منطقی اعتراض کا ازالہ ضروری ہے

آج ہماری جمہوریت چندے آفتاب چندے مہتاب ہوتی اور ملک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ۔


Zaheer Akhter Bedari September 25, 2015
[email protected]

پاکستان کی 58 سالہ تاریخ لوٹ مار اور بدعنوانی کی تاریخ رہی ہے اور بدقسمتی سے اس تاریخ کے کردار عموماً سیاستدان رہے ہیں، ہمارے سیاستدانوں کو اعتراض ہے کہ جمہوریت کو بار بار ڈی ریل کرکے پاکستان کے جمہوری نظام اور ملکی ترقی کو بے حد نقصان پہنچایا، اگر جمہوری نظام کو بار بار پٹڑی سے نہ اتارا جاتا تو آج ہماری جمہوریت چندے آفتاب چندے مہتاب ہوتی اور ملک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ۔

بہ ظاہر سیاستدانوں کا یہ شکوہ بجا نظر آتا ہے لیکن اس شکوے کا جواب شکوہ پیش کرنے والوں کا موقف یہ ہے کہ اگر جمہوریت میں بار بار ندامت نہ ہوتی اور اہل سیاست اپنے کام میں مکمل آزاد ہوتے تو اب تک کرپشن کا حال یہ ہوتا کہ بلاتفریق صاحب اقتدار اور اپوزیشن سارے سیاستدان بل گیٹس ہوتے اور امکان یہ ہوتا کہ تمام قومی ادارے اپنی نجکاری کی پچاسویں سالگرہ منا چکے ہوتے غریب اور غربت کا نام و نشان مٹ چکا ہوتا۔

کسی بھی جمہوری ملک میں فوج کی مداخلت قطعی ناقابل برداشت ہوتی ہے لیکن یہ ملک حقیقی جمہوری ہوتے ہیں جہاں اقتدار کے مالک عوام ہوتے ہیں جن ملکوں میں اقتدار کے مالک حقیقی معنوں میں عوام ہوتے ہیں ان ملکوں میں بہادر سے بہادر طاقتورسے طاقتور فوج کو بھی جمہوری نظام میں مداخلت کی ہمت نہیں ہوتی، ہمارا پڑوسی ملک بھارت آبادی کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اگرچہ وہاں بھی جمہوریت کچی پکی ہے لیکن ایک تو سیاستدان جمہوریت کی حفاظت میں متحد ہیں دوسرے عوام کسی فوجی حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

وہاں کا اہل علم، اہل دانش جمہوری کمزوریوں سے واقف تو ہے لیکن اسے یقین ہے کہ جمہوری نظام میں موجود خرابیاں وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گی۔ اس یقین کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ اس ملک میں 68 سال سے تسلسل کے ساتھ انتخابات ہورہے ہیں جس کی چھلنی میں کوڑا کرکٹ چھنتا جائے گا دوسرے یہاں کے قومی ادارے اپنے دائرہ کار میں سرگرم عمل ہیں اور عدلیہ مصلحتوں سے بالاتر ہے۔

اس کے برخلاف ہمارے پاس صورت حال یہ ہے کہ ہمارا پورا انتخابی نظام دھاندلیوں اور بدعنوانیوں سے پُر ہے اور تمام قومی ادارے سیاستدانوں کی دکانیں بنی ہوئی ہیں اور سب سے بڑا ستم یا المیہ یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن فوجی مداخلت پر مٹھائیاں بانٹتی ہے ہمارے سیاستدان کھلم کھلا ''جمہوری نظام'' میں فوج کو مداخلت کی دعوت دیتے ہیں۔

اسی حوالے سے ہماری حالیہ سیاست میں امپائر کی انگلی کا بہت چرچا رہا ہے۔ اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ ہماری سیاست اصولی اخلاقی قدروں پر نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے محور پرگھومتی ہے۔ ایک سیاستدان صبح ایک پارٹی میں ہوتا ہے تو شام میں وہ معہ انڈے بچوں کے دوسری پارٹی میں نظر آتا ہے۔

پاکستان کی پوری تاریخ میں اس کرپٹ کلچر کو بدلنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے نام سے جو آپریشن کیا جا رہا ہے اس ملک کے 20 کروڑ عوام اس آپریشن کی حمایت کر رہے ہیں۔ اہل علم اہل دانش بھی اس بھل صفائی کے حق میں ہیں اس درست سمت میں جاتے ہوئے آپریشن پر اس کے مخالفین کو یہ اعتراض ہے کہ ''ہم کرپشن کے خلاف آپریشن کے خلاف نہیں لیکن اس آپریشن کو غیر جانبدارانہ اور بلاامتیاز ہونا چاہیے'' اگر یہ آپریشن ٹارگٹڈ ہوا تو اس کی افادیت ہی ختم نہیں ہوگی بلکہ ان مخالفین کو بھی اعتراض کا موقع مل جائے گا جو گلے گلے تک کرپشن کے کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہیں۔

عوام اور خواص دونوں ہی اس ملک سے کرپشن کے کلچر کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن مخالفین کی طرف سے جو اعتراض اٹھائے جا رہے ہیں وہ اس قدر جینوئن ہیں کہ کوئی انھیں غلط نہیں کہہ سکتا۔ سندھ میں آپریشن کی مرکزیت کی وجہ معترضین بجا طور پر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سندھ کے علاوہ باقی صوبوں میں کرپٹ مافیا موجود نہیں؟ کیا دوسرے صوبوں میں فرشتے رہتے ہیں جن سے کوئی ''گناہ'' سرزد نہیں ہوتا؟

سندھ کے حکمران طبقے میں کرپٹ مافیا کی موجودگی کو نہ نظر انداز کیا جاسکتا ہے نہ انکار کیا جاسکتا ہے لیکن رونا یہ ہے کہ چند سیاستدانوں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تو ان کے سرپرستوں نے واویلا شروع کردیا کہ سندھ کے خلاف تعصب اور جانبداری کا سلوک کیا جا رہا ہے۔

ہمارے عوام ابھی تک قومی سیاست کے خوگر نہیں ہوسکے اور مسائل کو ابھی تک لسانی اور قومیتی عینک لگا کر دیکھتے ہیں، ایسے میں جانبداری کا کوئی مضبوط پہلو سامنے آجائے تو عوام کا لسانی لہروں میں بہہ جانا غیر متوقع نہیں ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار ممکن نہیں کہ جو پارٹیاں برسر اقتدار ہوتی ہیں انھیں اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بڑی برسر اقتدار پارٹیوں کی کرپشن دبی رہتی ہے لیکن ہمارا میڈیا اب باخبر ہی نہیں اس قدر طاقتور بھی ہے کہ وہ بغیر کسی لگی لپٹی اور تحفظات کے بغیر سچ کو بلا دھڑک منظر عام پر لا رہا ہے، میڈیا کی باتحقیق رپورٹس کو جھٹلانا اب کسی کے اختیار میں نہیں۔

یہ پہلا موقعہ ہے کہ میڈیا اور عوام کرپشن اور کرمنلز کے خلاف ایک پیج پر کھڑے ہیں لیکن کرپشن کے خلاف آپریشن کی زد میں آنے والے جب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ''کیا کرپشن صرف سندھ ہی میں ہو رہی ہے باقی صوبوں میں کیا فرشتے ہیں؟'' تو آپریشن کے حامی خواص اور عوام کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں رہتا۔

اس میں ذرہ برابر کوئی شک نہیں کہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام اسی گندے کرپٹ اور استحصالی نظام سے ہر صورت میں نجات چاہتے ہیں اور کرپشن اور اس سے ملحقہ برائیوں کے خلاف آپریشن کرنے والوں کے پیچھے آہنی دیوار بنے کھڑے ہیں لیکن کرپٹ عناصر اور ان کے محافظوں کی طرف سے جو منطقی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ہوسکتا ہے کرپشن کے خلاف آپریشن کرنے والوں کے یہ خدشات ہوں کہ پورے ملک میں اگر ایک ساتھ آپریشن کیا جائے تو اس کا ردعمل نہ ہو۔ یہ ایک فرضی خوف ہے کیونکہ عوام کرپشن اور ناقابل یقین بدعنوانیوں کے خلاف آہنی دیوار بنے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں