فیصلہ زبان کا
وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں اردو کے نفاذ کے لیے حکومتی اداروں کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے۔
HARIPUR:
سپریم کورٹ نے اردوکو بطور دفتری زبان فوری رائج کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکومت کو تین ماہ میں عملدرآمد کی رپورٹ دینے کا کہا ہے۔ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے اس بارہ سال پرانی پٹیشن پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 251 پر بلاتاخیر عمل کیا جائے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔ وفاقی اور صوبائی قوانین کا تین ماہ کے اندر قومی زبان میں ترجمہ کیا جائے۔
وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں اردو کے نفاذ کے لیے حکومتی اداروں کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے۔ ان عدالتی فیصلوں کا جو عوامی مفادات سے تعلق رکھتے ہیں لازماً اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ عدالت عالیہ نے اس حوالے سے جن ہدایات کا اعلان کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عدالت اس مسئلے کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوئے قومی زبان کے نفاذ کو اس طرح جامع بنانا چاہتی ہے کہ کوئی مسئلہ حل طلب نہ رہ جائے۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بہت سارے ایسے مسئلے جن کو حل کرنے کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے وہ عدلیہ کو حل کرنے پڑ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے قومی مسئلوں پر جو قوم کے اجتماعی مفادات کے حامل ہوتے ہیں سیاستدانوں کی طرف سے ایسے اعتراض اٹھائے جاتے ہیں اور اتنا شوروغوغا مچایا جاتا ہے کہ حکومتوں کے لیے ان مسائل کو حل کرنا ممکن نہیں رہتا۔
ہمارا ملک پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے، اس مسئلے کو حل کرنے اور بھارت کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے ماہرین نے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ پیش کیا جس پر ابتدائی کام ہوا اور کافی سرمایہ بھی لگا لیکن اس کے خلاف اس شدت سے آواز اٹھائی گئی کہ اس منصوبے کے حامی دبک کر بیٹھ گئے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے بعض سیاستدانوں کو جائز شکایات ہوں لیکن اس اہم ترین مسئلے پر اتفاق رائے کے سارے دروازے بند ہیں؟ اہم قومی مسائل پر اگر ذاتی جماعتی اور علاقائی مفادات کو برتر بنا دیا گیا تو پھر عوام کے اجتماعی مفادات کے مسائل ہمیشہ متنازع بنے رہتے ہیں۔
نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد نوآزاد ملکوں نے اپنی قوموں کے اجتماعی مفادات کے حوالے سے جو اہم فیصلے کیے ان میں غیر ملکی خصوصاً انگریزی زبان سے نجات کا فیصلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
قوموں کی ترقی کے لیے قومی اور دفتری زبان بے حد اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی بیوروکریسی انگریزوں کی ذہنی غلامی میں اس حد تک آگے نکلی ہوئی ہے کہ اس کی تقلید میں اہم ترین قومی مسائل کو سرد خانوں میں ڈالنے سے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتی۔ اس ملک کے 20 کروڑ عوام زبان کے مسئلے پر کسی تنگ نظری کا شکار نہیں یہ بیوروکریسی اور متعصب سیاستدان ہیں جو محض اپنے سیاسی مفادات اور سیاسی شہرت کے حصول کے لیے ان ایشوز کو بھی ایسے برننگ ایشوز بنا دیتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور ان اکابرین کی کارستانیوں کا نقصان بے چارے غریب عوام ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔
زبان انسانوں کی تاریخ کے ساتھ ساتھ سفرکرتی آرہی ہے، ابتدائی دور کے انسان کی زبان بے معنی آوازیں تھیں یہ بے معنی آوازوں کی زبان صدیوں پر محیط ہے۔ پھر جیسے جیسے انسان تہذیبی ترقی کے میدان میں آگے بڑھتا گیا ہر ملک نے اپنی ایک زبان تشکیل دے لی جس کی وجہ سے نہ صرف سفر حیات آسان ہوگیا بلکہ زبان نے ملکوں اور قوموں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
ہمارے لیے یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ہم بیرون ملک اور اپنے ملک کے اندر محض اپنی بے معنی برتری جتلانے کے لیے انگریزی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ہمارا حکمران طبقہ جب کسی غیر ملکی دورے پر جاتا ہے تو وہ مہمانوں سے نجی گفتگو ہو یا سرکاری سطح کی تقاریب ہوں ہر جگہ انگریزی میں بات کرنے کو فخر سمجھتا ہے لیکن درحقیقت یہ ساری اوچھی حرکتیں ہمارے احساس کمتری کا شاہکار ہوتی ہیں۔ ہمارے غیر ملکی مہمان جب پاکستان کے دورے پر آتے ہیں تو ہمیشہ اپنے اور میزبان کے درمیان ایک مترجم کو بٹھاتے ہیں خواہ وہ مغربی اور انگریزی بولنے والے ملکوں کے دورے پر ہی کیوں نہ جائیں مترجم کو درمیان میں رکھتے ہیں جب کہ وہ انگریزی زبان بول ہی نہیں سکتے بلکہ اس پر پورا عبور رکھتے ہیں۔
ہمارے ملک میں محبت اخوت بھائی چارے کی روایات بہت کمزور ہیں، اسے ہم قومی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا قومی ذہن منفی رجحانات کا زیادہ پاسدار ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ عوام فطری طور پر منفی رجحانات کے حامل ہیں بلکہ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری قیادت قومی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے عوام میں منفی رجحانات کی آبیاری کرتے ہیں۔
اردو زبان کی ایک تاریخ ہے کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی حملہ آوروں اور مقامی عوام کے میل جول سے جو زبان پروان چڑھی اسے اردو کا نام دیا گیا۔ ہندوستان کے تقریباً ہر علاقے میں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے ہندوستان کی سب سے اہم انڈسٹری فلم انڈسٹری کی زبان اردو ہی ہے جسے اہل ہند ہندی کہتے ہیں لیکن فلموں میں استعمال ہونے والی اردو اس قدر مشابہ ہوتی ہے کہ اس پر اہل زبان ہونے کا گمان ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے اردو کو انڈیا سے آنے والوں کی زبان کہہ کر اس کی ہمہ گیریت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس زبان کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس پر تمام پاکستانیوں کو فخر کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اردو کو دفتری زبان کا درجہ دے کر پاکستان کی غلامانہ ذہنیت رکھنے والی اشرافیہ اور اس کی ہم زلف بیوروکریسی کے منہ پر ایک طمانچہ لگایا ہے جس کی تکلیف ہمارا حکمران طبقہ بھی محسوس کر رہا ہوگا۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس فیصلے سے علاقائی زبانوں کی ترقی پر کچھ منفی اثر پڑے گا ہماری علاقائی صوبائی زبانیں ہماری اجتماعی اور رنگا رنگ ثقافت کا حصہ ہیں علاقائی عوام کو اپنی زبانوں سے محبت کرنے کا حق ہی نہیں بلکہ اسے پروان چڑھانے کا بھی پورا حق ہے۔ پاکستان ہی کی زبانیں نہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان لائق احترام ہے کیونکہ یہ انسانوں کی زبانیں ہیں اور ملک و ملت سمت مختلف حوالوں سے تقسیم کے باوجود انسان بہرحال انسان اور اشرف المخلوقات ہے جس کا تقاضا ہے کہ وہ فروعی باتوں میں الجھے بغیر ملک و ملت کی ترقی اور انسانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرے۔