عیدالاضحی اور سرکاری عمال

پاکستان میں قومی اور مذہبی تہواروں کی آمد سے پہلے عوام کے ساتھ سرکاری عمال کی زیادتیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔


Editorial September 24, 2015
جو حکومتیں اپنے عمال کا احتساب نہیں کرتیں یا احتساب کرنے کی قوت نہیں رکھتیں ،انھیں ناکام حکومت سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ فوٹو : اے پی پی

WARSAW: پاکستان میں قومی اور مذہبی تہواروں کی آمد سے پہلے عوام کے ساتھ سرکاری عمال کی زیادتیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ہر محکمہ جس کا عوام سے تعلق ہوتا ہے وہ کسی نہ کسی بہانے سے عام آدمی کو تنگ کرتا ہے۔

عیدالاضحی کی آمد سے پہلے قربانی کے جانوروں کے بیوپاریوں کے ساتھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے جو رویہ اختیار کیا،اخبارات کی خبریں اس کی گواہ ہیں۔ پنجاب کے شہر گجرات میں تو پولیس گردی کی انتہا ہو گئی۔

اخباری خبر کے مطابق مقامی تھانے کے پولیس اہلکار بکرے خریدنے آئے۔ انھوں نے بیوپاری کو کہا کہ وہ انھیں سستے بکرے دے کیونکہ افسران کو دینے ہیں۔ بیوپاری نے انکار کیا تو پولیس اہلکار بیوپاری کے بکروں کا ریوڑ قریبی ریلوے لائن پر لے گئے، خبر کے مطابق بکرے جونہی ریلوے لائن پر پہنچے تو اسی اثناء میں عوام ایکسپریس ٹرین آ گئی جس کی زد میں آ کر 50 کے قریب بکرے ہلاک ہو گئے جب کہ 30زخمی ہو گئے جنھیں ذبح کر لیا گیا ۔

واقعہ کے خلاف بیوپاریوں نے مردہ بکرے ریلوے لائن پر شدید احتجاج کیا۔اس واقعہ کا وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیا ہے، متعلقہ چوکی کے انچارج سمیت پانچ اہلکار معطل کر دیے گئے۔ اس ساری صورت حال کا سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسی اور یکطرفہ قوانین کی وجہ سے سرکاری اہلکار جوابدہی اور احتساب کے خوف سے آزاد ہوتے ہیں۔انھیں پتہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ معطلی کی سزا ہو گی، پھر متعلقہ محکمے کے افسران ہی انکوائری کریں گے اور انھیں دوبارہ عہدوں پر بحال کر دیا جائے گا۔متاثرہ فریق چونکہ کمزور ہوتا ہے،وہ سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی سے گھبراتا ہے ،یوں معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔

ایسے سرکاری افسریا اہلکار جو قربانی جیسے مذہبی فریضے کو بھی اختیارات کی دھونس دھاندلی کے ذریعے ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،شاید انھیں اس چیز کا ادراک نہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنے لیے جنت نہیں جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بات ارباب اختیار کے بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ حکومت کا مطلب عوام کو سہولت پہنچانا ہوتا ہے، انھیں مصیبت اور زحمت میں مبتلا کرنا نہیں،جو حکومتیں اپنے عمال کا احتساب نہیں کرتیں یا احتساب کرنے کی قوت نہیں رکھتیں ،انھیں ناکام حکومت سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔