بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی

ڈاکٹروں اورہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو تحفظ حاصل ہوا،


Dr Tauseef Ahmed Khan September 23, 2015
[email protected]

نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر حاصل بزنجو نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کردیا کہ معاہدہ مری پر عمل درآمد ہوگا اور دسمبر میں ڈاکٹر عبد المالک بلوچ وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور مسلم لیگ ن اپنا وزیر اعلیٰ نامزد کرے گی۔

اس بات کا امکان ہے کہ چیف آف جھالاوان ثناء اللہ زہری نئے وزیر اعلیٰ ہوں گے مگر مری قبیلے کے سربراہ چنگیزمری بھی اس عہدے کے لیے امیدوارہیں۔ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ کا تعلق مکران ڈویژن کے شہر تربت سے ہے، وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پہلے بلوچ ہیں جو وزیراعلیٰ کے عہدے پر پہنچے ۔ جنرل یحیٰ خان نے عوامی تحریک کے مطالبے کومنظور کرتے ہوئے 1969میں ون یونٹ کے خاتمے اور بلوچستان کو مکمل صوبے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تھا پھر 1973کے آئین کے نفاذ کے بعد ملک میں پارلیمانی نظام پر عمل ہوا۔بلوچستان میں ہمیشہ بلوچ سردار وزیر اعلیٰ بنے۔گورنر کا عہدہ سرداروں کو ملا یا فوجی جنرل اس عہدے پرتعینات ہوئے۔

ڈاکٹر عبدالمالک کی ابتدائی تربیت بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO)میں ہوئی پھر بلوچستان نیشنل موومنٹ BNMقائم کرنے والوں میں شامل ہوئے۔ بی این ایم کے نمایندے کی حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور وزیر کی حیثیت سے بگٹی کی بلوچستان کا بینہ میں شامل رہے۔ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ آئی اسپیشلسٹ ہیں ۔ ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں ۔اگر سیکیورٹی کے مسائل نہ ہو تو پروٹوکول کواہمیت نہیں دیتے۔

ڈاکٹر عبد المالک بلوچ جب وزیر اعلیٰ بنے تو انھوں نے کراچی میں سیاسی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مخلوط کابینہ کے سربراہ ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں ان کی جماعت اقلیت میں ہے یوں ان سے کسی بڑے انقلاب کی توقع نہ کی جائے مگر ان پر الزام نہیںسنے گئے کہ مالک کسی کرپشن میں ملوث ہیں۔ ڈاکٹر مالک نے اپنی بات کا پاس کیا۔ انھوں نے ایک شفاف طرز حکومت کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ڈاکٹر مالک جب وزیر اعلیٰ بنے تو پیپلز پارٹی کی اسلم رئیسانی کی برے طرز حکومت کی بناء پر صوبائی حکومت کا ڈھانچہ مفلوج ہو چکا تھا ۔

ایک طرف لاپتہ سیاسی کارکنوں کا مسئلہ اہم تھا دوسری طرف ہزارہ برادری کی نسل کشی ،اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ کابہت زور تھا۔کوئٹہ سے کراچی کو منسلک کرنے والی آر سی ڈی ہائی وے مکران کوسٹل ہائی وے اور دیگر شاہراہوں پر سفر ایک چیلنج کی صورت تھا۔ پھر آدھے سے زیادہ صوبے پر صوبائی حکومت کی رٹ نہیں تھی۔ کہا جاتا تھا کہ سابقہ دور میں صوبائی حکومت صرف کوئٹہ تک محدود تھی۔ ڈاکٹر مالک نے پولیس کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔

یوں کوئٹہ سے بااثر افراد کے اغواء برائے تاوان کا سلسلہ کسی حد تک رک گیا۔صوبائی حکومت کے بعض وزراء پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ گاڑیوں کی چوری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کی پشت پناہی کرتے تھے اور انتہا پسند مذہبی گروہوں کے سرپرست تھے۔ ڈاکٹر مالک نے اس صورتحال کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کیے۔ وزیراعظم نواز شریف نے صوبائی حکومت کی حمایت کی،ایک طرف ہزارہ برادری کو سکون حاصل ہوا ۔

ڈاکٹروں اورہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو تحفظ حاصل ہوا، صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت کے منصوبوں پر توجہ دی ،بلوچستان میں میڈیکل کالج اور پانچ یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔ ڈاکٹر مالک اور ان کے ماتحتوں نے ملازمتوں میں میرٹ کے اصول کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ پبلک سروس کمیشن کی خودمختاری کو یقینی بنایا اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک سابق جج کوکمیشن کا سربراہ بنایا گیا۔خاص طور پر اساتذہ کے تقررکو نیشنل ٹیسٹنگ سروس NTSکے امتحان سے منسلک کیا گیا۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ ماضی میں اراکین اسمبلی کو اساتذہ کے تقررنامے فروخت کردیے جاتے تھے۔اس طرح پورا تعلیمی نظام متاثر ہوتا تھا۔ جس کا مجموعی نقصان پورے بلوچستان کو ہوتا تھا مگر ڈاکٹر مالک کے دور میں اس روایت پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ڈاکٹر مالک کو حقیقی چیلنج صوبے سے جنگجویانہ صورتحال کا خاتمہ کرنا تھا۔ جنگجو گروہوں کے سرپرست ملک سے باہر مقیم ہیں۔

ان میں کچھ یورپی ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں،کچھ افغانستان اور کچھ خلیجی ریاستوں میں مقیم ہیں۔ صوبائی حکومت کی طے شدہ پالیسی کے تحت لندن میں مقیم خان آف قلات سلیمان داؤد سے مذاکرات ہوئے۔صوبائی اسمبلی کے اراکین کا ایک وفد لندن گیا ،ڈاکٹر مالک بھی لندن گئے ، خان آف قلات گرینڈ جرگے کے فیصلے کے بعد بلوچستان چھوڑگئے تھے، یہ گرینڈ جرگہ سو سال سے زیادہ عرصے بعد نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد منعقد ہوا تھا۔

خان آف قلات صوبائی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس بناء پر انھوں نے ڈاکٹر مالک سے مذاکرات نہیں کیے مگر دسمبر میں ڈاکٹر مالک کابینہ کے سینئر وزیر اور چیف آف جھالاوان ثناء اللہ زہری سے مذاکرات ہوئے۔ خان آف قلات کا گرینڈ جرگہ کے حکم پر وہ جلاوطن ہوئے اور اس جرگے کے ارکان کے فیصلے پر واپس آسکتے ہیں ۔

اس جرگے میں شریک ہونے والوں میں سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی بھی شامل تھے۔ اس طرح براہمداغ بگٹی کے حکام سے مذاکرات پر آمادگی کی خبریں ذرایع ابلاغ میں نمایاں طور پر شایع ہوئیں۔ براہمداغ بگٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے پہلے ڈیرہ بگٹی پر آپریشن ختم ہونا چاہیے اور حالات سازگار کرنے کے لیے عملی اقدامت نظر آنے چاہئیں۔

اس طرح پہلی دفعہ کشیدگی کم ہونے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں۔ بلوچستان امور کے ماہر عزیز سنگھور اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ بلوچستان کی سب سے بڑا مزاحمتی گروہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) ہے جب بی ایس اوکے متحارب گروپ بات چیت پر آمادہ نہیں ہوں گے بلوچستان میں صورتحال معمول پر نہیں آئے گی۔بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کا کہنا ہے کہ گوادر میں غیر ملکی سرمایہ کاری بلوچوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بی ایس اوکے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر مسلح جدوجہد اپنانے کا راستہ اپنانے میں ، دوسری طرف سیکیورٹی فورسز عسکری طریقے کے ذریعے بلوچستان میں امن کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔

ڈاکٹر عبدالمالک دو متضاد زاویوں کے درمیان فرق ختم کرنے میں ناکام رہے۔ یوں لاپتہ افراد کا معاملہ مکمل طور پر حل نہ ہوا نہ پورے بلوچستان میں مکمل امن قائم ہوا۔ دسمبر میں نئے وزیر اعلیٰ کے آنے کے بعد صورتحال بہترہوگی، سب سے اہم سوال یہ ہے۔