حکومت بینک لین دین ٹیکس جیسے شارٹ کٹ سے گریز کرے کراچی چیمبر نے تصفیے کیلیے تجاویز پیش کردیں

خط میں کہا گیاکہ کراچی چیمبر ٹیکس نیٹ میں اضافے اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حمایت کرتا ہے


Business Reporter September 18, 2015
خط میں کہا گیاکہ کراچی چیمبر ٹیکس نیٹ میں اضافے اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حمایت کرتا ہے فوٹو: فائل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بینکاری لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کو غیرمتنازع بنانے کے لیے حکومت کو ہر قسم کے بینک کھاتے کھلوانے کے لیے این ٹی این کی شرط عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

کراچی چیمبر کے صدرافتخاروہرہ نے وفاقی وزیرخزانہ کوارسال کردہ تجاویز میں کہا ہے کہ بینکوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ این ٹی این سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی بھی نیا اکاؤنٹ نہ کھولا جائے اور موجودہ بینک کھاتے داروں کوایف بی آر کے جاری کردہ این ٹی این سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جائے بصورت دیگرکھاتے منجمد کردیے جائیں نیز بچت کھاتوں کے ٹرن اوور کی حد مقرر کی جائے اور اس حد کو عبور کرنے کی صورت میں این ٹی این لازمی کر دیا جائے۔ تجاویز میں کہا گیاکہ این ٹی این کے ذریعے ایف بی آر کے پاس اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات موصول ہونے پرانکم ٹیکس آرڈیننس اور مروجہ قوانین کے تحت انھیں یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا پابند کرسکیں۔ خط میں کہا گیاکہ نان فائلر اور غیررجسٹرڈ میں تفریق انتہائی ضروری ہے، نان فائلر کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ افراد رجسٹرڈ تو ہیں لیکن ریٹرن جمع نہیں کراتے لہٰذا نان فائلر و فائلر کے بجائے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ کا تصور متعارف کرایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ رجسٹرڈ افراد کا ٹیکس ریٹرن جمع کرانا یقینی بنانا نہ تو بینکر کی ذمے داری ہے نہ ہی اکاؤنٹ ہولڈر کی، اگر ایک شخص رجسٹرڈ ہے تو یہ ذمے داری ایف بی آر اورآرٹی اوز کی ہے کہ وہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے قوانین پرعملدرآمد یقینی بنائیں جبکہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی جیسے شارٹ کٹس سے گریز کیا جائے جن کے باعث پوری سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ٹیکس نیٹ میں اضافے کو یقینی بنانے کے حوالے سے کے سی سی آئی کی تجاویز کو بہترین آپشن قرار دیتے ہوئے کہاکہ کاروباری و صنعتی نمائندے کسی بھی بنیاد پر ان تجاویز کی مخالفت نہیں کرسکتے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کے سی سی آئی کے تجویز کیے گئے اقدامات سے نہ صرف غیریقینی صورتحال کا خاتمہ ہوگا بلکہ ایف بی آر اور تاجربرادری کو اپنے اپنے کردار پر توجہ مرکوز رکھنے کا بھی موقع ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران چیمبرز، تجارتی تنظیموں اور ایف بی آر، وزارت تجارت کے درمیان بینکوں سے لین دین پر 0.3 ودہولڈنگ ٹیکس کے معاملے پر مختلف اجلاس منعقد ہوئے لیکن اسٹیک ہولڈرز کی توقعات کے مطابق اس مسئلے کا حل نہیں نکالا جا سکا، بینکوں سے لین دین پر 0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے سے کاروباری سرگرمیاں سست روری کا شکار ہو گئی ہیں جبکہ بینکوں کے ڈپازٹس میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو بتایاکہ بینکوں سے لین دین پر 0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر مختلف شعبوں کی تجارتی تنظیموں کے نمائندہ وفود نے کے سی سی آئی کے صدر اور عہدیداران سے ملاقات کی اور اس اقدام سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہ کیا جس سے ان کی کاروبار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ زیادہ تر مینوفیکچررز، ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز کو بینکوں سے رقم کے لین دین میں دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ ان کے کسٹمرز رقم روک رہے ہیں یا پھر حصوں میںکم کم رقم ادا کر رہے ہیں جس سے ان کے کاروبار کو مستقل نقصانات کا سامنا ہے۔

خط میں کہا گیاکہ کراچی چیمبر ٹیکس نیٹ میں اضافے اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بینکوں سے لین دین پر بلواسطہ ٹیکس عائد کردیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آئی آر ممبر کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہوا کہ بینکوں سے لین دین پر0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا مقصد ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ غیر رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لاتے ہوئے دائرہ کار بڑھانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے بغیر بھی ٹیکس نیٹ میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ وزارت خزانہ اسٹیک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں کے سی سی آئی کی تجاویز پر غور کرے گی۔