انقلابِ فرانس کے عوامل و نتائج
غریب عوام سے ٹھیکے داروں کے ذریعے جبری طور پر ٹیکس وصول کیا جاتا...
پاکستان کے عوام 1968 اور 1977 کے بعد آج تیسری بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں اگر انھوں نے اپنی اجتماعی طاقت کو اس فرسودہ اور انتہائی کرپٹ نظام کی تبدیلی کے لیے استعمال نہ کیا اور اپنی طبقاتی دشمن اشرافیہ(ایلیٹ) کی سازشوں کا شکار ہوگئے تو پھر ایک لمبے عرصے کے لیے انھیں اسی سیاسی، سماجی اور اقتصادی غلامی میں رہنا پڑے گا، جس میں وہ پچھلے 65 سال سے پھنسے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں اس ملک کی ایلیٹ نے بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ انھیں زبان، قومیت، فقہوں سمیت کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر انھیں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار کردیا ہے، لیکن ایسے حالات سے دنیا کی دوسری قومیں بھی گزری ہیں اور انھوں نے اس قسم کے انتشار سے نکلنے کی کامیاب کوششیں بھی کی ہیں۔ اس حوالے سے ہم یہاں ایک بار پھر 1789 کے فرانس، انقلابِ فرانس کے عوامل اور اس کے نتائج کا ایک سرسری جائزہ پیش کررہے ہیں۔ شاید ہمارے ملک کے 18 کروڑ غریب عوام فرانسیسی عوام کی جدوجہد سے کوئی سبق حاصل کرلیں اور انھیں اپنے لیے رول ماڈل بنالیں۔
1789 میں فرانس کی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوچکی تھی، فرانس طبقاتی ظلم وستم، سماجی انارکی، قانون اور انصاف کی بدنظمی کا شکار تھا۔ 18 ویں صدی میں فرانس بادشاہ لوئی شانز دہم کی مضبوط مرکز کی حامل حکومت کے زیر اثر تھا جو امراء، پادریوں وغیرہ پر مشتمل شاہی کونسل (پارلیمنٹ) کے ذریعے حکومت کرتا تھا۔ اس کے ارتکازِ اختیارات کا عالم یہ تھا کہ کوئی شہر، کوئی قصبہ، کوئی گائوں، کوئی اسپتال ، کوئی خانقاہ یا ادارہ ایسا نہ تھا جو اپنی مرضی سے کام کرسکے۔ اس وقت فرانس 34 صوبوں میں بٹا ہوا تھا اور ہر صوبہ انارکی کا شکار تھا۔ عدالتی نظام چوں چوں کا مربہ بنا ہوا تھا۔ جاگیرداروں کی اپنی الگ عدالتیں تھیں۔ عدالتوں کے عہدے فروخت ہوتے تھے اور دولت مند اشرافیہ یہ عہدے خرید کر اپنی اولاد کو ترکے میں دیتی تھی۔ ٹیکسوں کا نظام انتہائی ظالمانہ تھا۔
غریب عوام سے ٹھیکے داروں کے ذریعے جبری طور پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ امراء اور پادریوں کو ٹیکس کی مکمل چھوٹ حاصل تھی۔ کسان طبقے سے ٹیلی، پول اور ونگ ٹیکس کے نام پر ڈنڈے کے زور پر ٹیکس وصول کیے جاتے۔ ہر کسان کا فرض تھا کہ وہ سڑکوں کی دیکھ بھال اور فوج کی نقل و حرکت کے حوالے سے بیگاری خدمات انجام دے۔ کسٹم ڈیوٹی، نمک آبکاری، تمباکو، شراب، سونے چاندی کے نام پر بھی عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا۔ ہر شخص کے لیے سات پائونڈ کا کوٹہ مقرر تھا، خواہ وہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ اسے 7 پائونڈ نمک خریدنا پڑتا تھا۔ اس قانون کے ذریعے نمک کے ٹھیکے دار امراء کو فائدہ پہنچایا جاتا تھا۔ فرانس کا طبقاتی ڈھانچہ تین حصّوں میں بٹا ہوا تھا۔
طبقۂ اوّل جاگیردار، امراء طبقہ دوم مذہبی پیشوا یعنی پادری، پادریوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار، چھوٹے پادریوں کی تعداد ساٹھ ہزار اور راہبوں، راہبائوں کی تعداد بھی ساٹھ ہزار تھی، طبقۂ سوم میں غریب عوام تھے، فرانس پاکستان کی طرح زرعی ملک تھا، دو کروڑ سے زاید کسان زرعی غلاموں کی زندگی گزارتے تھے۔ مزدوروں کا حال انتہائی ابتر تھا۔ ان کی اجرتیں انتہائی کم اور اوقات کار بہت زیادہ تھے۔ بالائی طبقے عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے اور غریب طبقات کی زندگی جہنم بنی ہوئی تھی۔ پروفیسر لاج کا کہنا تھا کہ انقلابِ فرانس کی اصل وجہ معاشی عدم مساوات اور طبقاتی استحصال تھی۔
اس بدتر صورتِ حال کے خلاف والٹیئر، مانٹیگو اور روسو نے عوام میں فکری انقلاب برپا کیا۔ توہم پرستی، ضعیف الاعتقادی، رجعت پرستی کے خلاف جہاد کیا اور عوام میں عقل و فہم کا سورج طلوع ہوا۔ انقلابِ فرانس میں متوسط طبقے نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قحط سالی کی وجہ سے ملک کے دوسرے علاقوں سے ہزاروں بھوکے پیرس میں جمع ہوگئے تھے۔ عوام اس استحصالی نظام کا خاتمہ چاہتے تھے۔ عوام میں پھیلی بے چینی کو دیکھ کر بادشاہ نے فوج کی مدد لی۔
یکم جولائی سے فوج کی آمد شروع ہوئی، اس فوج میں بادشاہ نے جان بوجھ کر جرمن اور سوئس دستوں کو شامل کیا جو عوام پر ظلم ڈھانے میں مشہور تھے۔ فوجوں کی آمد سے عوام میں بے چینی بڑھ گئی۔ اس انارکی میں پیرس کے عوام نے 27 جون کو ہوٹل واٹل میں جمع ہو کر شہر کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لینے کا اعلان کردیا۔ 11 جولائی کو نیشنل گارڈ نامی ایک فوج بنالی اور اس کا ایک کمانڈر مقرر کردیا۔ نیکر نامی ایک وزیر مالیات عوام میں بہت مقبول تھا، جب اسے برطرف کرنے کی خبر عوام میں پہنچی تو عوام بھڑک اُٹھے۔ ایک پُرجوش صحافی ڈسمولینز نے جب عوام میں ایک جوشیلی تقریر کی تو عوام میں آگ بھڑک اُٹھی۔ عوام کا ہجوم ڈسمولینز کی قیادت میں قلعے بیسٹائل کی طرف چل پڑا، جہاں ہتھیاروں کے ذخائر تھے۔ فرنچ گارڈ ان کے ساتھ تھے۔ شاہی فوج نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔
عوام بیسٹائل قلعے کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے اور اسلحہ لوٹ لیا۔ مشتعل عوام نے سیکڑوں فوجیوں کو قتل کردیا اور ان کے ایک کمانڈر کو قتل کرکے اس کے سر کو نیزے پر رکھ کر سارے شہر میں گشت کیا۔ پیرس کی جیل کی اینٹ سے اینٹ بجا کر بے گناہ شہریوں کو آزاد کرایا۔ بادشاہ نے کہا یہ بغاوت ہے۔ عوام نے کہا۔ یہ انقلاب ہے۔ امریکا سمیت کئی ملکوں کے عوام نے انقلاب فرانس کا جشن منا کر استقبال کیا۔ شاعروں نے نظمیں لکھیں۔ ایک وزیر کو جس نے بھوکے عوام کو گھاس کھانے کا مشورہ دیا تھا، اس کے داماد کے ساتھ ایک کھمبے پر لٹکادیا۔ امراء اور پادری اپنی جانیں بچانے کے لیے ملک سے فرار ہونے لگے۔
عورتوں کے ایک مشتعل جلوس نے شاہی قلعے میں گھس کر بادشاہ اور ملکہ کو باہر نکالا۔ تمام صوبوں میں مشتعل کسانوں نے جاگیرداروں اور امراء کا قتلِ عام شروع کیا اور ان کی املاک کو آگ لگادی۔ 4 اگست کو کائونٹ نوایلیز نے کہا۔ ''ان تمام ہنگاموں کی وجہ جاگیردارانہ نظام ہے۔'' عوامی غیظ و غضب کا یہ سلسلہ 1794 تک جاری رہا، جس میں بادشاہ، ملکہ، پادریوں، امراء سمیت لاکھوں انسانوں کو قتل کردیا گیا۔
انقلاب فرانس کی ایک بڑی کمزوری یہ تھی کہ اسے کسی انقلابی پارٹی کی قیادت حاصل نہ تھی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ انقلاب نراجیت میں بدل گیا، لیکن اس دور کے اہل فکر نے اس انقلاب کے کچھ مثبت نتائج پر بھی روشنی ڈالی۔ فرانس کے عوام جو انقلاب سے پہلے بے شمار ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے، ان میں قومیت کا جذبہ پیدا ہوا، وہ متحد ہوگئے، امراء اور پادریوں کی بالادستی ختم ہوئی۔ حقوق انسانی کا تعیّن ہوا، نیا دستور بنا، انتظامی اصلاحات کی گئیں، کلیسائی نظام ختم کرکے کلیسائی جائیداد ضبط کرلی گئی۔
جاگیردارانہ نظام ختم ہوا۔ مذہبی رواداری کے فروغ کے اقدامات کیے گئے۔ مالی اصلاحات کی گئیں۔ فرانس کے اعلانِ آزادی کی 16 دفعات وضع کی گئیں۔ فرانس سے بادشاہت کا خاتمہ ہوا جو انقلاب بیسٹائل قلعے کی فتح سے شروع ہوا تھا، اس کی بنیاد طبقاتی استحصال کے خلاف بغاوت تھی، بیسٹائل کی فتح کو فرانسیسی عوام ہر سال فتح کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ پاکستان آج جس تبدیلی کے موڑ پر کھڑا ہے، اس کا مقصد جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے، اس نظام کے خاتمے سے وہ تمام بُرائیاں خود بہ خود ختم ہوجائیں گی، جن کا مشاہدہ ہم آج کررہے ہیں اور حقیقی عوامی جمہوریت کی راہ ہموار ہوگی۔