مذہبی انتہا پسندی 40 ہزار جانیں لے چکی تاج حیدر

بیور کریسی انتشار چاہتی ہے، چھوٹے معاملات کو جواز بناکر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں.


Nama Nigar October 21, 2012
ایم پی اے سے زیادہ تنخواہ لینے کے باوجود استاد ڈیوٹی نہیں کرتے، مٹھی میں میلے سے خطاب. فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری تاج حیدر نے کہا ہے کہ ملک میں جاری مذہبی انتہاء پسندی کے باعث 40 ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

ہمیں مذہبی انتہا پنسدی ختم کرنا ہوگی جن کے ہاتھوں میں عملدرآمد کی طاقت ہے وہ خود رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مٹھی میں سماجی تنظیم اسپارک کی جانب سے بچوں کی جبری مشقت کے خلاف لگائے گئے ثقافتی میلے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اسکول کے بچوں کی بڑی تعداد کے علاوہ تھر کے باشندوں، سرکاری افسران نے بھی میلے میں شرکت کی۔ تاج حیدر نے کہا کہ بیور کریسی انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے، چھوٹے معاملات کو جواز بناکر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، جمہوریت اور قربانیوں کے بعد احتجاجی سیاست ہم نے بھی کی ہے۔

اب سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ ایک سو گیارہ بلین ہے، رکن صوبائی اسمبلی سے زیادہ استاد کو تنخواہ ملتی ہے، سرکاری اسکولوں میں مجموعی طور پر سال بھر میں 154 دنوں کی ڈیوٹیاں ہیں، وہ بھی اساتذہ نہیں کرتے۔ اس موقع پر اسپارک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رزینہ جیلانی نے کہا کہ جبری مشقت کے خاتمے کیلیے حکومت، سول سوسائٹی اور این جی اوز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر اسکول کے بچوں نے ٹیبلوز اور تقاریر پیش کیں۔

مقبول خبریں