بڈھ بیر ایئر بیس پر دہشت گردوں کا حملہ

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا


Editorial September 19, 2015
دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا صرف فوج ہی کا فرض نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں اور سول انتظامیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، فوٹو : اے ایف پی

پشاور میں بڈھ بیر کے علاقے میں پاکستان ایئر فورس بیس پر جمعے کی صبح فجر کے وقت دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس سے مسجد میں موجود 16 نمازی جب کہ کیپٹن اسفند یار اور پاک فضائیہ کے تین جونیئر ٹیکنیشن سمیت 29افراد شہید ہوئے جن میں سے 23کا تعلق ایئر فورس سے ہے جب کہ مقابلے میں 13 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دہشت گرد کانسٹیبلری کی وردی میں آئے آٹھ نے ایک طرف سے تو پانچ نے دوسری طرف سے حملہ کیا۔ پاک فوج کے ترجمان کی بریفنگ کے مطابق دہشت گردوں کا ایک گروپ انتظامی اور دوسرا ٹیکنیکل حصے کی جانب گیا،یہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے اور حملے کی منصوبہ بندی بھی وہیں کی گئی تھی۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور ایئر چیف سہیل امان نے سی ایم ایچ پشاور میں ایئر بیس حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بڈھ بیر ایئر بیس پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے اور ملک سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا جلد صفایا کر کے دہشت گردی جیسے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیں گے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں ، ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر کے بڑے علاقے کو ان سے پاک کر دیا۔ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے شروع کی گئی اس جنگ میں پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے بڑے پیمانے پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے نا جانے ابھی کتنی اور قربانیاں دینا پڑیں لیکن دہشت گردوں کے کسی بھی حملے کے بعد پاک فوج نے بھرپور عزم اور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا اور اس کے قدم کسی بھی مرحلے پر نہیں لڑکھڑائے۔ دہشت گرد اس سے قبل بھی پاک فضائیہ کے اڈوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

10دسمبر 2007 کو جنگی جہاز سازی کے مرکز کامرہ میں پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس کے فوجی گیٹ کے قریب پاکستان فضائیہ کی بس پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد شہید ہوئے۔ اگلے ماہ 18 جنوری 2008کو کامرہ پردو راکٹ فائر کیے گئے لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، 22 مئی 2011 کو کراچی میں پی این ایس پر حملہ کیا گیا، کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں دو اورین طیارے تباہ اور دس اہلکار شہید ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد بھی مارے گئے، 16 اگست 2012 کو ایک بار پھر کامرہ میں پاک فضائیہ کے اڈے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید اور جوابی کارروائی میں نو حملہ آور ہلاک ہو گئے۔

15 دسمبر 2012 کو پشاور ایئر پورٹ پر دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی اور راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں15 افراد شہید اور 42 زخمی ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد بھی مارے گئے، 8 جون 2014 کو کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے ایئر پورٹ جناح انٹرنیشنل پر حملہ کیا گیا رات بھر جاری رہنے والی کارروائی میں دس حملہ آور ہلاک ہو گئے اسی طرح 14 اگست 2014کو کوئٹہ میں پاکستان ایئر فورس کی اسمنگلی ایئر بیس پر حملہ کیا گیا۔

جس سے دس اہلکار زخمی اور جوابی کارروائی میں 11 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اس نے شدت پسندوں کی درجنوں پناہ گاہوں اور اڈوں کو تباہ کیا اب بھی پاک فضائیہ دہشت گردوں کے خلاف مکمل طور پر سرگرم عمل ہے۔شاید اسی لیے وہ فضائیہ کے اڈوں اور اداروں کو نشانہ بنا کر اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ بڈھ بیر ایئر بیس پر حملے کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گرد پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی سفید رنگ کی سوزوکی پک اپ میں سوار ہو کر آئے اس وین پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں لگی ہوئی تھی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دہشت گرد بغیر نمبر پلیٹ پک اپ میں شہر سے گزرتے ہوئے آئے اور کسی بھی جگہ انھیں روکا نہیں گیا، اس سے خیبرپختونخوا انتظامیہ کی نااہلی اور اپنے فرائض سے غفلت ظاہر ہوتی ہے۔

فوج تو دہشت گردی کے خلاف اپنے فرائض پوری جانفشانی سے ادا کر رہی ہے مگر افسوس ہے کہ سول انتظامیہ اس سلسلے میں غیر متحرک ثابت ہو رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا صرف فوج ہی کا فرض نہیں بلکہ صوبائی حکومتوں اور سول انتظامیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاک فوج کے جوانوں کی طرح پوری تندہی اور جانفشانی سے کام کریں تاکہ مستقبل میں کسی متوقع دہشت گردی کے واقعے کو روکا جا سکے۔