کلین گرین پشاور

جی خوش ہو گیا پشاور کی نئی انتظامیہ کی طرف سے، ایک بہت ہی دل کش، دل خوش اور دل پش اشتہار شایع ہوا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq September 24, 2015
[email protected]

جی خوش ہو گیا پشاور کی نئی انتظامیہ کی طرف سے، ایک بہت ہی دل کش، دل خوش اور دل پش اشتہار شایع ہوا ہے ویسے تو اس میں بہت کچھ خوش خبریاں ہیں بڑی بڑی چھوٹی چھوٹی لمبی لمبی چوڑی چوڑی رنگ برنگی شوخ و شنگی گل پتنگی مطلب یہ کہ وہ سب کچھ ہے جو ہم چاہتے تھے چاہتے ہیں اور چاہتے رہیں گے

شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے وہ دامن ہاتھ میں آئے تو

خاص طور پر ''کچرے'' کے بارے میں تو یوں کہیے کہ ایک ''کچرا گلستان'' بلکہ دبستان کھلا ہوا ہے اور سب سے زیادہ خوشی ہمیں اسی بات سے ہوئی ہے کیوں کہ پشاور میں کچرا بہت بلکہ بہت زیادہ بلکہ بہت ہی زیادہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے، نہ جانے کہاں کہاں کس علاقے اور کس خطے سے ڈھیروں ڈھیر ''کچرا'' آرہا ہے اور پشاور میں مسلسل ''ڈمپ'' ہو رہا ہے گویا پشاور نہ ہوا ''خانہ انوری'' ہو گیا ہے کہ

ہر ''کچرا ہے'' کہ از جہاں آمد
خانہ انوری تلاش کند

اس سلسلے کا آغاز سب سے پہلے مرد حق حضرت ضیاء الحق کے دور ''حقاحق'' سے اس وقت ہوا جب انھوں نے افغانستان کو کفر سے کلین اور گرین کرنے کا بیڑا اٹھایا، ظاہر ہے کہ سب سے قریبی کوڑستان یا ڈمپ اینڈ ڈمپ پشاور ہی تھا، سارا کچرا نشیب کی طرح بہا اور ایسا بہا کہ ''دریا میں بہا بندر'' تفصیل میں جائیں تو اس کچرے میں تقریباً ساری دنیا کا ''فلیور'' تھا کیونکہ امریکی کچرا گاڑی میں جتنے بھی ممالک کا کچرا تھا وہ تو تھا ہی اوپر سے کچھ اور بھی تھا۔

ان دنوں پشاور صحیح معنوں میں ایک بین الاقوامی، بین اللسانی، بین السیاراتی اور بین الواقعاتی شہر بن گیا تھا، اس کے بعد تو ''کچرے'' نے گویا اپنا گھر دیکھ لیا جہاں کہیں بھی کوئی کچھ کھاتا پیتا تھا، اوڑھتا پہنتا تھا، پھینکتا بھنکواتا تھا، رکھتا اٹھاتا تھا، وہ لڑھکتا ہوا پھسلتا ہوا اس ''گہرائی'' تک پہنچ کر رہتا جیسا کہ پہاڑوں پر جتنا بھی پانی برستا ہے وہ پیالی کے گہرے پیندے تک بہے بغیر نہیں رہتا اور یہ تو کوئی کہنے کی بات ہی نہیں کہ گند اور کچرا جہاں پہنچتا ہے وہاں کا بھی سب کچھ سڑانے لگتا ہے اور پھر وہ بارش جو گلستانوں کو تازہ کرتی ہے کوڑے کے اس ڈھیر کو مزید بدبودار بنا دیتی ہے، شہر پشاور جو وادی پشاور کے پیندے میں واقع ہے چاروں اطراف سے ''بہاؤ'' کی منزل ٹھہرا، ادھر سوات کے پہاڑ ادھر خیبر کے پہاڑ ادھر کرم کوہاٹ پارہ چنار اور وزیرستان کے پہاڑی سلسلے

دیوار کیا گری مرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

ہمارے گاؤں میں ایک بہت پرانے زمانے کی چھوٹی سی کچی مسجد تھی، الیکشن کے زمانے میں ایک امیدوار نے اچانک اعلان کیا کہ میں اس مسجد کو نئے سرے سے تعمیر کروں گا، آپ لوگ یہ پرانی عمارت ڈھا دیں، بنیادیں کھود لیں تاکہ میں یہ نیک کام کر کے ثواب دارین حاصل کر سکوں، دو ٹرالی ریت بھی اس کی طرف سے ڈال دی گئی اس دوران میں الیکشن ہو گئے اور وہ ہار گیا اور ہارنے کے ساتھ ہی غائب غلہ بھی ہو گیا، لوگ اس کے پیچھے پھرتے رہے اور وہ پکڑائی نہیں دیتا تھا۔

دراصل و ہ ایک سچا پاکستانی سیاسی تھا، ہر بار الیکشن میں وہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر لیتا تھا کہیں راستے میں دو چار ٹرالیاں ریت ڈال دیتا کہیں بجلی کے کھمبے پھینک دیتا تھا کہیں دو چار پائپ ... اور پھر الیکشن کے بعد واپس سمیٹ لیتا تھا، خیر تو مسجد بے چاری الیکشن کا شکار ہو کر کھد تو گئی اب تعمیر کون کرتا کسی خاص محلے یا قوم یا قبیلے برادری کی مسجد بھی نہ تھی چنانچہ لوگوں نے پہلے تو اس میں رستے بنا لیے پھر کوڑا ڈالنے لگے کوئی جانور مر جاتا تھا تو اسے بھی پھینک دیتے تھے یہاں تک کہ آہستہ آہستہ رفع حاجات تک بات پہنچ گئی آخر کار لوگوں نے چندہ کر کے کافی خرابی کے بعد اسے تعمیر کیا۔

ایک طرح سے پشاور شہر کی صورت حال بھی تقریباً ویسی ہی ہے کہ ہر قسم، کیٹگری اور انواع کا کچرا؟ ارے کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ''کچرے'' کے ان اقسام و انواع کے ذریعے ہم اس انسانی کچرے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو مادی آلودگی کے ساتھ ''نادیدہ آلودگیوں'' کو بھی پھیلا رہا ہے، اب ہماری مجبوری ہے کہ آپ کو سمجھانا تو ہے اور سمجھانے کے لیے ''حکایت'' سے زیادہ اور موثر ذریعہ کیا ہو سکتا ہے اور حکایات تو آپ جانتے ہیں کہ پرانی ہی ہوتی ہیں کیوں کہ ایک عرصے سے ''حکایات'' کی تخلیق بند ہو چکی ہے اور اس کی جگہ شکایات کی پیداوار کو ترجیح دی جاتی ہے تو ہم بھی

کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجیے
کبھی حکایت صبر گریز پا کہیے

بڑی گھسی پٹی شکایت ہے لیکن بادہ و ساغر کہے بغیر بات بنتی بھی نہیں وہی دیو جانس کلبی کو جب سکندر کے باپ فلپ دوم نے اپنے نئے تعمیر کردہ محل میں مدعو کیا، دیو جانس دیوانہ قسم کا فلسفی تھا، محل کے دروازے پر ایک وزیر کو اس کے استقبال کے لیے کھڑا کیا گیا، وزیر نے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور شفاف و چمک دار راہداریوں میں اسے لے چلا، دیو جانس کو اچانک کھانسی اٹھی اور تھوکنے کی ضرورت پڑ گئی ادھر ادھر دیکھا اور پھر وزیر کے منہ پر تھوک دیا۔

معزز مہمان تھا وزیر نے کچھ کہا نہیں لیکن بادشاہ کے پاس پہنچنے کے بعد اس سے شکایت کی کہ تمہارے اس معزز مہمان نے میرے ساتھ کیا کیا۔ بادشاہ نے دیو جانس کلبی سے پوچھا ۔ تو وہ بڑی معصومیت سے بول، اچھا مجھے تو پتہ نہیں مجھے تو تھوکنا تھا اور چوں کہ ہمیشہ گندی جگہ تھوکا جاتا ہے اس لیے مجھے بھی اس شفاف محل میں جو گندی جگہ نظر آئی وہاں تھوک دیا مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ اس کا چہرہ تھا، لیکن کچرے بلکہ پشاور کے کچرے بلکہ کے پی کے، کے کچرے کی بحث میں آپ لوگ بالکل بھی کچھ ایسا ویسا مت سوچیے ایسا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اس ''کیٹگری'' میں جو کچھ پشاور پہنچتا ہے وہ عالم میں انتخاب ہوتا ہے وہ منتخب دانے بلکہ دانے اوپر دانے یہاں پہنچتے ہیں کہ

بادگی بانکپن اغماض شرارت شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

گذشتہ ساٹھ ستر سال میں دیکھئے تو کیا بے مثل و مثال گوہر تابدار یہاں وہاں سے پشاور پہنچے ہیں ڈیرہ سے، بنوں سے، کوہاٹ سے، ہزارہ سے، سوات سے، دیر سے، مردان سے، نوشہرہ سے، چارسدہ سے کہ ایک ایک کا نام لیجیے تو منہ میں ''بتاشے'' گھل جاتے ہیں طبیعت خوش ہو جاتی ہے دل میں لڈو پھوٹنے لگتے ہیں، دوسروں کے غم میں ''دبلے'' ہوتے ہوتے نہ جانے کس جہاں میں کھو گئے

تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غموں سے ''فرصت'' تھی
سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی درد کا مارا گزرے تھا

ویسے اس اشتہار سے ہمیں یہ تو پکا پکا یقین ہو گیا ہے کہ اب پشاور یقیناً کچرا فری شہر ہو جائے گا کیوں کہ اشتہار خود بھی نہایت صاف و شفاف ہے اور ان میں جو تصاویر دی گئی ہیں وہ بھی بڑی صاف شفاف اور حوصلہ افزا ہیں، البتہ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کچرے کے سلسلے میں ''وزن'' کا بہت ذکراذکار ہوا ہے کہ پشاور میں روزانہ اتنا اتنا کچرا پیدا ہوتا ہے ۔

جس میں سے اتنا اتنا اٹھایا لیا جاتا ہے، فروری اور مارچ کے مہینے میں اتنے ہزار ٹن کچرا اٹھایا گیا، کل آبادی کا 89 فی صد کچرا اور اس طرح دوسرے حسابات و کتابات، دراصل حساب کتاب اور ناپ تول میں ہم بہت ہی کم زور ہیں اس لیے سوچتے ہیں کہ اس کچرے وغیرہ کو کیسے ''تولا'' گیا ہو گا اور وہ ہٹانا اور اٹھانا تو ایک طرح اس تولنے کے کام پر بھی تو کافی آدمی لگے ہوں گے اور اخراجات آئے ہوں گے۔

یہ تو ہم نے سنا تھا کہ بولنے سے پہلے تولنا چاہیے لیکن یہ بالکل بھی پتہ نہیں تھا کہ شہروں میں کچرا بھی تولا جاتا ہے، ویسے دل میں یہ اندیشہ دور و دراز بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کچرا اٹھانے اور تولنے والے لوگ تو الگ الگ ہوں گے کہیں ایسا نہ ہو دونوں میں تصادم ہو جائے کہ ہم نے ابھی تولا نہیں اور تم اٹھانے آگئے یا ہم تو اٹھانے آتے ہیں لیکن تولنے والے وقت پر نہیں پہنچتے، ہو سکتا ہے کہ تول میں کمی بیشی کا جھگڑا بھی سامنے آجائے۔