پاکستانی ناز کررہے ہیں۔ افسوس کہ اس کتاب کے چھپنے سے پہلے پشپا کماری باگئی سورگپاشی ہوچکی تھیں۔ ان کا یہ ایوارڈ ان کے بیٹے اُتل باگئی اور کرن امان نے لیا۔

امن کا وہ دسترخوان جو دونوں ملکوں کے بیچ بچھا ہوا ہے۔ اس پر سجے ہوئے کھانے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ انھیں یاد دلاتے ہیں کہ ان کا دین دھرم ایک دوسرے سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو لیکن طرح طرح کے ذائقے انھیں ایک دوسرے سے کیسے حسین رشتوں میں باندھ دیتے ہیں۔

وہ ہندوستان جو ہزاروں برس سے اپنی ثقافت اور اپنے رنگ برنگے تہواروں سے دنیا کی ان گنت قوموں اور برادریوں کو اپنی طرف کھینچتا رہا ہے، اس نے مسلمانوں کے آنے کے بعد ان کے کھانوں کو کس طرح نیا رنگ دیا۔ وہ ترک، ایرانی اور مغل جو دنبے کا گوشت اور مرغ پلاؤ کھاتے ہوئے آئے تھے وہ بینگن کے بھرتے، بھنڈی کی بھاجی اور سبزی کی کڑھی کے عاشق ہوئے۔

''ڈیرہ اسماعیل خان کے بھولے بسرے پکوان'' پشپا کماری کی وہ پریم کہانی ہے جو انھوں نے اپنی جنم بھومی سے کی۔ بٹوارے نے انھیں اور ان کے خاندان کو ڈیرہ اسماعیل خان سے اٹھا کر دلی کے کوچہ و بازار کا شہری بنادیا۔ وہ سیاست سے اور خون کے بہتے ہوئے دریا سے نہیں لڑسکتی تھیں لیکن اپنی یادوں کی گلیوں میں پھرنا، اپنے شہر کے رسوئی گھروں سے اٹھتی ہوئی خوشبوؤں کی یادوں کو اپنے قلم کی نوک سے کاغذ پر اتار لینا ان کے بس میں تھا، سو انھوں نے یہی کیا۔

زندگی کے آخری چھ مہینوں میں پشپا کماری نے اپنے 80 پسندیدہ کھانوں کو نہایت توجہ اور محبت سے اسی طرح تیار کیا جس طرح وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تیار کیے جاتے تھے اور پھر ان کی ترکیب لکھ کر اپنے گھر والوں کے سپرد کردی۔ جنم بھومی کے عشق میں گرفتار ایک عورت اسی طرح گزرے ہوئے دنوں کو زندہ کرسکتی تھی اور کچھ کہے بغیر مسلمانوں اور ہندوؤں سے یہ کہہ سکتی تھی کہ آؤ اور ان کھانوں کو چکھو جو تم دونوں کو پیارے رہے ہیں۔

پشپا کماری نے ڈیرہ اسماعیل خان کی پاٹ شالہ میں دیوناگری کے ساتھ ہی اردو بھی سیکھی تھی، وہ چاہتی تھیں کہ ان کی یہ کتاب دونوں زبانوں میں شایع ہو۔ ان کی آخری خواہش کا احترام کرنے کا اس سے خوبصورت طریقہ اور کیا ہوسکتا تھا کہ ان کی کتاب شایع ہو تو اس کے صفحوں پر دونوں رسم الحظ اپنی بہار دکھا رہے ہوں۔

مقبول خبریں