خطبہ حج اور عیدالاضحی کے تقاضے

مسلمان حکمران اپنی رعایا کاخیال رکھیں اوران کی ہرطرح کی ضروریات پوری کریں تاکہ ان کی رعایا گمراہی کاراستہ اختیارنہ کرے


Editorial September 24, 2015
وقت آگیا ہے کہ قوم مفتی اعظم کے پیغام اور ان کے خطبہ کی اصل روح اپنے اندر اتاریں، اسلام اور پاکستان کی سچی محبت عام کریں، فوٹو : فائل

سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ نے کہا ہے کہ اسلامی ریاست پر حملہ کرنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ داعش اور حوثیوں کا مقصد اسلام دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے ، وہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کررہے ہیں۔ یہ وہی جماعتیں ہیں جو اسلام کے چہرے کو مسخ کر رہی ہیں۔ اس فتنے کے خلاف مسلمان جہاد کررہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسجدوں کو بھی نہیں چھوڑا اور وہاں پر بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔

عالم اسلام کو درپیش مختلف النوع مسائل اور چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے مفتی اعظم نے مسلمانان عالم کو جو چشم کشا اور فکر انگیز نصیحتیں کی ہیں وہ ہر اس شخص کے لیے ایک روشن باب ہے جس میں وہ عالمی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بہترین ادراک کرسکتا ہے اور اسے اپنے دین کے تحفظ و بقا کے لیے وہی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے جس کی اسلام اجازت دیتا ہے، مگر عالم اسلام کو چاروں طرف سے طاغوتی وظالم قوتیں داخلی اور خارجی سطح پر محاصرہ میں لینے کی سر توڑ کوششیں کررہی ہیں۔

ان میں سامراجی اور استعماری قوتوں کے ساتھ ساتھ اپنے بد قسمت و بدطینت نظریاتی حواریوں نے مسلم دنیا میں فتنہ و فساد کے کئی محاذ کھول رکھے ہیں جن کی مفتی اعظم نے صحیح نشاندہی کی ہے، انھوں نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی فتنہ انگیزیوں ، ظلم و جبر اور خواتین و بچوں پر جو مظالم ڈھائے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

لاکھوں شامی،فلسطینی،عراقی،افریقی،اردنی ، لیبیائی خاندان یورپی ممالک میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ سیکڑوں سمندر برد ہوچکے،عالم اسلام پر اس سے زیادہ برا وقت کبھی نہیں آیا ۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اسلام امن کا علمبردار ہے اور اس کی تعلیمات کا سرچشمہ توحید ، انسان دوستی، رحم دلی ، خیر سگالی اور انسانییت کی بھلائی ہے، یہ المیہ ہے کہ مغرب نے بعض گمراہ انتہا پسندوں ،طالبانیت کے پرچارکوں اور مذہب و عقیدہ کے نام پر تشدد و ہلاکت کا بازار گرم کرنے والے دہشت گردوں کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا ہے کہ عہد حاضر میں دہشت گردی مسلم دنیا کا ورثہ ہے۔

جب کہ اسلاموفوبیا اور یوریبیا جیسی لایعنی اور بیہودہ اصطلاعات وضع کرتے ہوئے دہشت گردی کے سارے الزامات وہ عالم اسلام پر تھوپ دیتا ہے، اس وقت اہل ایمان دنیا بھر میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں انھیں سامراجی قوتوںکی سیاسی مذہبی ، اقتصادی اور جغرافیائی یلغار روکنے کے لیے اتحاد و اشتراک عمل کی ضرورت ہے۔خدارا مسلمان ایک ہوں۔القاعدہ، داعش ،الشباب،طالبان، بوکوحرام اور اسی قسم کے نام سے قائم دیگر جماعتیں اور مسلح تنظیموں کی دردناک اور غیر انسانی کارروائیوں کی تکذیب وقت کا تقاضہ ہے ۔

وہ واقعی اسلام کا چہرہ مسخ کررہی ہیں اور خود ساختی نظریات و سیاسی مفادات کی گھناؤنی یورشوں کے باعث اسلام کے لیے سخت خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کی تلقین پر توجہ دی جائے جس میں انھوں نے کہا کہ ان پر تشدد جماعتوں کے خیالات اور افکار تباہ کن ہیں، نوجوان کسی بھی تخریب کا حصہ نہ بنیں، ہر طرح کے فساد اور برے عقیدے سے خود کو محفوظ رکھیں، اسلام میں ظلم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ حکمران ہو یا رعایا سب کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے، ہمیں ہر طرح کی بدعات اور شرک کی نفی کرکے صرف اور صرف اللہ کی عبادت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

مسلمان حکمران اپنی رعایا کا خیال رکھیں اور ان کی ہر طرح کی ضروریات پوری کریں تاکہ ان کی رعایا گمراہی کا راستہ اختیار نہ کرے جو قومیں بھی ظلم کرتی ہیں اللہ انھیں زیادہ مہلت نہیں دیتا اور وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں، انھوں نے اسلامی ریاستوں میں دہشتگردی اور فتنہ پھیلانے والے گروہوں کے خلاف مسلمانوں کو متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے،گمراہ لوگوں نے دہشتگردی کی اور مسجد کو بھی نہ چھوڑا۔ جذبات سے زیادہ غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن متحد اور منظم ہورہے ہیں، مسجد اقصیٰ پکار رہی ہے اور اس بات کا شکوہ کررہی ہے کہ ہماری کاوشیں اسے آزاد کرانے میں کمزور پڑ گئی ہیں۔ یہود و نصاریٰ مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے میں کوشاں ہیں۔ مسلمان صبر کا راستہ اختیار کریں، دنیا عمل کی جگہ ہے، آخرت میں جزا اور سزا کا حساب ہوگا۔ انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ اپنی ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے گمراہ کن افکار کے بجائے لوگوں تک سچی اور صحیح بات پہنچائیں، آپ پر بھی دین کی دعوت دینا لازم ہے۔ اس زمانے میں فتنہ پھیل چکا ہے۔عالم اسلام جدید علوم کے نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

خطبہ حج کی روشنی میں جب مسلمانان عالم جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی برق رفتار انقلابی پیش قدمی کو دیکھتے ہیں تو انھیں اپنے شاندار ماضی کی یاد تڑپاتی ہے، اور ایک تاریخی نرگسیت انھیں دبوچ لیتی ہے،مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔عالم اسلام کے لیے عید الاضحی کا پیغام خود شناسی، خود احتسابی اور بیداری کا پیغام ہے، ہم اپنے مادر وطن کا حال زار دیکھیں ،کتنے داخلی فتنوں اور بحرانون کے اژدہے ہمیں جکڑے ہوئے ہیں، مروت ، اخوت کا جنازہ اٹھ چکا، دہشت گردی، غربت و جرائم، کرپشن، اخلاقی بے راہ روی، نمود و نمائش ، سیاسی عدم رواداری اور تفرقوں نے قوم کو اتحاد اور جذبہ ملی سے کوسوں دور کردیا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ قوم مفتی اعظم کے پیغام اور ان کے خطبہ کی اصل روح اپنے اندر اتاریں، اسلام اور پاکستان کی سچی محبت عام کریں، پاکستان کے ہر شہری کو امن، بقائے باہمی ، آسودگی اور آشتی کی نوید دیں۔ نفرتیں ختم کریں، تشدد کی ہر شکل کو دفن کردیں ۔ عید قرباں کو سنت ابراہیمی لازوال یادگار بنانے کا یہی صحیح طریقہ ہے کہ قوم دہشت گردی ، بدامنی، فرقہ واریت اور فتنہ پردازوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں۔ بحرانوں کا رخ موڑیں۔ پاکستان کو رشک جنت بنائیں۔