دیر بالا کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بات ایک طرف رکھیے کہ یہ کلاسیکی مفہوم میں دائیں بازو کے رجحانات رکھنے والی جماعت رہی ہے


Zahida Hina September 20, 2015
[email protected]

برسوں سے یہ معمول ہے کہ رات کے کبھی 2، کبھی 4 یا 5 بجے موبائل اسکرین پر کوئی دل ربا شعر، حکمت کا کوئی جملہ اپنی جھلک دکھا جاتا ہے۔ ایک کرم فرما یہ عنایت دیربالا سے کرتے ہیں۔ منہ اندھیرے جب بھی میری آنکھ کھلے میں سب سے پہلے ان کا بھیجا ہوا شعر پڑھتی ہوں یا کسی حکیمانہ جملے سے اپنی صبح کا آغاز کرتی ہوں اور ان کی شکر گزار ہوتی ہوں۔

2013 کے انتخابات میں جب یہ معلوم ہوا کہ دیربالا اور ایسے ہی دوسرے بہت سے علاقوں کی خواتین کا انتخاب میں حصہ لینا تو دو رکی بات ہے، انھیں ووٹ ڈالنے کی اجازت بھی نہیں ملی تو بہت صدمہ ہوا۔ اس سے پہلے یہ بھی ہو چکا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش مند ماں بیٹیوں کو قتل کیا گیا۔ یہ ایک عجیب منافقانہ رویہ ہے کہ ہماری وہ سیاسی جماعتیں جو قومی دھارے کا حصہ ہیں، شہروں میں جن کے ویمن ونگ ہیں، انھوں نے ثقافت اور روایت کے نام پر ملک کے دور دراز علاقوں میں متفقہ طور سے جمہوری عمل میں عورتوں کی شراکت کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بات ایک طرف رکھیے کہ یہ کلاسیکی مفہوم میں دائیں بازو کے رجحانات رکھنے والی جماعت رہی ہے اور اب قدامت پسندی کے اپنے رنگ کو مدہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اصل گلہ تو پیپلز پارٹی سے کیا جا سکتا ہے کہ بھٹو صاحب کے زمانے سے اس میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے عناصر کا غلبہ رہا ہے۔ نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو کے علاوہ اس کی صف اول میں ذہین اور متحرک سیاستدان خواتین اپنا حصہ ڈالتی رہیں۔

اس کی صف دوم اور صف سوم میں بھی وہ باہمت خواتین موجود رہیں جنھوں نے جنرل ضیاء الحق کے نام نہاد اسلامی دور کے ستم سہے لیکن کبھی ضیا شاہی کو پیٹھ نہیں دکھائی۔ قدرے حیرت پی ٹی آئی پر بھی ہوئی جس کے رہنما اپنی انتخابی اور احتجاجی مہم کے دوران پڑھی لکھی اور پُرجوش خواتین کے جھرمٹ میں رہے ہیں لیکن جب دیر بالا اور ایسے ہی دوسرے علاقوں میں خواتین کی انتخابات میں حصے داری اور حد تو یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے تو وہ بھی ثقافت اور روایت کے نام پر علاقے کی مذہبی تنظیموں کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں عافیت جانتے ہیں۔

اے این پی کو داد دینی چاہیے کہ اس نے باچا خان اور ولی خان کی ترقی پسند سیاست سے کنارہ نہیں کیا بیگم ولی خان سے بشریٰ گوہر تک سب ہی جان ہتھیلی پر رکھ کر صوبے اور ملک کے سیاسی عمل میں شریک رہیں۔ ہم کو سوال جماعت اسلامی سے کرنا چاہیے جس میں محترمہ سمیعہ راحیل قاضی، محترمہ عائشہ منور اور دوسری بہت سی متحرک خواتین ہیں جو کراچی ، لاہور ، اسلام آباد میں جلسے کرتی ہیں، جلوس نکالتی ہیں، انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، پارلیمنٹ اور سینیٹ میں پہنچتی ہیں لیکن جماعت اسلامی سے قلبی تعلق رکھنے والی وہ خواتین جو مالاکنڈ، دیربالا اور ایسے ہی دور افتادہ علاقوں میں بیٹھی ہیں، انھیں انتخابی عمل کا حصہ بننے حد تو یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم رکھا جاتاہے۔

میں اس دہرے معیار کے بارے میں کئی بار لکھ چکی ہوں لیکن اس مرتبہ مجھے اس بات کی مسرت ہے کہ دیربالا میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں عورتوں نے ووٹ ڈالے۔ یہ نشست جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کے ہاتھوں سے نکل گئی جو ان کی یقینی نشست سمجھی جاتی تھی۔

یہ غور و فکر کی بات ہے کہ2013ء سے 2015ء کے درمیان ایسا کیا واقعہ رونما ہوا جس کے سبب دیربالا کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جماعت اسلامی کا دامن چھوڑ دیا۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں جماعت اور تحریک انصاف مشترکہ طور پر حکومت کر رہی ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پیپلزپارٹی، اے این پی، پی ایم ایل (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ضمنی انتخاب میں پی کے 93 پر مشترک امیدوار کھڑا کریں گی جو بھاری ووٹوں سے جماعت اسلامی کے امیدوار کو شکست دیدے گا۔

جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والے اس سے برگشتہ ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، تو پھر ایک ایسی جماعت کے ووٹروں پر آخر کیا گزری کہ انھوں نے ایک بنیادی فیصلہ کیا اور جماعت کو ووٹ نہیں دیا ۔

غیر جانبدار حلقے خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کی خاطر پی ٹی آئی سے جماعت کے جُڑنے کو بہ نظر غائر دیکھ رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات پی ٹی آئی کی خواتین کو ناگوار گزرے گی جنھیں جماعت کے کٹر پن کا بہ خوبی اندازہ ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی سے وابستگی رکھنے والوں کے لیے جماعت کا پی ٹی آئی سے اشتراک ناگوار خاطر ہو گا۔ وہ خاندان جن کی کئی نسلیں جماعت اسلامی کی ہر بات پر آمنا صدقنا کہتے گزر گئیں وہ صرف ایک صوبے کی حکومت میں شامل ہونے کے لیے اصولوں کی اتنی بڑی قربانی کو کن نگاہوں سے دیکھیں گی۔

بات اگر صرف یہیں تک رہتی تب بھی معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا لیکن اپنی روایت اور ثقافت پر ایمان رکھنے والے جماعتی کا رکنوں نے جب عمران خان کا 126 دنوں پر مشتمل دھرنا اور اس میں رات گئے تک رقص و موسیقی کا اہتمام دیکھا تو یہ سب کچھ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ دھرنا یقیناً اسلام آباد میں ہو رہا تھا لیکن کیبل ٹیلی وژن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں پہنچ رہا تھا اور جماعت اسلامی کے پرانے کارکنوں کے گھروں میں سوال اٹھ رہے تھے۔

ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ پھر ہم اپنے گھرانوں کی پردہ دار بیبیوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سے کیوں محروم کریں۔ اس کا اظہار ان باپردہ خواتین کی قطاروں سے ہوا جو پی کے 93 کے ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچیں اور جنھوں نے لگ بھگ نصف صدی بعد اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ پولنگ بوتھ تک پہنچنے والی ہر عورت نے اپنا ووٹ پیپلزپارٹی کو دیا لیکن وہاں کے نتائج ہمیں بہت کچھ بتا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا یہ ایک وتیرہ رہا ہے کہ ہر اس جگہ سے جہاں وہ ہار جائے، دھاندلی کا واویلا مچا دیتی ہے لیکن اس بار اس نے احتیاط سے کام لیا ہے۔

دیر بالا میں جو ووٹ جماعت اور پی ٹی آئی کے امیدوار کو ملنے تھے وہ پی پی پی کے امیدوار کو دیے گئے۔ دیربالا کے اس حلقے میں پہلی بار خواتین نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دیربالا سے آنے والی خبروں کے مطابق 38 برس میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ خال اور وری کی تحصیلوں میں دو ہزار سے زیادہ عورتوں نے ووٹ ڈالے جب کہ عورتوں کے لیے مخصوص کیے جانے والے بیشتر پولنگ بوتھ سنسان رہے اور ان میں الو بولتے رہے۔ پی کے 93 میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 1,48000 تھی، اس کے باوجود مرد ووٹر بھی بہت کم تعداد میں گھروں سے نکلے۔

اس کی شاید یہ وجہ ہو کہ جماعت اسلامی کے امیدوار ملک بہرام جو اس نشست سے کامیاب ہوئے تھے، انھیں اس لیے اپنی اس نشست سے محروم ہونا پڑا کہ ان کی ڈگری جعلی تھی۔ علاقے میں لوگوں کا ووٹ ڈالنے کے لیے نہ نکلنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ اپنے امیدوار سے اس بددیانتی کی امید نہیں کر رہے تھے ۔

دیر بالا کا یہ ضمنی انتخاب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے چشم کشا ہے، بطور خاص ان لوگوں کے لیے جو شہروں، قصبوں اور دور دراز علاقوں کے لیے دہرے معیار رکھتے ہیں، اس ضمنی انتخاب کے نتائج پر چند ٹیلی وژن چینلوں پر گفتگو ہوئی لیکن بولنے والوں نے بات چیت میں احتیاط برتنے کو ہی مناسب جانا۔

ہمارے اردو اخباروں میں کارٹون ذرا کم ہی چھپتے ہیں لیکن انگریزی اخبار اس طرح کا پرہیز نہیں کرتے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں ایک کارٹون شایع ہوا ہے جس پر کارٹونسٹ صابر نذر کو جتنی داد دی جائے وہ کم ہے۔ اس کارٹون میں جماعت اسلامی کے رہنما ایک برقع پوش خاتون کی پیٹھ پر کھڑے ہیں اور فتح کا نشان دکھا رہے ہیں، پھر وہی خاتون انھیں جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور اپنی انگلیوں سے فتح کا نشان بنا رہی ہے جب کہ رہنما زمین پر گرے ہوئے ہیں۔ صابر نذر نے واقعی کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔ افسوس کہ یہ کوزے ہمارے اردو اخباروں کے حصے میں ذرا کم آتے ہیں۔

دھرنوں کے بعد ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے اپنے یا اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کے ہارنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دیر بالا کی حالیہ شکست پر عمران خان نے منیر نیازی کا ایک مصرعہ حسبِ عادت جوش خطابت میں پڑھ دیا اس کا مفہوم یہ تھا کہ کچھ شہر کے لوگ بھی ظالم تھے اور کچھ ہم کو مرنے کا شوق بھی تھا ۔ پی ٹی آئی کے لیے اس شعر کی سیاسی تشریح یہ ہے کہ عوام کو بے وقوف ہرگز نہ سمجھا جائے وہ ناخواندہ ضرور ہوتے ہیں لیکن جاہل ہرگز نہیں ہوتے۔ وہ پُر جوش تقریروں پر تالیاں تو خوب بجاتے ہیں لیکن ووٹ بہت سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔

شکر ہے کہ خان صاحب نے دھاندلی کا الزام لگانے کے بجائے عوام کو ظالم سمجھا اور کچھ ہم کو مرنے کا شوق بھی تھا کی تشریح یوں کی جانی چاہیے کہ ہر سیاسی محاذ پر مسلسل شکست کے بعد عمران خان صاحب نے سیاسی ناکامیوں میں اپنے کردار کو بھی تسلیم کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک اچھی سیاسی پیشرفت ہے جسے جاری رہنا چاہیے۔

مقبول خبریں