جناح سے بے وفائی
2012 کا نو روز گزر چکا۔ دلی کی گلیوں میں پھولوں کی خوشبو ہے۔
2012 کا نو روز گزر چکا۔ دلی کی گلیوں میں پھولوں کی خوشبو ہے۔ ہم اشوک وہار پہنچتے ہیں جہاں دلی یونیورسٹی کا ستیہ وتی کالج ہے ۔ یہاں میرا ایک لیکچر ' Beyond Borders: People and Perception ' ہونے والا ہے۔ دلی یونیورسٹی کے پرو۔وائس چانسلر پروفیسر سنجنا اور کئی دوسرے پروفیسرز کے درمیان میں انھیں ڈھونڈتی ہوں لیکن وہ نظر نہیں آتیں۔کچھ دیر بعد نمودار ہوتی ہیں۔ نیلی ساڑی اور چہرے پر مسکراہٹ، چشمے کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی ذہین آنکھیں۔ بہت گرم جوشی سے ملتی ہیں ۔
یہ ڈاکٹر اجیت جاوید ہیں جنہوں نے جواہر لال یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا اور رستیہ وتی کالج میں پولٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کی ریڈر ہیں۔کئی عمدہ کتابیں لکھ چکی ہیں۔ بہ طور خاص چند برس پہلے ان کی کتاب سیکولر اور نیشنلسٹ جناح شایع ہوئی تو اس نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ایک تہلکہ سا مچادیا تھا۔ اس کا ہندی اور اردو میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ محمد عمر برنی اس کے اردو مترجم ہیں۔ لیکچر کے بعد دوپہر کے کھانے پر ہم دونوں دیر تک باتیں کرتے رہتے ہیں۔
میں ان کی کتاب Heritage of Harmony کا ذکر کرتی ہوں تو وہ قدرے حیرت سے کہتی ہیں کہ پاکستانی میری اس کتاب کا نام نہیں لیتے حالانکہ اس میں وسطی ہندوستان کے معاملات بیان کیے گئے ہیں۔ میں ان کو اس کاوش پر داد دیتی ہوں۔ اپنی اس کتاب میں ڈاکٹر اجیت نے اسلام اور ہندوازم کے درمیان میل جول اور روابط کے معاملے پر قلم اٹھایا ہے اس کے علاوہ صوفی اور بھگتی تحریک کے عروج کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
تین مہینے بعد جون 2012 میں وہ کراچی آئیں اور انھوں نے فورم فار سیکولر پاکستان کے پلیٹ فارم سے ' محمد علی جناح کا سیاسی سفر اور وژن ، کے عنوان سے ایک لیکچر دیا۔
یوں تو جناح صاحب پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ان کی سوانح عمری کے ذیل میں سب سے زیادہ شہرت اور اہمیت جنھیں حاصل ہوئی وہ ہیکڑ بولاتھ، اسٹنلے والپرٹ، لیاقت مرچنٹ اور جسونت سنگھ کی لکھی ہوئی سوانح ہیں۔ اجیت جاوید کی کتاب ان تمام سوانح عمریوں کے بعد آئی اور اس نے دونوں ملکوں میں ہلچل پیدا کی۔ ان کی کتاب کا ترجمہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ہوا۔ میرے پاس ' سیکولر اور نیشنلسٹ جناح ' کا اردو ایڈیشن موجود ہے جو دلی سے شایع ہوئی اور جس کی بہت پذیرائی ہوئی۔کچھ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے اجیت کے خیالات سے اختلاف کیا لیکن مشکل یہ ہے کہ اجیت نے جو بھی نتائج اخذ کیے ہیں وہ جناح صاحب کی تحریروں تقریروں اور بیانات سے لیے گئے ہیں ۔
فورم فار سیکولر پاکستان کے لیکچر کے بعد ڈاکٹر جعفر احمد اور ان کی بیگم انور شاہین نے ایک ڈنر دیا، میں بھی جس میں شریک تھی اور ہم لوگ حسب معمول پاکستان اور ہندوستان کے باہمی تعلقات، دونوں طرف کی نوکرشاہی کا کتابوں اور جرائد کے باب میں علم دشمن رویہ، اس سے کہیں زیادہ دنوں ملکوں کے بیچ کھڑی کی جانے والی ویزا کی دیوار چین، سب ہی زیر بحث آئے۔ ہم ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تو اس یقین کے ساتھ کہ اگلے برس یا اس سے اگلے برس ایک بار پھر ملیں گے ۔ لیکن آنے والے دنوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں۔ لگ بھگ ایک مہینے پہلے ڈاکٹر جعفر کا فون آیا۔ ایک اذیت ناک بیماری جھیل کر اجیت ہم سب سے رخصت ہوگئیں۔ ایک خوش دل، خوش گفتار اور خوش خیال دانشور سے ہم بچھڑ گئے۔
رخصت تو سب ہوجاتے ہیں کہ یہ ہر ذی روح کا مقدر ہے لیکن ان کے نام رہ جاتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں یاد رہ جانے والا کوئی کام کیا ہو۔ اجیت ابھی بہت دنوں تحقیقی اور تخلیقی کام کرسکتی تھیں لیکن ناوقت موت نے ہمیں ان کی کئی تخلیقات سے محروم کردیا۔
ان کی کتاب ' سیکولر اور نیشنلسٹ جناح ' کا ہم پاکستانیوں کو بہ طور خاص مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہم پاکستانیوں کی اکثریت ابتدا سے ہی جناح صاحب کو صرف مذہبی رنگ میں عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔ ان جیسے روشن خیال اور وسیع النظر شخص کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی نہیں ہوسکتی۔
ستمبر 2010 میں ہندوستان کے ایک مشہور سیاسی اور علمی ہفت روزہ' مین اسٹریم، میں ڈاکٹر اجیت کا ایک طویل مضمون شایع ہوا تھا جس کا عنوان تھا 'پاکستان نے جناح سے بے وفائی کی'۔ اس کی ابتدائی سطروں میں ہی انھوں نے برصغیر میں فرقہ واریت کے ابھار کے حوالے سے جناح صاحب کی ایک گفتگو کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے اپنے عزیز دوست سرتیج بہادر سپرو سے کہا تھا کہ '' سپرو تم اپنے پنڈتوں سے چھٹکارا پالو اور ہم اپنے ملاؤں سے ۔ اس کے بعد ہمارے یہاں سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائے گا۔''
اجیت نے لکھا ہے کہ ترکی کے مصطفیٰ کمال ان کا رول ماڈل تھے جنہوں نے اپنے ملک سے خلافت ختم کر کے وہاں جمہوریت قائم کی تھی ۔ انھوں نے یہ بھی لکھا کہ انھیں مذہب سے کوئی وابستگی نہ تھی۔ انھوں نے اپنے ہندو اجداد کے بارے میں کبھی کچھ نہیں چھپایا۔ مسلم سول سوسائٹی میں مذہبی مداخلت کو دور رکھنے کے لیے انھوں نے انڈین ، سینٹرل لیجیسلیٹو اسمبلی میں شریعت بل اور قاضی بل کی مخالفت کی اور اس میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب افراد کا ذاتی معاملہ ہے اور اسے سیاست کے میدان میں نہیں گھسیٹا جا سکتا ۔
اجیت جاوید نے جناح صاحب کی ذات اور سیاست کے اس پہلو کا احاطہ کیا ہے جس سے پاکستان کی اکثریت ناواقف ہے اور اگر کوئی بانی پاکستان کے اس پہلو کو ثبوت و شواہد کی بنیاد پر سامنے لانے کی کوشش کرے تو لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں اور اگر وہ کوئی غیر مسلم ہوتو اسے پاکستان دشمن اور اسلام دشمن کہنے سے نہیں چوکتے ۔اجیت کی ضخیم کتاب ہمارے سامنے جس بانی پاکستان کی تصویر پیش کرتی ہے ، وہ اس سے قطعاً مختلف ہے جس سے ہمارے عوام اور طلبہ واقف ہیں۔
یہ المناک بات ہے کہ جس شخص نے اپنی ساری زندگی جمہوریت ، سیکولرازم ، غیر فرقہ واریت کے لیے وقف کردی تھی، پاکستان بننے کے صرف 4 مہینوں بعد اسے کراچی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا صدمہ سہنا پڑا۔کراچی اس ملک کا دارالحکومت تھا جس کے لیے انھوں نے اپنی زندگی کے آخری برس یہ جانتے ہوئے بھی داؤ پر لگا دیے تھے کہ ٹی بی نے ان کے بدن سے طاقت کی رمق نچوڑ لی ہے۔ اس جاں کاہ صدمے کے بارے میں ڈاکٹر اجیت جاوید لکھتی ہیں:
''سال کے آخر میں کراچی میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہوگئے ۔ جناح ان سے بہت پریشان تھے۔ گل حسن خان، جناح کے اے ۔ ڈی سی لکھتے ہیں کہ ایک دن انھوں نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ کیا میں نے اپنے ہندو دوست کو کھانا فراہم کیا ہے ؟اس کے والد کو جناح جانتے تھے۔ میں نے '' ہاں '' میں جواب دیا اور بتایا کہ اس کا مکان بندر روڈ پر ہے جو تمام فسادات کا مرکز ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اس نے اور اس کے نوکروں نے گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کی ہوگی۔ ان (جناح ) کے دیگر خیالات کو رفع کرنے کے لیے میں نے کہا کہ میں (گورنر جنرل) ہاؤس کی ایک کار استعمال کرتا ہوں۔ اس کے ڈرائیور کو کھانے پینے کا سامان خریدنے کے لیے اپنی جیب سے رقم دیتا ہوں تاکہ اندھیرا ہونے کے بعد جب کرفیو لگتا ہے یہ سامان (دوست کے گھر) پہنچایا جاسکے۔ انھوں نے تیز ٹھنڈی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا۔ '' مجھے آپ پر فخر ہے ۔ پاکستان کے لوگوں کی مشکل میں مدد ہونی چاہیے۔''
''وہ پُر تشدد قوتوں کے سامنے بے بس و مجبور تھے۔ جنونی لوگوں نے پاکستان بننے تک ان کو برداشت کیا اب ان کو جناح کی ضرورت نہیں تھی اوران کی مقامی اساس بھی نہیں تھی کیونکہ وہ ممبئی والے تھے۔ جناح، گورنر جنرل پاکستان ، کمانڈر اعلیٰ افواج پاکستان ، صدر دستور ساز اسمبلی اور صدر مسلم لیگ اخباری پروپیگنڈے اور جسمانی حملے کے نشانے پر تھے۔ جناح نے انھیں تقسیم سے پہلے استعمال کیا تھا۔ ان لوگوں نے پاکستان بننے سے قبل ان کی باتوں کو برداشت کیا تھا۔ اب انھوں نے ارادہ کرلیا تھا کہ وہ ان کے پسندیدہ اقدامات کو ناکارہ کردیں گے اور سخت رکاوٹیں کھڑی کریں گے ۔
پاکستان میں جناح اور ان کے ہم خیال جدید ترقی پسند اور سیکولر لوگوں کی رجعت پسندوں کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ان حالات میں جناح کی حالت قابل رحم تھی ۔ دستور ساز اسمبلی میں ان کی تقریر نے ایسا ( ان کے قریبی پیروکاروں میں بھی ) '' نفرت کا طوفان اٹھایا کہ اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی تقریر کے بہت سے حصے اکثر پاکستانی اخباروں نے نہیں چھاپے۔''
ڈاکٹر اجیت نے اپنی بات مستند کتابوں ، بیانات اور گفتگوؤں کے حوالے سے کی ہے۔ بانی پاکستان کا حق ہے کہ ان کی یہ باتیں پاکستانیوں کے علم میں آئیں۔ اس کے لیے ڈاکٹر اجیت جاوید کی کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ ان کی یہ کتاب ہندوستان کے ایک بڑے حلقے میں نا پسند کی گئی اور انھیں پاکستان کا حمایتی کہا گیا۔ ہمیں سوچنا تو ہوگا کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم نے واقعی جناح سے بے وفائی کی ہے۔