وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کیا جائے

پاکستان میں وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر نے عوام کے لیے بے شمار مسائل پیدا کیے ہیں


Editorial September 21, 2015
وی وی آئی پیز اور وی آئی پیز خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں جب کہ عوام کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے گزشتہ روز کراچی آمد پر ٹریفک پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے جانے پر ناپسندیدگی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ تکلیف دہ امر ہے کہ ان کی ایئر پورٹ سے رہائشگاہ کے راستے میں معمول کی تمام ٹریفک روک دی گئی، انھوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ان کی آمد و رفت کے موقعے پر خصوصی روٹ لگایا جائے نہ ان کے راستوں پر ٹریفک روک کر عوام کو پریشان کیا جائے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے عزت مآب چیف جسٹس کی طرف سے اپنے بارے میں اس مہذب ہدایت کے بعد اب کسی دوسری شخصیت کے لیے یہ جواز نہیں رہتا کہ وہ ماضی بعید سے جاری بعض ناپسندیدہ ضوابط کی آنکھ بند کر کے پابندی کرتے رہیں۔

اگر تو روٹ لگانے کی منطق یہ ہے کہ اس طرح اس اہم اور قیمتی شخصیت کی خصوصی حفاظت ہو سکے گی حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس طرح تو بندہ اور زیادہ نظروں میں آ جاتا ہے اور بدخواہوں کو آسانی فراہم ہوتی ہے۔ گویا سر نیہوڑائے چلے جانا زیادہ محفوظ ہے۔ پاکستان میں وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر نے عوام کے لیے بے شمار مسائل پیدا کیے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس امتیازی کلچر نے معاشرے میں سماجی اونچ نیچ کو ہوا دی ہے، وی وی آئی پیز اور وی آئی پیز خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں جب کہ عوام کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اس کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔